0
0
0
تحریر: شہباز سعید

عام انتخابات کے اعداد و شمار میں تحریک لبیک نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا۔

انتخابی مہم کے دنوں میں ہی یہ عام تاثر دیا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ ہولڈرز، بلدیاتی منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدے داروں اور کارکنوں پہ شدید دباؤ ہے جبکہ اس بار مسلم لیگ نواز وفاق سے ہی نہیں بلکہ پنجاب سے بھی فارغ کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ نواز کیخلاف ایک طرف تو سنّی بریلوی مذہبی فار رائٹ اور سنٹر رائٹ مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان کی اینٹی مسلم لیگ نواز کمپین سے پنجاب میں کافی نقصان ہوتا نظر آرہا تھا تو دوسری جانب صرف پنجاب میں 585 امیدوار مذہبی جماعتوں کا پلیٹ فارم استعمال کررہے تھے۔ ان مذہبی جماعتوں میں سب سے زیادہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوار تھے جنہوں نے پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں الیکشن لڑ ا۔ ویسے تو مذہبی سیاسی جماعتوں میں پاکستان سنی تحریک اور متحدہ  سنی محاذ کے امیدوار بھی میدان میں تھے تاہم تحریک لبیک یارسول اللہ کے امیدوار سب سے زیادہ تھے، پنجاب بھر میں ان کی تعداد 259 تھی۔ صرف لاہور ضلع کی 30 صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں سے تحریک لبیک نے اپنے 28 نشستوں پہ امیدوار کھڑے کئے یوں یہ مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کے بعد سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کرنے والی جماعت تھی۔

25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد تحریک لبیک نے اپنی کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا ہے۔ تحریک لبیک کا پنجاب سے اگرچہ ایک بھی امیدوار قومی یا صوبائی اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تاہم مختلف حلقوں میں اس کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں ملنے والے ووٹوں نے نون لیگ اور تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی ہار جیت میں اہم کردار ضرور ادا کیا ہے۔ سیاسی ماہرین کاماننا ہے کہ پنجاب بھر میں بریلوی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کثیر تعداد میں آباد ہیں جو تحریک لبیک کا اصل ٹارگٹ تھے تاہم اس جماعت نے مختلف اضلاع میں کئی نامی گرامی سیاستدانوں اور سابقہ اراکینِ اسمبلی کو بھی اپنا امیدوار نامزد کیا تھا جس کے باعث اسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق  تحریکِ لبیک پاکستان بھر سے قومی اسمبلی کی نشستوں پر 21 لاکھ 91 ہزار 685 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ پنجاب اسمبلی کی نشستوں پر اسے 18 لاکھ 76 ہزار ووٹ ملے۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ تحریک لبیک کو بنانے کا مقصد ہی ایک مخصوص جماعت کے ووٹوں کو اپنی جانب مائل کرنا تھا۔ سب واقف ہیں کہ ماضی میں زیادہ تر مذہبی ووٹ ن لیگ کی جھولی میں جاتا رہا ہے لہٰذا اس جماعت کو بنانے کا بنیادی مقصد اس ووٹ بینک کو توڑ کر مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچانا تھا۔ اگر اس دلیل پر یقین کر لیا جائے تو اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی کے کم از کم 14 حلقے ایسے ہیں جن میں تحریکِ لبیک کے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی ہار میں اہم کردار ادا کیا۔ ان حلقوں میں تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی جیت کا مارجن اتنا کم ہے کہ اگر تحریکِ لبیک کو ملنے والے ووٹ ن لیگ کے امیدواروں کو ملتے تو وہ یہ 14 نشستیں باآسانی جیت جاتے۔

بہرحال اعدادو شمار کا جائزہ لیا جائے تو تحریک لبیک کے ووٹوں سے ن لیگ 13، پی ٹی آئی 6 نشستیں لے سکتی تھی بڑی تعداد میں ووٹ لے کر مذہبی جماعت ملک بھر میں پانچویں بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ یوں یہ 2018ء کے الیکشن میں سب سے زیادہ ڈینٹ پہنچانے والی پارٹی سمجھی جارہی ہے اور اس سے سب سے زیادہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو نقصان ہوا ہے جو کہ تحریک لبیک پاکستان کے ووٹرز کی مدد سے 13 مزید سیٹیں جیت سکتی تھی۔ پارٹی کی قیادت اسکالر خادم حسین رضوی کررہے ہیں اور 1.9لاکھ ووٹوں کے ساتھ پنجاب میں یہ تیسری بڑی پارٹی بن چکی ہے۔ الیکشن سے قبل ہی تحریک لبیک پاکستان کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا تھا جو کہ خود دائیں بازو کی جماعت ہے اور اس کا مضبوط مذہبی وو ٹ بینک ہے۔ یہ خطرہ درست ثابت ہوا اور پنجاب صوبے میں اس سے مسلم لیگ (ن)کو دھچکا لگا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 13 قومی اسمبلی نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ (ن)انتہائی کم مارجن سے ہار گئی۔تحریک لبیک اور خادم رضوی نے الیکشن مہم کے دوران نامزدگی فارم میں تبدیلی کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی امیدوار کے حلف پر ختم نبوت سے متعلق تھی۔ پارٹی نے اسلام آباد میں اس اقدام کیخلاف لاک ڈاﺅن کیا تھا۔ اس لاک ڈاﺅن کا اختتام پا ک آرمی کی مداخلت اور (ن) لیگی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے پر ہوا تھا۔ حالیہ تمام تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر تحریک لبیک کے ووٹرز بھی (ن) لیگ کو ہی ووٹ دیتے تو قومی اسمبلی کی 13 مزید نشستیں مل جاتیں جبکہ پی ٹی آئی بھی معمولی مارجن سے تحریک لبیک کو حاصل ووٹوں کے ساتھ 6 قومی اسمبلی نشستیں ہار گئی ہے۔ دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس دلیل میں بظاہر کوئی صداقت نہیں کہ تحریکِ لبیک کی غیر موجودگی میں ن لیگ زیادہ نشستیں جیت سکتی تھی۔ان کا خیال ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی اور ختمِ نبوت کے معاملے پر نون لیگ سے ناراض لوگ اپنا ووٹ ہر صورت میں ن لیگ مخالف امیدوار کو ہی دیتے جس سے تحریکِ انصاف کو مزید فائدہ پہنچتا۔ مذکورہ صورتِ حال جو بھی ہو مگر ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ تحریکِ لبیک کا منشور تیزی سے مقبول ہوا ہے اور آئندہ انتخابات میں اس کا ووٹ بینک مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس