شاعر: ناصر کاظمیؔ

اپنی دھن میں رہتا ہوں 
میں بھی تیرے جیسا ہوں 

او پچھلی رت کے ساتھی 
اب کے برس میں تنہا ہوں

تیری گلی میں سارا دن 
دکھ کے کنکر چنتا ہوں 

مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں 

میرا دیا جلائے کون 
میں ترا خالی کمرہ ہوں 

تیرے سوا مجھے پہنے کون 
میں ترے تن کا کپڑا ہوں 

تو جیون کی بھری گلی 
میں جنگل کا رستہ ہوں 

آتی رت مجھے روئے گی 
جاتی رت کا جھونکا ہوں 

اپنی لہر ہے اپنا روگ 
دریا ہوں اور پیاسا ہوں 

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس