0
3
1
فن و ثقافت

پاکستان کا آرائشی اور چکا چوند ٹرک آرٹ:

 پاکستان کا آرائشی اور چکا چوند ٹرک آرٹ:

پاکستان کی سڑکوں اور ہائی ویز پر آپ کو رنگ برنگےاور سجے سجائے آرائشی ٹرک چلتے نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ٹرک، مختلف اشیاء اور سازوسامان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

شاندار رنگوں کا پُرتکلف امتزاج اور خوب صورت مگر معمولی قسم کی آرائشی اور بناؤ سِنگھار کی چیزوں اور زیورات سے سجے دھجے، سڑکوں پہ چلتے ہوئےیہ فن پارے، جو پاکستان کی ثقافت کی علامت ہیں۔

پاکستان کا ٹرک آرٹ خوش رنگ ، دلکشی اور فنکارانہ مہارت کے منفردامتزاج کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔

یہ آرٹ ٹرک یا بسوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ آٹو رکشوں،ویگنوں، یہاں تک کہ ونٹیج ویسپا سکوٹر پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

یہ آرٹ ٹرک یا بسوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ آٹو رکشوں،ویگنوں، یہاں تک کہ ونٹیج ویسپا سکوٹر پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

پاکستانی ٹرک فن کا آغاز اور تاریخ:

پاکستانی ٹرک آرٹ کی ابتداء مغل بادشاہوں نے کی (جنھوں نے ایک عرصے تک برصغیر پاک و ہند پرحکومت کی) اس دور میں، بادشاہ اور ملکہ کے زیرِاستعمال شاہی سواریوں اور گھوڑوں کی بگھیوں کوخوبصورت بنانے کے لئے ان پر دلفریب اور دیدہ زیب رنگوں سے نقاشی کی جاتی تھی۔ چونکہ بادشاہ اس کو پسند کرتے تھے اسی لئے نہ صرف ان کی بگھیوں کی سجاوٹ کا اہتمام کیا جاتابلکہ شاہی بگھیوں کو ان کے شایانِ شان سجایا جاتا تھا۔

موجودہ دور میں موجود ٹرک آرٹ اسی آرٹ سے متاثر ہے۔

 ٹرک آرٹ کی ایک اور خاص خصوصیّت ٹرکوں پرمختلف رنگوں کا خاص طرز پر استعمال ہے جو پیچیدہ نقاشی اور خوب صورت خطاطی کا دلکش امتزاج ہیں۔ٹرک آرٹ خاص فن، مہارت اور تخلیقی کاریگری کی بہترین مثال ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اہم ثقافتی ورثے کے علمبردار بھی ہیں۔

 اس کی بہت سے مثالیں موجود ہیں اور ہر ٹرک اور اسکی سجاوٹ کا اپنا حیرت انگیز سٹائل جو دوسرے سے مختلف اور جاذبِ نظر ہے۔

رنگا رنگ ٹرک ۔ آرٹ ایک مقامی انڈسٹری:

 رنگا رنگ ٹرک ۔ آرٹ ایک مقامی انڈسٹری:

 ٹرک آرٹ اور سجاوٹ پر کم سے کم تین لاکھ سے پانچ لاکھ پاکستانی روپے تک خرچہ آ سکتا ہے۔ جو ایک بھاری رقم ہے۔ بہت سے ٹرک چلانے والے خوداس کے مالک نہیں ہیں بلکہ ٹرک کسی اور کی ملکیّت ہے۔ جبکہ ٹرک کے مالکان نہ صرف ٹرک کی سجاوٹ کی اجازت دیتے ہیں بلکہ اس پر آنے والے اخراجات بھی خود اٹھاتے ہیں۔

اس خرچ کی ایک وجہ ٹرک مالکان میں مقابلہ بھی کیونکہ ٹرک کی خوبصورتی مالک کا فخر اور اعزاز ہے۔ اسی لئے ٹرک مالکان اپنے ٹرک کی تعزین وآرائش پر کافی رقم خرچ کرتے ہیں۔

ٹرک کی تزین و آرائش، ایک بہت بڑا اور منافع بخش کاروبارہے۔ پاکستان میں ٹرک مقامی طور پر سجائے جاتے ہیں۔ صرف شہرِ کراچی میں، خاندانی طورپر چلائی جانے والی چھوٹی چھوٹی ورکشاپیں ہیں جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد کام کرتےہیں۔

ایک ٹرک کو سجانے کے کام میں چھ سے دس ہفتے لگ سکتےہیں۔ یہ کام جلد ختم کرنے کے لئے کاریگر تیزی سے دن رات کام کرتے ہیں۔

آرائش و زیبائش کا یہ کام ٹرکوں کے پہلوؤں پر؛ انکے دروازوں اور کھڑکیوں سمیت سامنے کی جانب؛ ونڈ شیلڈ کے نیچے، بونٹ پر، ٹرک کے پیچھےغرض یہ کہ پہیوں سمیت ٹرک کے چاروں اطراف کیا جاتا ہے۔

ویسے تو اس آرٹ میں قدرتی مناظر، گاؤں کی تصویر کشی،خوبصورت اور رنگین پورٹريٹ سے لے کر پسندیدہ سیاسی شخصیات یا محبِّ وطن علامات کی تصاویرکے علاوہ طلسماتی اور جادوئی تصاویر: جیسا کہ سینگ، یاک کی دم، پریاں اور خاص رنگوںکے کپڑوں کے ٹکڑے، پراندے، گھنٹیاں اور چاند ستارہ جیسی قومی علامتوں اور اہم قومی مقامات کے علاوہ، مور تیتلیاں، عقاب، تخلیقی اور فنکارانہ ڈیزائن، مذہبی علامات، جیسےآنکھ، مچھلی اور براق وغیرہ بھی نمایاں ہیں۔

ٹرک کے اطراف پر شہروں کے نام، شعر و شاعری، طنز ومزاح کے دوسری چیزیں، مشہور اور پسندیدہ شخصیات کے علاوہ اقوالِ زریں بھی نقش کئے جاتےہیں۔

پاکستان کا ٹرک آرٹ مکمل اور حقیقی طرز کا ہے۔

پاکستان کا ٹرک آرٹ مکمل اور حقیقی طرز کا ہے۔

ٹرک آرٹ پورے ملک کے ہر صوبے میں ہے اور یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں ہر صوبے میں ٹرک آرٹ کی ایک منفرد طرز ہے۔

 پاکستانی ٹرک آرٹ پینٹنگز مختلف قسم کے عوامل جیساکہ:

وہ علاقہ جہاں سے ٹرک مالک یا ڈرائیور کا تعلق ہے، ان کی ذات اور پسند پر منحصرہیں جو کسی بھی ٹرک آرٹ میں واضع طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

 ہر ٹرک مالک اپنی مقامی روایات کو اپنے ٹرک پر پینٹنگ کی شکل میں نقش کرواتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ٹرک پشاور سے ایک شخص کی ملکیت ہے تووہ خیبر پاس، پشاور اور وہاں کی مقامی چیزوں کو نقش کروانا پسند کرے گا۔

 اس کے علاوہ، ڈرائیور کی ذات بھی اس لحاظ سے اثراندازہوگی۔ جیسا کہ اگر ایک ڈرائیور پٹھان ہے تو وہ عمران خان، شاہد خان آفریدی، ایوب خان یا دیگر مشہور پشتون شخصیّات کو اپنے ٹرک پر پینٹ کرنے کے لئے پسند کریں گے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ٹرک کو سجانے کےلئے لکڑی کی چھتوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

پنجاب کے ٹرک آرٹ میں لوگ عام زیورات اور پلاسٹک کااستعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، سندھ میں ٹرکوں کی سجاوٹ کے لئے اونٹ کی ہڈیوں اورلال رنگوں کے استعمال کا معمول نمایاں طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ونگ آف ڈیزل: پاکستانی ٹرک آرٹ پر لکھی گئی ایک مفصّل کتاب

ونگ آف ڈیزل: پاکستانی ٹرک آرٹ پر لکھی گئی ایک مفصّل کتاب

ٹرک آرٹ اتنا مقبول ہے کہ اس منفرد کام پر جمال جےالیاس نے 288 صفحات کی ایک مفصّل کتاب لکھی ہے۔ (جمال جے الیاس پینیسلیوینیا یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر اور مذہبی مطالعہ کے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔)

اس کتاب میں پاکستان کے روایتی ٹرک آرٹ کے بارے میں بہت سی اہم معلومات نہ صرف جمع کی گئی ہیں بلکہ تفصیلاً بیان بھی کی گئی ہیں۔ جو مصنّف کی جانب سے اس آرٹ پر بڑے پیمانے پر کی گئی تحقیق کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس میں مختلف ٹرکوں کی کھینچی جانے والی خوب صورت تصاویر بھی شامل ہیں۔

پاکستان ٹرک کے آرائشی آرٹ (جو اب صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے) سے بہت سی دوسری صنعتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے ممالک بھی متاثرہو رہے ہیں۔

ٹرک آرٹ میں دلچسپی اور اسے دلہن کی طرح سجانے کی ایک اہم وجہ شاید یہ ہے کہ اس عمل سے لوگ نہ صرف اپنے محبِّ وطن ہونے کے اظہار کا ذریعہ سمجھتے ہیں بلکہ خود کو اپنے ملک کی ثقافت کا پاسبان بھی محسوس کرتے ہیں۔

ٹرک آرٹ ، "پاکستانی فوک آرٹ" کی حیثیت سے بھی پہچانا جاتا ہے۔

پاکستانی ٹرک آرٹ کی بدولت بین الاقوامی شناخت حاصل کی ہے۔ دنیا بھر کے بہت سے ممالک میں منعقد ہونے والے نمائشی میلوں میں پاکستانی ٹرک لوگوں کی توجہ کا مرکز ہونے کی بدولت پاکستانی فن و ثقافت کے ایک اہم سفیر کی حیثیت کے حامل ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس