0
5
0
شاعر: ابو فروا

ہوا دیدہ ور پیدا، عمران ہے اسکا نام
ارضِ پاک جھک کر، کر رہی ہے اسے سلام

بانجھ تھی کوکھ جس دھرتی کی برسا برس سے
ماہ نو لے کر آیا ہے اب عید کا پیغام

ظلمت کے اندھیروں میں کرگسوں کا ننگا ناچ تھا
صبح نو بتارہی ہے قصہ ہوا انکا تمام

تک رہی تھی انسانیت جسے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے
لو آ گیا وہ مسیحا بن کے رحمت عام عوام

دام میں صیادوں کے امت تھی بے یارو مددگار
آزادی کے دن ہوا فیصلہ اب نہ ہوگا کوئی غلام

مانا کہ تو ہے، حلقہ بگوش دشمنان ملت ابھی
مدح گستر نہیں، بس تو ہی ہے امید گاہ انام

جو تھے آسمان بنے ہوئے، اب ہیں زمین بوس
چشم زدن میں خاک ہوئی تمکنت، واہ رے گردشِ ایام

بتوں کے استھان بنائے، اس کعبہ جیسی ارضِ پاک پر
 مرحبا اے مرد مجاہد کہ باندھا تو نے دیر میں احرام

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس