0
3
0
شاعر: ابو فرواؔ

نگاہ ھے پر سوز طلب دید یار میں
دل محو آہ و فغاں تیرے پیار میں

گردش لیل و نہار جاری ایام عدت میں
وقت لگے تھما ہوا تیرے انتظار میں

کروں ہجر یار کی کیفیت بیان ایسے
پیرو دیا ہو جگر جیسے خار میں

بدعت عشق ھے وصال محبوب کی فراوانی
کمال عشق، ہو صورت یار آنکھ اشکبار میں

طواف کوئے یار تو چھوڑا نہ جائے ھے
ہزار سجدے کر، کیا ملے گا استغفار میں

گفتار کا غازی دھرا رہ گیا ایسے
غرق ہوا حیرت خط رخ یار میں

شیوہ بے رخی ھے اس سراپا ناز کا
روکے دل کو، پر ھےکس کے اختیار میں

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس