0
11
0
تحریر: ابو فروا

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب

آج پھر ایک بار اپنےماضی کے جھروکے میں جھانکنا اتنا ہی تکلیف دہ ثابت ہوا جتنا ہمیشہ ہوتا ہے۔ جیسے کڑوابادام منہ میں آجائے تو منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے۔ جب جب میں اپنے ماضی میں جاتاہوں تو میرے منہ کا ذائقہ ایسے ہی خراب ہو جاتا ہے میرا ماضی کیا تھا؟ غربت، ذلّت،بھوک اور شرمندگی۔۔۔ بس۔۔

 ہم بڑے قصبے سے ملحقہ چھوٹی سی بستی میں رہتے تھے۔ اس بستی میں رہنے والے تمام افراد ہماری ہی ذات کے تھےیعنی نچلی ذات کے ہندو۔ اُونچی ذات کے ہندوؤں میں سے کوئی بھی شخص ہماری بستی کی طرف نہیں آتا تھا اور نہ ہمیں اجازت تھی کہ ہم اُونچی ذات والوں کے علاقوں میں (سوائے انکا گند اٹھانے کے)جاسکیں۔
ہم اُونچی ذات کے ہندوؤں کے علاقے میں موجود دکانوں سے کچھ خریدنے بھی نہیں جا سکتے تھے کیونکہ ہم اچھوت تھے۔ (ایسا آج بھی ہے اگر آپ میں سے کسی کا اتفاق ہوا ہو عرب ممالک کے بازاروں میں جانے کا تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہاں پر اج بھی کچھ ایسی دکانیں موجود ہیں جہاں صرف عرب لوگ ہی جا سکتے ہیں ہم جیسے اچھوت داخل نہیں ہو سکتے)

 ایک دن شام ہونےکو آئی میں بہت بھوکا تھا لیکن میری ماں ابھی تک میرے لیے کھانا لے کر نہیں آئی تھی۔وہ صبح سویرے ہی نکل جایا کرتی تھی، بچا کچا کھانا اکھٹا کرنے کے لئے جو اونچی ذات کے ہندو اپنے گھروں سے باہر پھنک دیا کرتے تھے۔
کچھ دیر بعد دورسے میں نے اپنی ماں کو آتے ہوئے دیکھا اس کا چہرہ دُھواں دُھواں تھا، بال اجڑے ہوئےتھے، کپڑے پھٹے ہوئے تھے، وہ تھکے تھکے قدموں سے اپنے ہاتھوں میں باسی کھانا مضبوطی سے تھامے چلی آ رہی تھی۔ جب وہ قریب پہنچی تو باپو نے پوچھا: آج اتنی دیر کیسے ہوگئی بھاگ وان؟ میری ماں نے اپنے خشک آنسووں کو اپنے میلے پلو سے زبردستی پونچھتےہوئے روندھی ہوئی آواز میں بس اتنا کہا۔۔۔آج پھر وہ راجپوت لونڈے مجھے کھیتوں میں لے گئے تھے۔ میرے باپو نے اپنامنہ دوسری طرف پھیرلیا۔
لیکن میری سمجھ میں ماں کی بات نہیں آئی ایک بار پہلے بھی ایسا ہواتھا کہ میری جوان پھوپھی کو راجپوت لونڈےکھیتوں میں لے گئے تھے اور وہ بھی روتی پیٹتی گھر آئی تھیں۔ پر اس وقت بھی میری سمجھمیں کچھ نہ آیا تھا۔ میں خاموشی سے ماں کا لایا ہوا کھانا کھانے لگا۔
جب میری ذات کے لوگ برہمنوں کے علاقے میں ان کا گند اٹھانے کے لیے جاتے تو وہ اپنی  پیٹھ کے پیچھے ایک بہت بڑا کھجور کا پتا باندھ کر چلتے تاکہ ان کے قدموں کے گندے  نشان صاف ہوتے جائیں۔

ایک صبح میں سویاہوا تھا کہ ہماری بستی میں شور کی آواز سےمیری آنکھ کھلی۔ میں گھبرا کر باہرنکلا تو لوگ اُونچی اُونچی آواز میں باتیں کر رہے تھے کہ سمندر کنارے بدیسی فوج آگئی ہے۔
میرا باپو حیرت سےپوچھ رہا تھا کہ وہ کیسی فوج ہے؟ وہ کون لوگ ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ سب نے جواب دیاکہ ہم نہیں جانتے، چلو آؤ چل کر دیکھتے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔
ہماری بستی کے لوگ جب سمندر کنارے پہنچے تو ان کو پتہ چلا عرب فوج ہے، یہ لوگ مسلمان ہیں۔ ان کے سنا پتی کا نام محمد بن قاسم ہے اور یہ اس لیے آئے ہیں کہ ہم جیسے کمزور لوگوں کی مدد کریںگے اور ہمیں انسانوں کی غلامی سے آزادی دلوائیں گے۔ پھر یوں ہوا کیا واقعی رفتہ رفتہ ہمارا جسم تو انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو گیا۔ لیکن آج بھی میری روح میری سوچ اس امیربرھمن یا راجپوت کی غلامی سے آزاد نہ ہوسکی آج بھی غربت اور ذلّت کا وہ احساس جو ہزاروں سال سے مرے اندر موجود ہے, اسے نکال باہر پھینکنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ یہی غربت اورذلّت کا وہ احساس ہے جو آج  مجھے مہنگے ہوٹلمیں کھانا کھانے کے لئے لیکر جاتا ہے۔ یہی غربت کا وہ احساس ہے جو برانڈڈ کپڑے خریدنےپرمجھے مجبور کرتا ہے۔

محمد بن قاسم توآکر چلا گیا لیکن آج بھی اسلام میرے حلق سے نیچے نہیں اترا۔ اسلام قبول کر لینے کےباوجود آج بھی میں اپنے اندر وہ عزّتِ نفس دیکھ نہیں پا رہا جو مجھے اپنے آپ کو کمترسمجھنے کے احساس سے باہر نکال پائے۔ یہ جو احساسِ کمتری ہے یہ ہزاروں سال سے میرے اندر کوٹ کوٹ کر بھر گئی ہے۔
کیسے جان چھڑا پاؤں میں اس سے، کوئی تو بتاؤ نا یارو۔
میں کیسے یقین دلاؤں اپنے آپکو کہ میں بھی ایک عزّت دار انسان ہوں کیونکہ میں نبیوں کی اولاد ہوں۔ مجھےضرورت نہیں ہے کہ میں اپنی عزّت کے دکھاوے کے لئے جھوٹی چیزوں کا سہارا لوں۔
میں تو کائنات کےسب سے عظیم مذہب کا علمبردار ہوں, میں تو اس خدائے واحد کا غلام ہوں۔ جو رب العالمین ہے, جو کائناتوں کا مالک ہے, جوجہانوں کا بادشاہ ہے۔ جو کہتا ہے کہ وہ تو میرے ساتھ ہے۔ پھر بھی میں احساسِ کمتری کا مارا ہوں۔

کیوں؟؟
اس لیے کہ میں نےاس کا غلام بننا قبول ہی نہیں کیا، پسند ہی نہیں کیا۔

وہ ایک سجدہ جوتجھ پر گراں گزرتا ہے
تجھے ہزار سجدوں سے دیتا ہے نجات

آؤ آج اک سجدہ کریں اس یقین کے ساتھ کہ میری پیشانی ﷲ رب العالمین کے پاؤں پر ہے اور میرے رب کا شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر ہے۔ پھر جب تم اس سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ گے تو یقین جان لو کہ تمہیں وہ عزّتِ نفس مل چکی ہوگی جو تم برانڈڈ کپڑوں میں اور مہنگے ہوٹلوں میں ڈھونڈنےجاتےہو۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس