0
0
0
شاعر: فیض احمد فیضؔ

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں 
جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں 

ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن 
میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں 

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو 
سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں 

کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ 
وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں 

اور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہو 
دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس