0
0
0
آج یعنی31 جولائی کو غازیٔ ملت سردارمحمدابراہیم خان صاحب کی 71ویں برسی ہے۔سردار صاحب آزاد کشمیر کے بانی اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے قافلہ سالار تھے۔

آپ آزادکشمیر کے پہلے بانی صدرتھے اورمجموعی طوپرچار دفعہ صدارت کے عہدے پر براجمان ہوئے۔ آپ 31 جولائی 2003ء کو 88سال کی عمرمیں اہلِ کشمیر کو داغِ مفارقت دے کر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ آپ نے ایک نقطۂ نظر، ایک دستورِ حیات، ایک اصولِ زندگی اور ایک نصب العین کی خاطر اپنی زندگی کھپادی ۔آپ کا مقصد ِ حیات اور دستورِ زیست کیا تھا؟ مسلمانانِ کشمیر کو ہندو بنیے کی غلامی سے آزادی دلا کرانکی امنگوں کے مطابق کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا۔الحاقِ پاکستان آپ کا یقین ِ محکم تھا جس میں کسی طرح کا کوئی احتمال کبھی نہیں رہا.

آپ31جولائی 2003ءہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہوگئے تھے۔ آپ کی ہر سال کشمیری قوم برسی مناتی ہے اور آپ کی خدمات کے حوالے سے خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ تحریک آزادی کشمیر میں آپ کی خدمات تاریخی ہیں اور تاریخ کشمیر کا سنہری حصہ ہے، آپ کی خدمات اور حالات زندگی کا جب جائزہ لیتے ہیں تو آپ کی شخصیت میں منفرد خصوصیات نظر آتی ہیں۔ غیر معمولی صلاحیتوں سے اللہ نے نواز رکھا تھا۔ آپ 22اپریل1915ءگاؤں ہورنہ میرہ تھے ناکوٹ راولا کوٹ میں پیدا ہوئے والد سردار محمد عالم خان علاقے کے نامور شخص تھے۔ آپ کی پانچ بہنیں اور تین بھائی تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مڈل تک راولا کوٹ میٹرک وکٹوریہ جوبلی ہائی سکول پونچھ اور گریجوایشن اسلامیہ کالج لاہور سے کی۔ حصول تعلیم کے دوران ہر کلاس اور ہر تعلیمی ادارے میں قابلیت کی بنیاد پر آپ کو وطیفہ ملتا رہا۔1937ءمیں اسلامیہ کالج لاہور گریجوایشن سطح پر قابلیت کی بنیاد پر کام ماہانہ 25روپے وظیفہ دیتا تھا اسی طرح پونچھ کے ہائی سکول میں بھی وظیفہ ملتا تھا۔ لاہور مرحوم محمد حبیب خان جنرل رحیم خان کے بھائی کلاس فیلو تھے۔1938ءاعلیٰ تعلیم کیلئے آپ برطانیہ روانہ ہوگئے۔ ایل ایل بی کا امتحان لندن یونیورسٹی اور باریٹ لاءکی ڈگری اعلیٰ نمبروں کے ساتھ لنکن اِن سے حاصل کی۔1942ءواپس وطن آئے قابلیت کی بنیاد پر ڈوگرہ حکومت نے آپ کو پہلے پراسیکوٹر میر پور میں پھر ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل تعینات کیا۔ اسی دوران آپ کی شادی راولا کوٹ کی ایک مشہور مذہبی شخصیت حاجی محمد قاسم خان کی بیٹی سے ہوئی۔ چودھری غلام عباس اور دیگر ہمدرد رفقاءکے مشورے پر آپ نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیدیا۔ تحریک آزادی کشمیر میں سرگرم ہوئے اور 1946ءمیں میدان سیاست میں آ گئے۔ بابائے پونچھ نے اپنی جگہ کشمیر اسمبلی کی نشست پونچھ باغ وسدھنوتی سے بھاری اکثریت سے فروری 1947ءمیں ممبر اسمبلی منتخب کرا لیا۔ اس وقت آپ کی عمر31سال تھی.

آپ کو کلام اقبال سے بڑی دلچسپی تھی۔ عاشق رسول تھے، وفات سے 15سال پہلے اپنی قبر بنوائی تھی اور روزانہ اپنی قبر جا کر دیکھتے تھے۔ آپ نے مسلم کانفرنس، نظام اسلام پارٹی، آزاد مسلم کانفرنس، پاکستان پیپلزپارٹی اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی سے وابستہ رہ کر سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ آپ نے زندگی میں تین مشہور کتب تحریر فرمائیں ان میں متاع زندگی، کشمیر کی جنگ آزادی، اور کشمیر ساگا شامل ہیں، آپ وطن عزیز میں پارلیمانی جمہوری نظام کی کامیابی میں سرگرم عمل رہے، فوجی آمریت کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ میں1977ءمیں ڈگری کالج باغ بی اے کا طالب علم تھا، اس دور سے وفات تک غازی ملت کے ساتھ تعلق اور رابطہ رہا، مرحوم سردار صاحب کے ساتھ ملاقاتوں کے یادگار لمحات ناقابل فراموش ہیں۔
آپ صرف گفتار کے غازی نہ تھے بلکہ لذتِ کردار سے آشنا تھے۔ چنانچہ آپ نے برصغیر کے مستقبل کے نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے جون 1947ء میں ڈوگرہ راج کے خلاف بھرپور تحریک کاآغاز کیا ۔ اس وقت کشمیری قیادت کی اکثریت پابندِ سلاسل تھی۔ آزادی کا نام لینے والوں کے ہونٹ سی دیے جاتے، بولنے والوں کی زبانیں کھینچ لی جاتیں اور لکھنے والوں کے ہاتھ قلم کر دیے جاتے ۔ سیاسی قیدیوں سے بدترین سلوک روا رکھاجاتا۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میںجب مسلمانوں کو اجتماع کے لیے کوئی جگہ میسر نہ تھی تو سری نگر میں سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ پرمسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور ہوئی جو تاریخ کا ایک سنہراباب ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس