0
1
0
شاعر:ساجد عمر گِل

سانس روکے زمیں اور خستہ شجر

دلدلیں بن گئیں گُل سے عاری ڈگر

درد سہتی ہوا، اجڑے سہمے چمن

زخمی زخمی سے ہیں کیسے سروثمن

رزمِ بارود و آتش سے ڈرنےلگے

سارے کوچہ و بازار، کوہ و دمن

شعلہ بن کر اُگے توپ، تیر و تفنگ

عقل و ہوش و خرد حیرتی اور دنگ

فتنہ گر بارشیں اور خزاں خون رنگ 

خوف ہے فاختاؤں کے پر نوچتا

سوچنے اور سمجھنے سے ہے روکتا

ہے خس و خاک ایسے میں آدم کی جاں

کٹتے پھٹتے بدن، بلبلاتا جہاں

کون جانے کہاں 

امن جیسا زماں؟

الاماں الاماں حضرتِ آسماں!!

حضرتِ آسماں الاماں الاماں!!

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس