0
1
0
بلاگر: در ثمین

آج مجھے وقت مل ہی گیا۔ بہت دن سے کوشش کر رہی تھی کہ میں مسز ایاز کی عیادت کر آؤں۔ عید پر انکی بہو گوشت دینے آئی تو اس نے بتایا کہ وہ گھر میں ہی پھسل کر گر گئیں اور انھیں کافی چوٹ آئی ہے۔ ٹانگ بھی فریکچر ہوئی ہے۔ 
مسز ایاز سے میری ملاقات ہسپتال میں ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے کالج کی طرف سے ایک نجی ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کا کورس اٹینڈ کیا تھا۔ انہی دنوں ان کا پوتا ہسپتال میں داخل تھا، اسے ٹانسلز کا مسئلہ تھا۔ کورس میں پریکٹیکل تربیت کے دوران ہسپتال کے مختلف وارڈذ میں جانا پڑتا تھا۔ اسی دوران ایک دن میں آئی سی یو کی طرف جبکہ وہ اپنے پوتے کی دوائی لے کر اپنے کمرے کی طرف جا رہیں تھیں کہ اچانک انہیں چکر سا آ گیا۔۔ انہیں لڑکھڑاتا دیکھ کر میں جلدی سے آگے بڑھی اور ان کو سہارا دیا اور ان کے کمرے تک لے گئی۔ بس سلام دعا ہوئی اور باتوں باتوں میں واقفیت نکل آئی۔ 
جب سے امی کی وفات ہوئی تھی ہر پیار سے ملنے والی عورت میں انہی کا چہرہ نظر آنے لگا تھا۔  اسی بدولت مسز ایاز سے انسیت بڑھتی گئی۔ وہ جب بھی ملتیں، بہت ہی محبت سے ملتیں تھیں۔ ان کا ملنا، ان کی باتیں، ان کے بات کرنے کا انداز غرض ہر چیز متاثر کرتی چلی گئی۔ جب ان سے گفتگو میں پتہ چلا کہ ہم ایک ہی سوسائٹی میں رہتے ہیں جبکہ دور کی رشتہ داری بھی ہے۔ پھر کیا تھا وہ دو تین بار گھر بھی آئیں۔ وہ جب بھی ملتیں ہمیشہ اپنے گھر بھی آنے کا اسرار کرتیں۔ میں بھی ہر بار وعدہ کر لیتی مگر گھریلو مصروفیت کے باعث کبھی جا نہیں پاتی تھی۔اب جب سے انکی بیماری کا سنا تو دل بہت بے چین تھا۔ چنانچہ اگلے ہی دن ناشتہ کیا اور گھر کے باقی کام چھوڑ چھاڑ کر ان سے ملنے کے ارادے سے گھر سے نکلی اور ان کے گھر پہنچی۔ انہوں نے حسب عادت بہت اچھے سے خوش آمدید کیا۔ حال احوال کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ویسے تو میں کسی سے بھی بات کرتے بہت محتاط ہوتی ہوں کیونکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ لوگ ویسے نہیں جیسے نظر آتے ہیں مگر مسز ایاز کی بات الگ تھی وہ ماں جیسی تھیں، ان سے ہر مسئلے پر بات ہو جاتی تھی اور وقت کا بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ حال چال کے بعد، ادھر ادھر کی کچھ باتیں ہوئیں تو انھوں نے بتایا کہ بیٹی کے رشتے کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ میں نے حوصلہ دیا اور اللہ پہ توقف کا کہا۔ باتوں باتوں میں ظہر کی اذان کی آواز سنتے ہی میں نے رخصت چاہی۔ اس ملاقات کا دورانیہ 40 منٹ سے زیادہ نہیں تھا۔ مسز ایاز نے دعا دے کر رخصت کیا جبکہ ان کی بہو دروازے تک چھوڑنے بھی آئی، یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ انکی بہو میری دور کی سسرالی رشتہ دار بھی ہے۔ واپسی پر بھی احساس یہی تھا کہ جیسے ماں سے مل کر آئی ہوں۔ 

کچھ دن بعد ہماری ہمسائی میری ساس سے ملنے آئی اور باتوں باتوں میں اس نے اپنے بیٹے کے لیے کسی اچھے رشتے کی بابت پوچھا۔ میرے ذہن میں یکدم مسز آیاز کی بیٹی کا خیال آیا۔ میں نے ان سے کہا کہ خالہ جان اگر کئی اچھا رشتہ ہوا تو میں آپ کوضرور بتاؤں گی۔ انہیں رخصت کر کے میں نے مسز ایاز کی بہو کا نمبر ڈائیل کیا اور رسمی سلام دعا کے بعد مدعا بیان کیا اور یہ بھی بتایا کہ میں نے پہلے اس سے بات کرنا مناسب سمجھا کیونکہ میں نہیں جانتی تھی کہ مسز ایاز کی بیٹی کے لیے کہیں بات تو نہیں چل رہی۔ میری بات کو سن کر اس نے سب سے پہلے میرا شکریہ ادا کیا کہ میں نے ان کے لیے ایسا سوچا پھر ساتھ ہی اس نے مجھے متنبہ کیا کہ اس کے مطابق مجھے اس کام میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ اس کے اس جملے نے ثابت کیا اس کا سسرالی معاملہ ہونے کی وجہ سے میں نے جس احتیاط کا مظاہرہ کیا وہ بلکل درست تھی۔ پھر اس نے مجھے بتایا کہ اس دن جب آپ چلی گئی تھیں تو میری ساس نے آپ کے بارے میں بہت سی باتیں کیں اور کیسے انھوں نے سوسائٹی میں ہونے والی باتوں اور روزمرہ کی صورتحال پر جنرل وے میں ہونے والی باتوں کو سسرال کی برائیاں بنا دیا۔ ہماری باتوں کو جس انداز میں انھوں نے بیان کیا اور جو رنگ انھوں نے اس گفتگو کو دیا میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتی مسز ایاز کی بہو بے کہا باجی میں آپ کو جانتی ہوں اور اپنی ساس کو بھی، میرا مشورہ تو یہی ہے کہ آپ اس بات میں نہ پڑیں، آگے آپ کی مرضی۔۔ میں اسے صرف اتنا ہی کہہ پائی کہ آپ کا شکریہ، رب راکھا۔۔اعتبار کا ٹوٹنا زندگی میں پہلی بار نہیں تھا۔ مگر جو عزت میرے دل میں مسز ایاز کے لیے تھی اور جو قدر و لحاظ مجھے ان کا تھا۔ اس کے بعد ان کا اصل چہرہ اور اس طرح کا رویہ میری سمجھ اور برداشت دونوں سے باہر تھا۔ وہ لمحہ بہت تکلیف دہ تھا مگر اس واقعے کے بعد یہ نتیجہ بھی نکلا کہ اپنے ماں باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور نہ ہی آپ کو ان کی طرح کوئی سمجھ سکتا ہے۔ 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس