0
0
0
شاعرہ: عنبرؔ شاہد

ایک ذرہ بھی یہاں مثل گہر ہوتا ہے
عشق میں آپ کے جی لے وہ امر ہوتا ہے

در ودیوار میرے گویا محو ہو جائیں
ذکر میں آپ کے اک ایسا سحر ہوتا ہے

ہم کو جب دھوپ زمانے کی جلانے آئے
سامنے آپ کی رحمت کا شجر ہوتا ہے

اس کے بدلے مجھے ملتی ہے سکوں کی دولت
آپ کی یاد میں لمحہ جو بسر ہوتا ہے

معجزہ آپ کی چاہت نے دکھایا یہ بھی 
جو بھی میں نعت پڑھوں اسمیں اثر ہوتا ہے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس