0
1
0
بلاگر: رضؔ بٹ

ذات کے ہم کشمیری ٹھہرے، آباؤ اجداد کشمیر سے تھے، بچپن سے ہی سننے کو ملتا کہ قدر کرو مسلمان پیدا ہوئے، فخر کرو کہ پاکستانی ہو! نانا مہاجر تھے، 1947ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ ان کی ہجرت کی داستان سن کے بڑے ہونے سے کم از کم اتنا ادراک تو ہے کہ پاکستان بنانے کیلئے ہمارے بڑوں نے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ آج بھی یاد ہے جب کسی نے کہا تھا کہ ہجرت کرنے والے کو مہاجر کہتے ہیں اس لحاظ سے تو آپ مہاجر ہوئے نا۔۔۔ نم آنکھوں سے مسکرا کے بولے جس کے لئے ہجرت کی وہ یہ ملک ہے، یہ مٹی ہے، جب اس پاک سر زمین پر قدم رکھا تو مہاجر کہاں رہا، میں تو پاکستانی ہو گیا!!
بہت سی باتیں سمجھ نہیں آتی تھیں پر پاپا کہتے تھے بیٹا جی! یہ باتیں سمجھ آنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے، سمجھ اس وقت کیلئے چھوڑ دو، ابھی بس سن لیا کرو۔ صحیح کہتے تھے کیونکہ آج کتنی باتیں یاد آتی ہیں اور جتنی باتیں یاد آئیں سمجھ میں بھی آتی ہیں۔ گویا ناسمجھ سے نا نکلتا جا رہا ہے۔ زندگی کی موٹر وے پہ پہلا سپیڈ بریکر آیا تو سمجھ آئی کی حادثے سب سے بڑے استاد کیسے ہیں اور پردیس سے سیکھا کہ دیس کیا چیز ہے، قدر بھی آئی اور فخر بھی ہوا۔ شکر بھی ہے میرے رب کا جس نے سمجھ بوجھ دی، میرے لئے نہ بھٹو   زندہ ہے اور نا ہی مجھے شیر کا فوبیا ہے۔ نہ جی نہ! یہ سن کر تبدیلی کا لیبل نہ لگائیں۔ اتنی سی بات پہ جج (judge) نہ کریں۔ میں شاید ان چند لوگوں میں سے ہوں جنھیں پروڈکٹ سے مطلب ہے برینڈ سے فرق نہیں پڑتا۔ آسان الفاظ میں برینڈ کانشیئس (conscious) بالکل نہیں ہوں!

ویسے سب سے زیادہ دکھ ایک ہی بات پہ ہوتا کہ سوچ ہے بس اپنی اپنی، بات جو بھی کرو اور جیسی بھی کرو، ہر کوئی اپنے اپنے لحاظ اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق ہی لے گا اس کے مطلب کو، یعنی ایک نقطے کا فرق اور اصل معنی غرق۔ کچھ پہ تو وہ والی مثال فٹ بیٹھتی ہے؛
جیسے بڑے بوڑھے کہتے تھے: ہاسے کا مراثہ
دیس، پردیس میں فرق صرف قانون کی بالادستی (Rule  of  law) کا ہے، بادشاہت ہے یا جمہوریت۔

خیر! دیس کی بات کروں تو سکھ کا سانس کم ہی نصیب ہوا ہے، زیادہ تو بس غم کے بادل ہیں۔ سب سے زیادہ دکھ داتا دربار لاہور کے بلاسٹ (خود کش حملے) پر ہوا تھا، اس لئے نہیں کہ یہ کوئی بہت بڑا سانحہ تھا بلکہ اس لئے کہ اس دن سمجھ آیا کہ کہنے نے کیوں کہا ہے کہ فرق صرف ان کو پڑتا ہے جن کے کا نقصان ہوتا ہے یا جن کے چلے جاتے ہیں۔ سچ ہی تو ہے جس پہ بیتے وہی جانے۔ باقی سب نے تو اسے بھی مذہبی رنگ دینے میں ہی عافیت جانی۔ اس واقعے کی بدولت جانا کہ 2002ء میں وجود آئے مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں پاپا نے کیوں کہا تھا کہ اگر اس ملک میں شریعت کے نفاذ کا مبارک دن آ ہی گیا تو ان سب میں ہی پھوٹ پڑ جانی ہے اس بات پر کہ کس مسلک کے اسلام کو نافذ کیا جائے۔۔۔
سانحے تو بہت گزرے مگر مجھ جیسے عام انسان کو اے پی ایس نہیں بھولتا، جو ظلم نہیں بلکہ فرعونیت کی داستان ہے۔ بڑے بوڑھے کہتے تھے: پتر! بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں بھی کہنے والوں نے کہا کہ فوجیوں کے بچے مرے ہیں اس لئے شور مچا ہے۔ حد ہو گئی جناب! چلیں فوجیوں کے بچے ہی سہی مگر کیا کبھی سوچا ہے کہ ہم جیسے عام سویلینز تو احتجاج اور دھرنے کر لیتے ہیں، میڈیا پہ شور بھی مچا لیتے ہیں مگر یہ فوجی اور ان کے سویلین گھر والے۔۔۔ گلہ بھی نہیں کرتے بلکہ شہادتوں پہ فخر کرتے ہیں۔ ادھر کوئی سانحہ ہو تو سویلین گورنمنٹ زخمی اور جاں بحق افراد کو معاوضہ دے کر جان چھڑانے کی کرتی ہے، مگر یہ فوجی تو تنخواہ ہی جان ہتھیلی پہ رکھ کر ڈیوٹی کرنے کی لیتے ہیں۔ ہم انہیں اس ڈیوٹی کی تنخواہ دے کر کون سا احسان کرتے ہیں جناب!

سچ ہے کہ ہر ملک میں ایک فوج تو ہوتی ہی ہے وہ ملکی نہ ہو تو غیر ملکی ہو گی۔ فلسطین کے بارے سنا کرتے تھے بچپن میں، اب تو فلسطین کیا، یمن اور سوریا کے لوگ بھی کہتے ہیں قدر کرو، آزاد ملک میں رہتے ہو۔، خوش قسمت ہو، جو پاک فوج جیسی فوج ہے۔
صحیح تو ہے جیسے کسی ایک کے برا کہنے یا کرنے سے اس کا خاندان، برادری، قوم یا مذہب قصور وار نہیں ہوتا۔ بڑوں کی غلطی کی سزا بچوں کو نہیں دے سکتے، اسی طرح چند لوگوں کی وجہ سے پورے ادارے پر انگلی نہ اٹھائیں۔
خدارا پاک فوج کو گالی نہ دیں!!
حق ہے اس ملک کے منصف اعلٰی کا کہ ہر اس وردی سے ہی نہیں ہر بلکہ ہر اس گاڑی سے بھی یہ سبز ہلالی پرچم اتار لے جو اس کے فرض کا حق ادا نہ کر پائے۔ جو اپنے حلف کا پاس نہ کر پائے۔ قانون سے بالا کوئی نہیں۔

رکھنے والوں نے اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان کچھ سوچ کے ہی رکھا ہے جیسا کہ نام میں ہی واضح ہے اسلام اور جمہوریت، یہاں کوئی بادشاہت اور آمریت کی گنجائش ہی نہیں۔
ویسے بھی اب جب دنیا "گو گرین" کے موٹو پر چلنے لگی ہے تو ہمیں تو ویسے ہی فخر ہونا چاہیئے کہ ہم پیدائشی گرین (سبز) ہیں۔

71واں یوم آزادی مبارک
جیوے جیوے پاکستان

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس