0
1
0
بلاگر: رضؔ بٹ

ایک مثال تو بڑے بوڑھے سچ ہی دیتے تھے، اونچی دکان پھیکا پکوان۔۔
اس وقت تو یہ سن کر سمجھ کم اور ہنسی زیادہ آتی تھی کیونکہ لوگوں میں خوف خدا اور اخلاقیات موجود تھے، لوگ ایک دوسرے کا خیال بھی کرتے تھے اور لحاظ بھی۔ مگر اب آ کے تو زندہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں توسمجھ آیا ہے کہ یہ انگریزی کے حرف شوگر کوٹڈ جیسا ہی ہے۔
نہیں یقین آتا جناب تو پریکٹیکل کر لیں۔ چلیں نام سے ہی شروع کر لیں۔
ویسے تو بڑے بڑے ناموں میں سے کئی نام لوگوں کے دلوں تک میں زندہ رہتے ہیں۔ بلاشبہ ایسی نامور شخصیات کسی بھی ملک کا اثاثہ ہیں۔
اپنے وقت کے بڑے بڑے نام بہرحال تاریخ میں زندہ رہتے ہیں کبھی متاثر کن (انسپریشن) شخصیت بن کے تو کبھی نشان عبرت بن کے۔ 
میرے خیال میں دونوں میں فرق صرف بڑے پن کا ہے۔ کوئی بھی بڑا نام بڑے پن سے عاری ہو تو نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔ سیدھے الفاظ میں بولیں تو کہا جا سکتا ہے کہ قدرت نمک حرامی برداشت نہیں کرتی۔

ویسے تو کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا۔۔
جی ہاں! اس دور میں تو لوگ نام کروانے کیلئے بدنام ہونا بھی گوارا کر لیتے ہیں۔ پہلے وقتوں میں کرتوت دیکھی جاتی تھی، آج کل تو نام ہی کافی ہے۔

کہنے کو تو چھوٹے لوگ برا لگتا ہے مگر اس کا اصل مطلب دیکھیں تو لوگ بڑے اور درشن چھوٹے والی بات ہے۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی سے ملیں، باتیں سنیں، سوشل میڈیا پہ سٹیٹس اور کمنٹ سے متاثر ہو جائیں، مگر پھر جب آپ حقیقت میں ان لوگوں کو جانیں تو انکی پرفیکٹ شوگر کوٹنگ پر حیرانگی بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ پھر ایک ہی بات کہی جا سکتی ہے کہ اتنے بڑے نام بڑے پن سے عاری یا یوں کہہ لیں کہ لوگ بڑے اور درشن چھوٹے۔۔
یہاں تو کتنوں کی شخصیت کی سلور لائننگ فقط ان کے باپ، دادا کے نام کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔ جی ہاں! نہ کوئی خاص بات ہے فقط چراغ تلے اندھیرا والی مثال ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس