0
3
1
تحریر: ابوفروا

لاکھوں سال پہلے ﷲ نے ایک مخلوق تخلیق کی جس میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ انسان بن سکتی ہے۔

لیکن اس وقت وہ مخلوق انسان نہیں تھی بلکہ اس میں انسان بننے کی صلاحیت موجود تھی پھر  جب رب نے فیصلہ کیا کہ اب میں نے اسے انسان بنانا ہے۔

تو  ﷲ نے اس مخلوق میں سے ایک فرد کو منتخب کیا جسے حضرت آدم علیہ السلام کہا جاتاہے۔

اس کے بعد انسان کا وہ دور شروع ہوا جیسے مہذب یا تہذیب یافتہ دور کہا جانے لگا ۔ انسان کو مہذب یا تہذیب یافتہ کہنے کے لئے جو چیز ضروری طے پائی تھی۔ وہ علم تھا، یعنی وہ علم جو ﷲ نے انسان کو عطا کیا جسے قرآن نے بہت وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ وہ علم تھا۔ کیا وہ علم تھا؟

اخلاقیات کا علم:

انسان جب جانور کی زندگی کو خیر باد کہہ کر ایک معاشرے میں رہنے کے لئے آیا تو جو پہلا سوال اس کے سامنے کھڑا ہوا وہ یہ تھا کہ ایک انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ کون سے اصول اور قوانین اپنائےگا جن کی بدولت معاشرے میں رہنے والے تمام افراد عزت و احترام اور اطمینان کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔

اس کے لیے جو قانون کا بنیادی ڈھانچہ طے پایا وہ یہ تھا کہ جو بھی رویہ یاعمل انسان اپنے لئے پسند کرے گا وہی رویہ اور وہی عمل اسےدوسرے کو بھی دینا ہے، یعنی اگر کوئی شخص یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کے مال کو چوری کیا جائے تو پھر وہ بھی دوسرے کا مال چوری نہیں کرے گا۔

انسانی معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے اور اس معاشرے میں اطمینان سے رہنے کے لئے یہ ایک زریں اصول قرار پایا۔ آپ پورے معاشرے کا بغور جائزہ لیجیے اور دیکھ لیں گے کہ اگر انسانی معاشرے میں سے اس اصول کو منہا کر دیا جائے تو پھر وہ معاشرہ انسانوں کے رہنے کے لئے نامناسب اور ناپائدار بن جاتا ہے۔ اور اس معاشرے میں رہنے والے تمام انسان کبھی نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ  تمام انسانوں کو ان بنیادی ضروریات کا ملنا بھی دشوار ہوجاتاہے۔

جو زندگی گزار نے کے لئے لازمی قرار پاتی ہیں۔

اب میں آپ کے سامنے اپنی بات کی دلیل پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ ترقی یافتہ ممالک کے معاشروں کا جائزہ لیجے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ان معاشروں نے صرف اس ایک اصول کو اپنا کر نہ صرف یہ کہ ترقی کی بلکہ وہاں رہنے والے تمام انسانوں کو وہ عزت وہ اطمینان وہ خوشی دینے میں کامیاب ہوگئے۔ جو انسان ازل سے چاہتا تھا اور اس کا لازمی نتیجہ خوشحالی کی صورت میں برآمد بھی ہوا۔

اپنی بات کو مختصر کرتے ہوئے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کہ ا ب ہمیں  کیا کرنا چاہیئے۔  کیا ہم پورے معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ نہیں، ہم نہیں کر سکتے۔ تو پھر ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ہم کم ازکم اپنے معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ کونسا ہے ہمارا معاشرہ ہے ہمارا اپنا گھر اپنے گھر کے معاشرے کو تبدیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لئے شروعات سب سے پہلے اپنی ذات سے کرنی پڑے گی۔

تو کیا ہم اس کے لیے تیار ہے یا نہیں یا پھریہ کہ ہم یہ سوال اٹھائیں کہ کیا ہم اپنی ذات سے شروع کر کے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سوال کا جواب دینا تھوڑا مشکل ہے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ آپ کے گھر کا جو معاشرہ ہے اس میں سے کم از کم آپ ایک فرد کو تو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ ایک فرد جو تبدیل ہوگیا۔ ایک وقت آئے گا کہ وہ نہ صرف اپنے گھر کا معاشرہ بلکہ اپنے ملک کا معاشرہ یہاں تک کہ پوری دنیا کو تبدیل کرسکے گا۔ کیوں جو کچھ میں نے کہا، کیا آپکو یہ بات مذاق لگ رہی ہے۔ اگر مذاق لگ رہی ہے تو پھر آپ نہ دنیا کی تاریخ سے واقف ہو نا قرآن سے واقفیّت رکھتے ہو اور نہ ہی آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ ﷲ رب العالمین ہے۔ اور وہ ﷲ زبردست بھی ہے اور دانا بھی۔

رسول ﷲ صلّی ﷲ علیہ والٰہ وسلّم کی احادیث مبارکہ ہے کہ جو چیز تم اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرو۔ عام طور پر اس حدیث کا مفہوم لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر میں اپنے لئے ایک گاڑی پسند کروں تم مجھے اپنے بھائی کے لئے بھی ایک گاڑی پسند کرنی چاہیے۔ یا اگر میں اپنے لیے فردوس لان کا ایک سوٹ پسند کروں تو مجھے اپنی بہن کیلئے بھی ویسا ہی پسند کرنا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہےجو لوگوں کو اس حدیث سے ہوئی۔ کیونکہ اگر اس حدیث کا یہی مطلب لیا جائے تو عقلی طور پر یہ بات ممکن نظر نہیں آتی۔

اس حدیث کا اصل مطلب یہ نہیں ہے۔

اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ جو آپ پسند کرتے ہو کہ آپکا بھائی آپ کودے آپ بھی وہی چیز ویسی ہی اس کے لیے پسند کرو یعنی یہ بات ہو رہی ہے۔ اخلاقیّات کی، رویے کی، الفاظ کی، جملوں کی یعنی اگر میں چاہتا ہوں کہ مجھ سے احسن رویہ اپنایا جائے تو مجھے بھی اپنے بھائی کے ساتھ۔ احسان کا رویہ ہی اپنانا چاہیئے یعنی جو رویہ میں اپنے بھائی کے ساتھ اپناوں وہ حسین ہو، خوبصورت ہو۔

اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا؟

فائدہ یہ ہو گا کہ مجھے اطمینان حاصل ہوگا، خوشی ملے گی، فخر کا احساس ہوگا۔ معاشرے میں میرا رتبہ بلند ہوگا۔

اب لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ خوبصورت رویہ اپنانے کے باوجود دوسرے لوگ ہماری عزت نہیں کرتے یا ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتے تو پھر کیا فائدہ ہوا۔

تو آج میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں یہ جو حسن ہے اسے پاکیزہ کہا جاتا ہے اور جو بدصورتی ہے اسے ناپاکی کہا جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوا کہ جس کے ساتھ آپ احسان کا رویہ اپنائیں گے اگر وہ جواب میں احسان کارو یہ نہیں اپنائے گا تو پھر وہ آپ سے دور ہو جائے گا کیوں کہ اس کے لئے قرآن میں قانون بیان کردیا گیا ہے کہ ناپاکی، پاکی کے قریب نہیں رہ سکتی اور نیکی بدی سے دور کر دی جائے گی۔ اگر آج مجھ کو اپنے قریب میں بدصورتی نظر آتی ہے تو یقین ماننا ہوگا کہ میرے اندر بھی بدصورتی موجود ہے۔۔۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس