0
1
0
دانیال مصطفی بلوچ

پانچ سال کے بعد لکھنے کا خیال آیا اور وہ بھی یوں کہ سوشل میڈیا پر بزبان خلق جدید ادب کے جدید شاعر تہذیت حافی کو پڑھنے سننے اور پڑھنے کا اتفاق ہوا ،تو بس اندر کی بے چین روح تڑپ اٹھی کہ کچھ نہ کچھ لکھ ہی کیوں نہ لیا جائے ،میرے جیسے حادثاتی لکھاری "یوں تو میں ابھی یہ لفظ استعمال کرنے کا بھی حق نہیں رکھتا"کے لئے سب سے بڑی آزمائش اپنی ذہنی اختراع کو لفظوں کی شکل دینا اور سب سے بڑی بات ایک عنوان سوچنا ہوتا ہے ۔

یوں کہیے کہ میں نے لکھنا ہی کسی اچھے عنوان کی تلاش مین ناکام ہوکر چھوڑ دیا ،اور ہاں اگر یہ کٹھن مرحلہ بھی عبور کرلیں تو اس سے بڑھ کر جو دشواری ہوتی ہے وہ اس عنوان کےسانچے میں لفظوں کو سینچ کر اپنے تخیل کی عمارت تعمیر کرنی ہوتی ہے یہ سب کٹھنائیاں پار کرنے کے بعد بڑی مشکل ایڈیٹر کو قاری کو بھی اپنی تھریر کے ہر موڑ سے ہاتھ پکڑ کر آخری لفظ تک لے جانا ہوتا ہے ،ویسے جتنا میں نے تمہید باندھ دی ہے غالب ہے کہ ایڈیٹر صاھب یہ "میں نامہ"ان سطور تک پہنچنے سے پہلے ہی ردی کی ٹوکری کی نذر کردیں گے ،خیر بات ہورہی تھی لکھنے کی تو میرے نزدیک لکھاری کو عنوان سے لے کر اختتام تک کی تھریر کے دوران ایک کرب سے گزرنا پڑتا ہے ،اپنے تخیل اور خیالات کے چمن میں سے بہترین کونپلوں کو چن چن کر الفاظ کی شکل میں ڈھالنا ہوتا ہے اور میں نے لکھنا چھوڑا بھی اس کرب سے گزرنے کی سکت نہ ہونے پر تھا،،ویسے بھی میں تو فطرتا بزدل پایا گیا ہوں .

یوں کہ جس نے لکھنا ہی اس لالچ پر شروع کیا تھا کہ پہلی تحریر کی اشاعت کا ثمر موبائل فون اور پرفیوم کی صورت میں ملنے کا وعدہ کیا گیا تھا،،اور اس کے بعد یہ لالچ نما رشوت صرف مبلغ بیس روپے سکہ رائج الوقت فی تھریر تک گرگئی چہ جائیکہ رشوت نہ ہوئی پاکستانی کی کرنسی یا پھر ہچکولے کھاتی معشیت ہو،،،معاف کیجئے گا ایک بار پھر میں جنگ عظیم میں بچ جانے والے آخری فوجی کی طرح اپنی کہانی سنانے میں مگن ہوگیا ،،،اور ایک ایسے وقت میں کہ جب قارئین کی تعداد اوزون لئیر کی طرح سکڑتی جارہی ہے یہ آپ بیتی سنانے کاعمل بچے کچھے قارئین کی بیزاری کی صورت بن کر فرد جرم بھی بن سکتا ہے ،،بات کی جائے تو تھریر اور الفاظ اتنے ھساس ہوتے ہیں کہ ان کا ایسے ہی خیال رکھنا پڑتاہے کہ جیسے انگلی پکڑکر بچے کو چلنا سکھایا جاتا ہے ،،اور ہر پل نظر بحی رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں گرگیا تو چوٹ نہ لگ جائے ،کہ جیسے تیز آندھی میں جلنے والا دیا کہ اگر اس دئیے کی اوٹ نہ بنیں تو بجھ جائے،،کہ تپتے صھرا کی تمازت میں کھلنے والی کونپل کہ جس کو سایہ اور پانی نہ ملے تو مرجھا جائے،کہ جیسی کوکتی کوئل کہ جو روٹھے تو پھر نہ بولے ،کہ جیسے ساحل پر بنا ریت کا گھروندا جو ایک لہر کی بھی تاب نہ لا سکے۔کیا خبر کہ میرے میں بھی سکت نہ ہو لکھنے کی اس تھریر کے بعد ،،کیا خبر یہ لکھنا بھی بے سبب جائے ،،ہاں مگر میرا یہ ماننا ہے کہ ایڈیٹر صاحب یا چحپنے کی صورت میں قارئین ان سطور تک پہنچے تو رائیگاں نہیں جائے گا یہ لکھنا 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس