0
3
0
تحریر: ابو فروا

یہ وسط جون کی ایک انتہائی گرم دوپہر تھی سورج اپنے پورے شباب پر تھا اور ایسی آگ برسا رہا تھا کہ جس کی تپش سے درختوں کے پتے بھی سہمے ہوئے تھے۔میری گاڑی مال روڈ کے ایک سگنل پر روکی تو میں نے محسوس کیا کہ دائیں شیشے پر کوئی زور زور سے ہاتھ مار رہا ہے میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک مفلوق الحال شخص تھا۔ اس کی عمر 45-40 سال کے لگ بھگ رہی ہوگی، انتہائی میلے کپڑوں میں ملبوس تھا، اس کے چہرے پر غربت کے ساتھ ساتھ نفرت کے تاثرات بھی بہت نمایاں تھے۔

میں نے بٹن دباکر جیسے ہی شیشہ نیچے کیا تو گرم ہوا اور اس کے پسینے کی بو نےمیری گاڑی میں موجود گلاب کی مہک اور ٹھنڈک کے ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا۔
ﷲ کے نام پر دے دے بابا۔۔۔
اس شخص کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کے منہ کا بھبھکا بھی میرے نتھنوں سے ٹکرایا۔

میں نے جلدی سے پچاس کا نوٹ نکال کر اس کے میلے ہاتھ میں تھمایا تا کہ گاڑی کا شیشہ بند کر سکوں پرشیشہ بند کرتے کرتے اس کی حقارت بھری آواز میری سماعت تک آئی؛  ھنہ!! اتنی بڑی گاڑی اور پچاس روپے؟
سگنل کھلتے ھی میں نے ایکسیلیٹر پراپنے پاؤں کا دباؤ بڑھایا، گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گئی۔ میں گاڑی کی سپیڈ جتنی بڑھاتا اتنی ہی تیزی سے اس کی حقارت بھری نگاہیں میرے پیچھے آتیں۔ میں مسلسل اس شخص کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
وہ شخص ناشکرا تھا اسی لئے اس حال میں تھا۔ یہ تو کوئی خاص بات نہیں اس کا فیصلہ تو قرآن نےکردیا ہے کہ تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اگر ناشکری کرو گے تو وہ بھی چھین لوں گا جوتمہارے پاس ہے۔
یہ بات تو سب جانتے ہیں لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس پر عمل کوئی نہیں کرتا۔
مگر اس وقت میں یہ سب نہیں سوچ رہا تھا۔ اس وقت میری مرکزِ نگاہ اس کی حقارت بھریں آنکھیں تھیں۔ اس کی آنکھوں میں اتنی نفرت کیوں تھی میرے لیے، ابھی تو اس کو میں نے پیسے بھی نہیں دیئے تھے۔

جتنی تیزی سے میری سوک نہر پر بھاگی جا رہی تھی اس سے زیادہ تیزی سے میرے خیالات میری گزشتہ زندگی کا طواف کر رہے تھے۔
ہاں! مجھے کچھ کچھ یاد آنے لگا مجھے یاد آنے لگا کہ جب میں لارنس پور کا سوٹ پہن کر اور پوائزن کا پرفیوم لگا کر کسی محفل میں جاتا تھا تو بھیک کا کشکول میرے گلے میں موجود ہوتا تھا اور میں خاموش صدا لگا رہا ہوتا تھا: دیکھو میں نے اتنا قیمتی لباس پہن رکھا ہے میں تم سب سے زیادہ امیر ہوں،  ﷲ کے نام پر بابا، مجھے تھوڑی سی عزت دے دو۔۔۔
لیکن آج مجھے یاد آ رہا ہے کہ اس وقت ان لوگوں کی نگاہوں میں بھی میرے لیے ایسی ہی نفرت ہوتی تھی۔ جب میں ہزار روپے کا بل چکتا کرنے کے لئے اسٹورکیپر کے سامنے بڑی رعونت کے ساتھ اپنا کریڈٹ کارڈ نکال اس کے چہرے کے سامنے لہراتا تھا اور خاموش صدا لگاتا تھا کہ دیکھو میرے پاس کریڈیٹ کارڈ ہے میں ایک امیر آدمی ہوں۔  ﷲ کے نام پر بابا، مجھےعزت دے دو۔۔۔
تو ہاں، اسکی آنکھوں میں بھی ایسی ہی نفرت نظر آتی تھی مجھے۔

ایک بار میں اوبر کی شاندار گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گھر گیا، جب اپنے محلے کی گلی میں گاڑی سے اتراتو ڈرائیور کو پیسے دینے کے لئے جان بوجھ کر دیر لگا رھا تھا اور لالچی آنکھوں سے دائیں بائیں دیکھ رہا تھا اور وہی صدا لگا رہا تھا؛ اللہ کے نام پر بابا تھوڑی سی عزت دے دو۔۔۔
دیکھو میں کتنی مہنگی کنوینس میں آیا ہوں،دیکھو میں کتنا امیر ہوں۔
اور ایسی بے شمار حرکتوں کے فلیش بیک کی ہائی لائٹس بہت تیزی سے میری نظروں کے سامنے سے گزررہے تھے۔ کہ میں نے کتنے بہروپ بھرے ہیں اپنی جھوٹی عزت کی بھیک مانگنے کے لئے۔

بالکل ایسے ھی جیسے سڑکوں پر ہمیں مختلف بہروپئے بھیک منگے نظر آتے ہیں۔
 وہ۔۔ اور۔۔ ھم۔۔ 
یہ بہروپ اسی لیے بھرتے ہیں نہ کہ بھیک میں زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں ہزاروں ہیں بھروپ کیا کیا دکھاؤں۔

لیکن پھر میرے دل میں خیال آیا کہ نہیں یار  ﷲ تعالیٰ تو قرآن میں فرماتا ہے کہ یہ ساری زینت کی چیزیں میں نے تمہارے لئے ہی اتاری ہیں تم انہیں استعمال کرو۔ پھر اگر میں ﷲ کی دی ہوئی کسی نعمت کو استعمال کرتا ہوں تو یہ غلط تو نہ ہوا نا، پھر لوگ مجھ سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟؟؟

ایک دم میری گاڑی کے ٹائر بہت  زور سے چیخے، ان کے چیخنے کی ہیبت ناک آواز مجھے خیالات کی دنیا سے واپس کھینچ لائی۔
میری گاڑی کے سامنے ایک بائیک والا آگیا تھا جس کو بچانے کی خاطر میں نے بہت زورسے بریک لگائی۔ میں نے اس بائیک والے کو غصے اور حقارت سے دیکھتے ہوئے ایک موٹی سی گالی دی اور اپنے بائیں ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے زور سے کہا کہ ادھر جا کے مر، تم جیسوں کے لئے سڑک کا وہ والا حصہ ہے۔ اور پھر تکبر سے اپنی گردن کو مزید اکڑاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔

یکایک ایک جھماکا سا ہوا اور میرے ذہن کی سلیٹ پر لکھی ہوئی تمام تحریر مٹ گئی اور ایک نئی تحریر خودبخود نمودار ہونا شروع ہوئی۔

یہ جو کچھ میں کرتا رہا ہوں یہ میرے ذوق کی تسکین کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی  ﷲ کی نعمتوں کا اظہار تھا بلکہ یہ سب کچھ دوسرے کو اپنے سے کمتر ثابت کرنےکےطریقے رہے ہیں اور میری اس گندی نیت کی شعائیں جب دوسرے تک پہنچیں گی تو وہ یقیناً مجھ سے نفرت ہی کرے گا۔
انسان کا عمل ایک طرف رہا لیکن اس کی اچھی اور بری نیت کی شعائیں دوسروں تک ضرور پہنچتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ریموٹ کی شعائیں ایل، ای، ڈی پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

میں سوچنے لگا کیا واقعی ایسا ہی ہے؟؟

 تو مجھے لگا کہ ھاں ایسا ہی ہے جب میں چنگ چی میں بیٹھتا ہوں تو میری گردن چھاتی جھک کر رانوں تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن جب میں گاڑی میں بیٹھتا ہوں تو میری گردن اکڑ کر کچھ اور لمبی ہوجاتی ہے اور میں اپنا چہرہ شیشے کی جانب رکھتا ہوں تاکہ آتے جاتے لوگ مجھے دیکھ لیں۔
میں تو پیزا ہٹ جیسے سی کلاس ہوٹل میں بھی افطاری کرکے اپنی تصویریں فیس بک پہ اپلوڈ کرتا ہوں۔ میں تو کسی اچھے سے مال میں جاکر سیلفیز لینا اور انھیں اپلوڈ کرنا بہت پسند کرتا ہوں۔ میں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ شاہی قلعہ جاکر سیلفیز بنائی ہوں۔
میں ریہڑی سے پھل خریدنے والوں کو غریب اور بڑے سٹور سے خریداری کرنے والوں کو امیر سمجھتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہکونسی خوشبو  کی قسم کون سی ہے یا اس کی ستھرائی کیسی ہے۔ میں بس یہ دیکھتا ہوں کہ اس کی پیکنگ کیسی ہے اوراس دکان کانام کیا ہے جس سے میں خریداری کر رہا ہوں۔

ھنہ۔۔ ایک جھٹکے سے میں نے ان خیالات کو نکال کر اپنے دماغ سے باہر پھینکا اور کہا چھوڑ یار، یہ سب کچھ لکھنے لکھانے اور پڑھنے پڑھانے کے لیے ہی اچھا ہے بس۔

آپ یہ دیکھو  کہ میں نے کتنی ذہانت سے اپنی گاڑی کا نام آپ کو بتا دیا تاکہ آپ جان لو کہ میں ایک امیر آدمی ہوں اب تومجھے عزت، ﷲ کے نام پر دے دے بابا۔۔۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس