0
7
1
بلاگر: رضؔ بٹ

باتیں تو باتیں ہیں مگر بات سے بات نکالنا فن ہے جیسے کسی سے اپنا کام نکلوا لینا فنکاری۔ سو باتوں کی ایک بات کہ موقع کبھی بھی دستک دے کر نہیں آتا اور نہ ہی آ کر بتاتا ہے کہ میں آ گیا ہوں یہ آپ کی قسمت اور حاضر دماغی پر منحصر ہے کہ آپ بھانپ پا رہے ہیں یا نہیں اور مان لو موقع نہیں مل رہا تو ضرورت ایجاد کی ماں ہے پر عمل کرتے ہوئے موقع کیا مواقعے بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں، کوشش شرط ہے جناب! ہونے کو تو انہونی کیا معجزے بھی ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی دو ہاتھ اور ایک ٹانگ اٹھا کر تو ہم توازن برقرار رکھتے ہوئے کھڑے رہ ہی سکتے ہیں تو پھر دوسری ٹانگ کیوں نہیں اٹھا سکتے کی بحث کیسی اور اٹھانے کی کوشش میں منہ کے بل گرنے میں کونسی سمجھداری؟؟
مسئلہ، مسائل پر رونے دھونے کی بجائے ان کا حل نکالیں اور جب حل نکل آئے تو پھر اس پر عمل کریں یا کم از کم عمل کرنے کی کوشش ہی کر لیں۔ پھر اگر اس حل پر عمل میں کوئی مشکل آئے تو خندہ پیشانی کا مظاہرہ کریں۔ گر ہیں کھولتے جائیں، کچھ وقت تو لگتا ہے مگر نیک نیتی اور ثابت قدمی سب اچھا کر دیتی ہے، ڈور کے گنجل کی طرح رشتوں میں پڑی گانٹھیں تو آخر کھل ہی جاتی ہیں بس دل میں پڑے شک اور وہم کی خراشیں نہیں دھل پاتیں۔

بڑے بوڑھے کہتے تھے:
چلدی وچ ول نہ آوے
رب سوہنا توڑ نبھاوے

اگر حل ہوتے ہوئے بھی آپ مسئلہ، مسئلہ کی مالا جبتے جائیں تو دو باتیں ہی ہو سکتی ہیں، یا تو آپ نہیں چاہتے کہ مسئلہ حل کر کے مشکل سے نکلا جائے یا پھر آپ خود مسئلہ یا اس مسئلے کا حصہ ہیں۔
بچپن میں پڑھی گڈریئے کی کہانی کی طرح، وہی جس میں گڈریا بار بار شیر آیا، شیر آیا کی صدا لگا کر سب کو جمع کرتا اور جب لوگ اپنے سبھی کام کاج چھوڑ کر اس کی مدد کو پہنچتے تو شیر کو نا پا کر مایوس ہوتے۔
ہماری زندگی میں بھی کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہر بار مسئلہ، مسائل کا رونا دھونا لگا کر شیر آیا، شیر آیا کی سی گردان کرتے نظر آتے ہیں۔ ادھر مدد کو پہنچو، مسئلے کا حل نکالو، مشکل کو آسان کرو، داد رسی کرو، یہاں تک کہ صلح صفائی کرواؤ۔۔۔ مگر پھر بھی جدر دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی کی طرح یہ عادتاً مجبور ہوتے ہیں اور گڈریئے کی طرح کچھ عرصے بعد پھر وہی شیر آیا، شیر آیا کا یوں ہی ٹرن لیتے ہیں۔ گویا مظلومیت کا لیبل سجائے ہمدردی سمیٹنے کی عادت سے مجبور ہوتے ہیں۔
دوسری جانب لوگ بھی معمول کا یہ ڈرامہ کسی ڈیلی سوپ سیریل کی طرح دیکھ کے عادی ہو جاتے ہیں۔

مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کہانی کی طرح اگر آخر میں سچ میچ شیر آ جائے تو۔۔۔

تو پھر یہ اہم نہیں ہوتا کہ پلے کیا پڑا کیونکہ اس وقت سوائے پچھتاوے کے پلے کچھ نہیں رہتا۔ گویا کسی کا فائدہ کب تلک اٹھائیں گے۔ اس وقت سے ڈرنا چاہیئے جس دن ہمارے سچ پر شک کے بادل منڈلائیں اور ہماری سچائی پر بھی سب کو مذاق کا گماں ہو۔ بس اس شیر آیا، شیر آیا کی مسخری اور فنکاری کے چکر میں ہماری سنی بھی ان سنی کر دی جائے۔ جس دن ہم مان، اعتماد، عزت و لحاظ سب گنوا بیٹھیں۔۔۔
وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ میرے رب کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔ ڈھیل دیتا ہے تو سدھرنے کا موقع سمجھ لینا چاہیئے، سدھر جانا چاہیئے یا کم از کم کوشش ہی کر لینی چاہیئے۔ موقعے کو دھوکہ نہ دیں نہ ہی دھوکے کو موقع!!

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس