0
8
1
تحریر: ابو فروا

ایک زمانہ بیت گیا اس بات کو، یہ آتی گرمیوں کی ایک نسبتاً گرم شام تھی۔ میں آپنے والد کے ساتھ باہر دالان میں بیٹھا تھااور اندر کمرے میں میرے چوتھے بچے کی ولادت ہو رہی تھی۔
 کچھ دیر بعد کمرے کا دروازا کھلا اوراندر سے دائی برآمد ہوئی۔ وہ مسکراتے ہوئے ہمارے قریب پہنچی اور گویا ہوئی: بہت مبارک ہو سیٹھ صاحب، میری مٹھائی دیں۔ میرے والد کو سب سیٹھ صاحب کہتے تھے۔ ان کی امارت اورسر پنچ ہونے کی وجہ سے۔
ابا نے پُرشوق نگاہوں سے دائی نوری کو دیکھا اور پھر پوچھا: کیا ہوا ہے؟
 نوری نے پر جوش انداز میں جواب دیا:سیٹھ صاحب آپ کو اللہ نے جیتی جاگتی پوتی دی ہے، ماشاءﷲ!
ابا نے غیر یقینی نظروں سے نوری کی طرف دیکھا اور پھر استفسار کیا؛ کیا لڑکی ہوئی ہے؟
 نوری نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔
 نوری کا ہلتا ہوا سر دیکھتے ہی اباکے چہرے کا رنگ آڑ گیا۔ اور انہوں نے انتہائی غصے، نفرت اور رعونت سے منہ دوسری طرف پھیرتے ہوئے کہا: پھر مٹھائی کس بات کی مانگ رہی ہے؟
ابا نوری کو جھڑکتے ہوئے چارپائی سےاٹھے۔ اب سیٹھ علی محمد برادری میں کیا منہ دکھاؤں گا، یہ بڑبڑاتے ہوئے غصے سے باہرنکل گئے۔

 اس وقت میں کچی عمر کا نوجوان تھااس لئے ابا کی بات اس وقت مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آئی۔ میں نے سر کو جھٹکا اور تیزی سے اٹھ کر اس کمرے کی طرف لپکا جہاں میری نومولود شہزادی آشنہ علیم اپنے پاپا کی منتظرتھی۔
کمرے میں داخل ہو کر میں نے اپنی بیوی کو مخاطب کیا: مبارک ہو عشرت۔ میری بیوی نے خالی خالی نظروں اور پھیکی مسکراہٹ سے جواب دیا: لڑکی ہوئی ہے راشد۔۔۔
 میں نے شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پرپھیرتے ہوئے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور مسکراتے ہوئے کہا: ﷲ کا شکر ادا کرو جس نے جیتا جاگتا، تندرست اورخوبصورت بچہ عطا فرمایا۔
 یہ سننا تھا کہ اس کی سہمی ہوئی آنکھوں میں خوشی کے آنسو  تیرنے لگے اور اس کے چہرے پر فخر کے رنگ نمایاں ہوتے گئے۔ پھر میں اپنی والدہ کے کمرے کی طرف بڑھا تاکہ انکو بلا کرلاؤں۔  ہم سب اپنی والدہ کو آپا کہا کرتے تھے۔

 جیسے ہی میں آپا کے کمرے کے دروازےکے قریب پہنچا تو اندر سے نوری کی آوازیں آ رہی تھیں۔ آپا فردوس دیکھو نہ سیٹھ صاحب نے تو کچھ بھی نہیں دیا اب آپ ہی  ہماری مددکرو۔ آپا اسے سمجھا رہی تھیں؛ دیکھو نوری تمھیں اندازہ ہوگا کہ اس وقت گھر میں سوگ کا ماحول ہے، تم ابھی جاؤ، پھر آجانا بعد میں، تمہارا معاوضہ مل جائے گا۔
 میں نے والدہ کو آواز دی: آپا! وہ عشرت بلا رہی ہے آپ کو۔
آرہی ہوں۔ بڑا بیٹا جنا ہے نا جو اتنی اوتاولی ہو رہی ہے۔ آپا نے میری طرف دیکھے بنا انتہائی حقارت سے جواب دیا۔

 پارہ 16: سورة النحل، آیت 58
وَاِذَ بُشِّرَ اَحَدُھُم بِالاُنثٰی ظَلَّ وَجھُۂ مُسوَدًّا وَّھُوَ کَظِیمٌ (58)
 ترجمہ: "جب ان میں سے کسی کوبیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ۔ "
 پارہ 16: سورة النحل، آیت 59
 یَتَوَارٰی مِنَ القَومِ مِن سُوۡٓءِمَا بُشِّرَبِہٖ ؕ اَیَمسِکُۂ عَلٰی ھُونٍ اَم یَدُسُّۂ فِی التُّرابِ ؕ اَلَا سَآءَمَا یَحکُمُونَ(59)
ترجمہ: "لوگوں سے چھپتا پھرتاہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئےرہے یا مٹی میں دبا دے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ دیکھو، کیسے بُرے حکم ہیں جو یہ خدا کے بارے میں لگاتےہیں ۔"

 ہزاروں سال پہلے غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، آج غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا ہے۔ آج کے اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بھی آپ کو بے شمار ایسی بیٹیاں نظر آئیں گی جن کے ارمانوں کا خون ان کے باپوں کے ہاتھوں پر دیکھا جا سکتا ہے، یا ان کے بھائیوں کے گریبانوں پر نظر آئے گا، یا ان کے شوہروں کے دامن اس خون سے داغدار دکھائی دیں گے۔
 آج کی بیٹی جب گھر سے باہر نکلتی ہےتو اسے اپنی عزتِ نفس کا لاشہ اپنے ہاتھوں پر اٹھائے پھرنا پڑتا ہے کیونکہ اسے اپنےچاروں اوڑ سرخ سرخ آنکھوں والے بھیڑیے منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ جن کی لالچ بھری آنکھیں اور رال ٹپکا تی لمبی لمبی زبانیں اور لمبی لمبی نوکوں والے ہیبت ناک دانت جو اس کےجسم کے گوشت کو بھنبھوڑنے کے لئےتیار رہتے ہیں۔ ایسے میں اسے اس غیرت کا شائبہ بھی کسی مرد میں نظر نہیں آتا۔ جو مرد کا طرہ امتیاز ہے۔

 محبت کے نازک اور لطیف جذبات اپنےدامن میں سمیٹے یہ حوا کی بیٹی ازل سے اس مقام کو تلاش کر رہی ہے جو اس کے خالق نےاس کے نام کیا۔ لیکن آج بھی اس کا دامن اس مقام، اس مرتبے، اس عزت سے خالی ہے۔
اور آج بھی غیرت کے نام پر بے غیرتی کرتا مرد دندناتا پھرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں آزادی کے نام پر عورت کو ننگا کیاگیا اور ترقی پذیر ممالک میں عورت کے احساس کو ننگا کر کے سرعام نچایا جاتا ہے۔

 آج بھی مردانگی نام ہے عورت کو ذلیل و رسوا کرنےکا۔
مردانگی نام ہے عورت کوغلام بنانےکا۔

 آخر ایسا کیوں ہے؟
اس کی وجہ کیا ہے؟
 تو جہاں سے میں اسے دیکھتا ہوں مجھےاس میں کچھ قصور عورت کا بھی نظر آتا ہے۔ اس لیے کہ وہ مرد جو عورت کی تزلیل کرتا ہے،جو غیرت کے نام پر عورت کو ذبح کرتا ہے، جو عورت کو صرف گوشت کی دکان سمجھتا ہے۔ اس مرد کی پہلی درسگاہ، پہلی تربیت گاہ، عورت کی آغوش ہی ہوتی ہے۔
 اور بدقسمتی سے عورت اپنے ان فرائض منصبی کو ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ جن فرائض کی ادائیگی کےعوض اس کے پاؤں تلےجنت رکھی گئی تھی۔ اور جن خصوصیات کی بدولت نپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔

 مردوں کے اس معاشرے نے جو گھٹن زدہ اور تضحیک آمیز ماحول عورت کے لئے فراہم کیا ہے اس کا لازمی نتیجہ کبھی کبھی اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ عورت بغاوت پر اتر آتی ہے۔
 اور جب عورت بغاوت پر اترتی ہے تووہ نہ صرف رشتوں کے تقدس کو پامال کرتی ہے بلکہ فساد فی الارض کی مرتقب بھی ہوجاتی ہے۔
 تو آج مرد کو اپنا احتساب کرنا ہے۔
اور اگر مرد ایک جنت نظیر معاشرے میں رہنا چاہتا ہے تو اُسے عورت کو اس کے حقوق کی آزادی، عزت، احترام اور وہ مقام دینا چاہیئےجو عورت کا حق ہے۔

 وقت کا پہیہ گھومتے ہوئے آج مجھے میرےابا والے مقام پر لے آیا ہے۔ جب مجھے یہ اطلاع ملی کہ ﷲ نے مجھے ایک خوبصورت نواسی عطا کی ہے۔ میں نے اس خبر پر سجدہ شکر ادا کیا اور دل کھول کر مٹھائی تقسیم کی۔ کیونکہ میری نواسی فاطمہ میری غیرت نہیں ہے بلکہ وہ میرا غرور ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس