0
0
0
تحریر: ابو فروا

ہزاروں سال سے غلامی کی زنجیریں پہن کر پیدا ہونے والا ہر بچہ اپنے کردار اپنے ظرف اور اپنے ذہن کو وہ بالیدگی نہیں دے سکا جو ایک عظیم رہنما کا خاصہ ہوتی ہے۔۔
اس کے ساتھ ساتھ اس خطے میں رہنے والے اپنی ازلی غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے اپنے ہی کسی سپوت کو اپنا رہنما تسلیم کرنے میں حسد کا شکار ہوئے کہ انہی میں سے ایک ان کا رہنما کیسے بن سکتا ہے۔
یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا المیہ ہے جو نبیوں کے ساتھ بھی پیش آیا۔
پاکستان بننے کے بعد غلامانہ اور پست ذہنیت کے لوگوں کی اکثریت نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالی جو فطری طور پر اپنی ذاتی ہوس سے باہر نہ نکل پائے۔ جس کا نتیجہ ارباب اختیار کی کرپشن اور لوٹ مار کی شکل میں سامنے آیا۔۔ 
لیکن میرے مطابق اربابِ اختیار کا پاکستان کو لوٹنے سے اس ملک کا اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا نقصان ان کی گندی اور بے ایمانی والی سوچ سے ہوا۔۔ ان کے مکروہ کردار سے ہوا۔۔
ارباب اختیار کی بدکرداری کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان کی پوری قوم مجموعی طور پر بد کردار اور بد نیت اور ذہنی طور پر کرپشن کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی ہے۔۔
اس قوم کا مولوی ہو یا عالم، ڈاکٹر ہو یا جج، تاجر ہو یا کسان، تاجر ہو یا مزدور، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص ایمانداری، دیانتداری، خلوص، اتفاق، رواداری، اور سچائی جیسی اخلاقیات سے بہت دور نکل گیا۔۔
اسی لئے آپکو اس سر زمین پاکستان کی ہر گلی کوچے، ہر بازار میں لوٹ مار بے ایمانی نفسا نفسی کا بازار گرم نظر آتا ہے۔۔
نواز شریف نے اس ملک میں موٹر وے، میٹرو، اورنج لائن ٹرین تو بنا دی۔۔  لیکن اخلاقی طور پر اس قوم کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ اب اس اخلاقی طور پر مردہ قوم کے ناسور زدہ جسم سے اٹھتا تعفن کیسے دور ہو گا؟
اس سرطان کا علاج کون کرے گا جو قومی جسم میں پھیل چکا ہے۔۔
یہ ایک ایسا سوال ہے  جس کا جواب شاید آنے والا مؤرخ ہی دے پائے۔۔۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس