0
2
0
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے ملک کے وزیرِ خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے سینئیر رہنما خواجہ آصف کو اقامہ رکھنے کے معاملے پر آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے۔

خواجہ آصف مسلم لیگ ن کے سینیئر رکن اور پاکستان کی موجودہ کابینہ میں وزیرِ خارجہ کے عہدے پر فائز تھے

خواجہ آصف مسلم لیگ ن کے سینیئر رکن اور پاکستان کی موجودہ کابینہ میں وزیرِ خارجہ کے عہدے پر فائز تھے (AFP)

(بی بی سی) نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے یہ متفقہ فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکن عثمان ڈار کی درخواست پر دیا۔ عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا اور 10 اپریل کو سماعت کی تکمیل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کرتے ہوئے اس شق کے تحت ہونے والی نااہلی کو تاحیات قرار دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ کے یہ دعوے ثابت ہوئے ہیں کہ خواجہ آصف اس وقت ایک غیرملکی کمپنی میں کل وقتی ملازم تھے جب ان کے پاس پاکستان کی کابینہ میں اہم عہدے تھے چنانچہ اس سے ’مفادات کا ٹکراؤ‘ واضح ہے اور صرف اسی بنا پر ہی انھیں نااہل کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے ان اقدامات سے خواجہ آصف نے اس حلف سے روگردانی کی جو انھوں نے بطور رکنِ اسمبلی اور وزیر اٹھایا تھا۔

تاہم ہائی کورٹ کے فیصلے کے آخر میں یہ بھی کہا گیا ہے ’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کسی بھی عدالت کے لیے خوشی کا موقع نہیں ہوتا جب کوئی منتخب نمائندہ نااہل ہو۔ جب سیاسی قوتیں سیاسی سطح پر مسئلہ حل کرنے کی بجائے عدالت کا رخ کرتی ہیں اس کے اثرات اداروں پر بھی ہوتے ہیں اور عوام پر بھی۔‘

عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا

عثمان ڈار کو 2013 کے انتخابات میں خواجہ آصف کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا (TEAMUDPTI)

فیصلے میں جج صاحبان نے کہا ہے کہ ’ہم نے بھاری دل کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے نہ صرف اس لیے کہ ایک منجھا

ہوا سیاستدان نااہل ہوا ہے بلکہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ ووٹروں کی امیدوں اور خوابوں کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں پاکستان الیکشن کمیشن کو خواجہ آصف کی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

وزیرِ خارجہ کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ خواجہ آصف نے متحدہ عرب امارات میں اپنے اقامے کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کی تھیں جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے نامزدگی کے کاغذات میں اس اقامے کا ذکر کیا ہے۔

عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا تھا کہ گذشتہ سال نواز شریف کو اقامہ رکھنے کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا تھا تو خواجہ آصف کو بھی انھی وجوہات پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فریقین کو اضافی دستاویزات جمع کرانے کی اجازت دی تھی اور 16 اپریل کو خواجہ آصف نے ابوظہبی کی اس کمپنی کی دستاویزات جمع کروائیں جہاں سے ان کا اقامہ جاری کیا گیا تھا۔

خواجہ آصف کی جانے سے جمع کرائے گئے دستاویز میں کمپنی کی جانب سے خط میں ان کی ملازمت کی تصدیق کی گئی تھی تاہم کہا گیا تھا ان کی نوکری میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اس کے لیے خواجہ آصف کو متحدہ عرب امارات میں رہنا پڑے اور کمپنی فون پر ہی ان سے مشورے لی سکتی ہے۔

خواجہ آصف نے اپنی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے

خواجہ آصف نے اپنی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے (AAMIR QURESHI)

نااہلی کو چیلنج کرنے کا اعلان

خواجہ آصف نے اپنی تاحیات نااہلی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے انھوں نے قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز شریف نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مخالفین الیکشن کے میدان میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے 'فکسڈ میچ' میں ان کے جماعت کے رہنماؤں کو نااہل کروا رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی عوام ان کے فیصلوں کے برعکس کے ان کی جماعت کو ہی کامیاب کروائے گی۔

پنجاب کے وزیرِ قانون اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے ایک نجی چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی جانب سے نااہلی کے ان فیصلوں سے ان کی جماعت سیاسی طور پر عوام میں اور زیادہ مقبول ہوتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف، جہانگیر ترین یا دیگر رہنماؤں کی نااہلی اور نواز شریف کی نااہلی میں فرق ہے کیونکہ نواز شریف کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کو بہت وسیع انداز میں استعمال کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ملک میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے جتھے بازی کی جا رہی ہے۔‘

آئندہ انتخابات کے سلسلے میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اب امیدواروں کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی انتہائی باریک بینی اور احتیاط کے ساتھ بھرنے ہوں گے۔

تیسری بڑی نااہلی

خیال رہے کہ خواجہ آصف حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے وہ تیسرے اہم رہنما ہیں جو عدالت سے نااہل ہوئے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کی سپریم کورٹ پاکستان مسلم لیگ نواز کے سابق سربراہ نواز شریف کو تاحیات نااہل کر چکی ہے جبکہ توہین عدالت کے معاملے پر نہال ہاشمی کو پانچ برس کی نااہلی کی سزا دی گئی ہے۔

خواجہ آصف سنہ 2013 کے انتخابات میں سیالکوٹ کے حلقہ این اے 110 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ نواز شریف کی کابینہ میں انھیں دفاع اور پانی و بجلی کی وزارتوں کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

گذشتہ سال نواز شریف کی پاناما کیس میں نااہلی کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی تو خواجہ آصف کو ملک کا نیا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا اور وہ نو ماہ تک اس عہدے پر فائز رہے۔



آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس