0
3
0
شاعر: ابو فرواؔ

عشق ہوا دوآتشہ تیرا جائے حرم جا
دل ادھر سر ادھر، حیا آئے حرم جا

مانگنا یار کو، بیت الحرام پہ جا کے
حیف ہے مجھے، اس کے لئے حرم جا

تڑپے ہے دل، بارگاہ ایزدی میں کس کے لیے
حال اس کا کون جانے سوائے حرم جا

چہار سو پھیلا ہے نور اور میں داغ گناہ لئے
مخمل میں پیوند لگے، جائے حرم جا

تعفن اٹھتا ہے گناہوں کے ناسور ہیں جسم پر
پیروی سنت کر، بدن مہکائے حرم جا

ہجر یار اک طرف، اور شوق دید کعبہ بھی
بیقراری دل کو کچھ قرار آئے حرم جا

پرواہ حشر کیا کروں، عذر گناہ ہے کیا
راہ خدا میں لایا کیا، قدم لڑکھڑائے حرم جا

جاتا تو ہوں اس در کو، پر دیکھیئے ہوگا کیا
خواہشات کی پوٹلیاں ہاتھوں میں اٹھائے حرم جا

کیا مانعِ ہے حیا راشد اس تواب الرحیم سے
تہی دامن ہے، تو دامن پھلائے حرم جا

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس