شاعرہ: عنبرؔ شاہد

رمضان میں یوں آغاز ہوا
لو اب وقت پرواز ہوا

پھر عید الفطر کی دوڑ لگی 
اور سیر سپاٹے ہونے لگے

کبھی درد کمر میں کام ہزار
کبھی حبس کے مارے رونے لگے

پھر شور مچا آزادی کا 
پیسوں کی نئی بربادی کا

پھر بکرا منڈی یاد آئی 
ہر بچے کی فریاد آئی 

بیچ میں اک دن سکول گئے
جو یاد رہا سب بھول گئے

اب بکرے بھی قربان ہوئے
اور فریزر کے مہمان ہوئے 

اب سکول کی ڈائری جب کھولی 
تھی اس میں ڈیٹ شیٹ ملی

دو دن کے بعد ہی پیپر ہے
لیکن بچوں کو فیور ہے

کبھی ان کو دوائی دیتی ہوں
کبھی گولی درد کی لیتی ہوں

نہیں خواہش اب ریوارڈ ملے
بس تھوڑا سا ریگارڈ ملے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس