0
0
0
تحریر: منصور حسن ھاشمی

طالب علمی کے دور میں والد صاحب نے میری سہولت کے لئے ایک باورچی/ ورکر مولوی محمود کو میرے ساتھ نتھی کردیا ۔ اس بے چارے کو کھانا پکانا تو آتا نہیں تھا لیکن تجرباتی طور پر سالن بنانا، سبزی کاٹنا، گوشت لانا اور "کنی" (دیگچی) چڑھانا تو سب کو آتا ہے وہ سالن کو گیس پر چڑھا کر(اس وقت گیس چولہوں میں آتی تھی) اکثر کوئی نہ کوئی مصروفیت ایسی ڈھونڈتا اور اپنے ہی سالن کھا کھا کر اس کے پیٹ کی جو حالت تھی اس وجہ سے ٹائلٹ اس کی سب سے بہترین جگہ بن جاتی اور اس نے جو کڑکی دیگچی کی صورت میں لگائی ھوتی اس میں میرا پھنسنا سو فیصد ھوتا کہ جلتی دیگچی کو اتارنے کے خیال سے جیسے ہی دیگچی کو ہاتھ لگاتا وہ کہیں نہ کہیں سے برآمد ھوتا اور نعرہ مارتا کہ میاں صاحب تساں چونکہ دیگچی نوں ہتھ لایا اے تاں ہہن اس دا دم ترٹ گیا اے تے سالن یا چاول خراب ہو گئے ہہن۔
خان صاحب! کشمیر کا مسئلہ منسٹر انکلیو میں رہنے والے ایک مفت خورے مولوی نے اس دیگچی نوں دم تے چڑھایا ہوا ہے۔ ڈیمز کو نہ بننے دیکر سب پارٹیوں اور فنانشل "پارٹیوں" نے کے پی کے، سندہ اور بلکہ سب صوبوں میں اس پوزیشن میں لے آئے ہیں کہ اب تھر تو اپنی جگہ، پاکستان میں، زراعت اور دوسرے شعبوں میں تھرتھلی مچنے والی ہے ٹرینوں، بسوں اور موٹر ویز کے چکر میں ڈال کر کنسٹرکشن سے لیکر زمینوں کے کمیشن پچھلے چالیس سال سے کچھ نہیں ہوا سوائے کمیشن مافیا کے جس سے کسی نے لندن میں محل اور کسی نے اکیس اکیس پراپرٹیاں بنائی ہیں۔ ہسپتالوں کی کمی سے لوگوں کی نسل در نسل بلبلاتی رہی ہے پینے کے پانی کے بدترین معیار نے اگر زیادہ نہیں تو آدھی نسل کو بیمار اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہیپاٹائٹس، جلدی اور جسمانی بیماریوں کی بھرمار ہے۔
خان صاحب ! بائیس کروڑ یا زیادہ آبادی کے ملک میں سے صرف ایک صوبے میں دس کروڑ آبادی ھے۔ اور اس کو علیحدہ نہ کرنے کے پیچھے خالصتاً اپنی مفاد پرستی ،وسائل ہڑپ کرنا اور تقریبا سات کروڑ لوگوں کے وسائل چوری کر کے صرف اپنی سیٹوں کو پکا کیا گیا ہے اور ان کو شئیر پچیس فیصد آبادی پر لگایا گیا ہے۔ 
خان صاحب! انٹرنیشنل ریلیشن کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوئی ملک ان چوروں کو بچانے کو بھی تیار نہیں۔ حالانکہ ریڈ وارنٹ پہلے بھی تھے۔ انہوں نے پاکستان کے فارن مشنز کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی انتہا کر دی ہے اور اس کی پرائم مثال قطر، دوحہ اور امریکہ جیسے ملک میں بھی صرف ان لوگوں کو لگایا گیا ہے جو ان کو منی لانڈرنگ میں مدد دے سکیں۔۔۔ ان لوگوں کے پاس نہ تو کوئی ٹرینگ نہ تجربہ ہے تو وہ کیسے دنیا کے منجھے ہوئے سفیروں کے روپ میں ایجنسیز کے ایجنٹوں کو ٹیکل کر سکتے ہیں؟
ان کی واحد کوالیفیکشن صرف یہ کہ قطری خط، قطریوں کو شکار یا ان ہوس کے پجاریوں کے بیرون ملک دوروں کے وقت ان کی تفنن طبع کے انتظامات کریں اور خوشامدی ٹولہ بنے رہیں۔ ان کے انٹر نیشنل ریلیشن کے ساتھ زیادتی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ موجودہ برطانوی وزیراعظم اور سابقہ وزیر داخلہ کے ساتھ ملاقات میں نواز شریف کے ساتھ ایک ایسا آدمی بھی موجود تھا جو پاکستان کی عدالتوں میں چار قتل میں مطلوب تھا۔ بیرون ملک دوروں کے وقت ان کے اردگرد مالشئیے ٹائپ لوگوں کی موجودگی نے حقیقی ڈپلومیٹس کو بددل، بے دم اور تھکا دیا ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ملکوں میں صرف تماشا ھوتا ہے کوئی حقیقی کمرشل ایکٹیویٹی محال رہے ہے۔ یہ تو چین کی مہربانی سمجھیں یا آصف زرداری کا واحد کارنامہ یا چین کی اپنی مجبوری کہ اس نے اپنے بھاری فوائد کے عوض پاکستان کو کچھ فائدے دینا شروع کئے ہیں۔ ایران کے ساتھ غلط پالیسی سی بلوچستان کو نقصان اور گیس کی ڈیل کو سبو تاژکیا گیا اور سعودی عرب کو اتنی دفعہ ذاتی مفاد کی خاطر استعمال کیا کہ وہ بھی پاکستان کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
خان صاحب! گھوسٹ سکول، پولیس کا ناکام سسٹم جس کو سیاسی جماعتوں نے استعمال کیا، ہسپتالوں کی دگر گوں حالت، انتظامیہ کے اندر انتہائی کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں، بجلی کے پراجیکٹس میں کرپشن ،غیر معیاری کمپنیوں اور بد دیانتی سے کئے گئے فیصلوں کی وجہ سے مزدرو، ملیں اور بجلی سے چلنے والے کام، فیکٹریاں یا تو بند ہو چکی ہیں یا بنگلہ دیش، دبئی، ملائشیا یا کسی اور قریبی ممالک میں شفٹ ہو چکے ہیں یا پھر بد حالی کا شکار ہیں۔

خان صاحب! آئی ایم ایف سے اپنے تعیش اور کرپشن اور چور بازاری اور غیر ترقیاتی کاموں کے لئے لئے گئے قرضوں نے نکو نک کر دیا ہے اور پیارے پاکستان کا ہر پیارا بچہ، بزرگ قرضے کے بوجھ تلے دبا ہے۔ اب جبکہ آپ کو بمشکل کچھ ووٹوں کی برتری ملی ہے اور کامیابی نصیب ھوئی ہے تو یہ پرانے کھلاڑی گدھ کی طرح ارد گرد منڈلانا شروع ہو گئے ہیں۔ محمود مولوی ٹوائلیٹ میں یا کہیں گھات لگائے بیٹھا ہے کہ آپ دیگچی کو ہاتھ لگائیں اور وہ بے دم ہونے کا ورد شروع کرے اور چاول کی جگہ بھت یا سالن خراب ہونے کا الزام آپ پر لگائیں۔ اب سے آپ کو سنانا شروع کر چکے ہیں کہ آپ نے بجلی کا ریٹ کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ جی ہاں کیا تھا لیکن بجلی کی کمی اور اس ذلالت کا ذمہ دار کوئی اور تھا۔ پٹرول کی قیمت کم کریں گے، جی ضرور کریں سانس لو۔ صوبہ بنائیں گے یہ ایک قانونی اور انسانی حق ہے لیکن جہاں ستر سال صبر کیا ستر دن یا سات سو دن تو رکو۔ اب سے یہ پرانے کھلاڑی مظلومیت کی بکل مار کر کہیں گے پولیس کو ٹھیک نہیں کیا۔ انتظامیہ کو ٹھیک نہیں کیا، یہ نہیں کیا وہ کرنا ضروری تھا اور جلدی جلدی دیگچی سے ڈھکن اٹھانے پر مجبور کریں اور جس دیگچی میں وہ پچھلے ستر سال سالن نہیں بنا سکے اس کو الزام آپ پر سکیپ گوٹ بنا کر مڑھ دیں گے۔
خان صاحب! ان ووٹرز کا تو قصور نہیں جنہوں نے آپ پر بھروسا کیا ہے لیکن ووٹ آپ کو پیپلزپارٹی یا نونی مافیا سے نہیں ملا بلکہ عوام کی طرف سے ملا ہے۔ انہوں نے آپ پر اعتماد کیا ہے جب آپ نے ان کو بتایا اور بار بار بتایا کہ یہ پارٹیاں اپنی اپنی باریاں بنا کر ملک لوٹتے رہے ہیں اور آپ کے بچوں کا حق مارتے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں نے آپ پر اعتبار کیا ہے۔ آپ کو یہ سب اس لئے کہا ہے کہ انکے ٹریپ میں مت آئیں۔ اس کا حل اور لوگ بھی کہیں گے اور بہت سے مخلص لوگ کہیں گے۔ ھماری سمجھ کے مطابق انکو شٹ اپ کال دیں کہ تم نے ستر سال میں جو کچھ کیا ہے سب کو معلوم ہے، ایک دوسرے کو گھسیٹنے کے جھوٹے دعویٰ کرتے رہے، نورا کشتی دکھاتے رہے، اب چپ کرو اور ساتھ میں احتساب کے اداروں کو کھلا ہاتھ دیں۔ ان کی اسمبلیوں میں تعداد خود بخود آدھی رہ جائے گی کیونکہ ان میں سے ابھی تو بڑا چور پکڑا گیا ہے باقی سینکڑوں پکڑے جانے ہیں اور نا اہلیت ان کا مقدر بنے گی۔ ان شاء ﷲ
خان صاحب! لوگ آپ کو آئی ایم ایف سے بارہ بلین کا قرضہ لینے کا مشورہ دیں گے۔ پلیز ایسا نہ کریں، ضد کر جائیں ۔ آج بھی دنیا میں وہی لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایک سیٹ ہونے کے باوجود آپ کو کئی پراجیکٹس کے لئے اربوں کے فنڈ دئیے۔ آپ کہیں گے تو وہ اپنی جیبیں خالی کر دیں گے، فنانشل ایمرجنسی لگائیں۔ کھلاڑیوں کو کہیں کہ نمائشی میچ کھیل کر پیسے بنائیں، اداکاروں کو کہیں عوام میں نکلیں، ڈرامے کریں ،میلے لگائیں۔ نمائشی بازار لگائیں اور فنڈ ریز کریں۔ ایف بی آر اور دوسرے اداروں کے ذریعے قرضے معاف کرنے اور کروانے والو سے قرضے وصول کریں، سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق وصولی کریں۔ ایک ایمنسٹی کا اعلان کریں کہ ایک ماہ میں اگر پیسے واپس کردیئے تو کوئی مقدمہ نہیں ھوگا ورنہ گرفتاری اور ای سی ایل پر ڈالیں۔  اوورسیز پاکستانیو سے اپیل کریں وہ آپ پر اعتبار اور آپ سے پیار کرتے ہیں۔ ملک میں ہزاروں لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ مافیا قابض ہے، پولیس، فوج کی مدد سے اسے خالی کروائیں۔ ہزاروں عمارتیں اور سرکاری رہائش گاہیں جو صرف عیاشی کے اڈے ہیں انکو بیچنے کی بجائے لمبی مدت کے لئے سکولوں، فلیٹس اور امیوز پارک بنا کر نیلامی کروائیں اور لمبی گارنٹی منی اور کرایہ وصول کریں، قرضہ اتاریں اور لیز سے حاصل ہونے والی رقم سے غریبوں کا علاج اور رہائش کا انتظام کریں۔ گورنمنٹ کے اداروں پر ایمر جنسی لگا کر اخراجات کم کریں۔ تقریباً دوسو ممالک میں موجود بڑے بڑے دفاتر، اور رہائش گاہوں کے کرایوں سے نجات حاصل کریں اور ان میں کمرشل ایکٹیویٹی کروائیں اور پیسے کمائیں، زرمبادلہ ملک میں بھیجیں۔۔۔
اس کام کو کرنے کے لئے عوام کو اعتماد میں لیں اور کام ہوتا دکھائیں۔ جب سرگودھا کے ایس پی کی بیسویں کنال کوٹھی میں یونیورسٹی قائم ہوگی اور لیز پر دیں گے تو اسی سے عوام کا حوصلہ بھی بحال ہو گا اور کروڑوں کا فنڈ بھی۔ عوام کو اپنے بوجھ میں ملوث کریں۔ دوست، اپنے بھائی، اپنے بچے اور ساتھی صرف ٹھٹھے اڑانے کے لئے نہیں ہوتے، ایمرجنسی اور ضرورت کے وقت مدد اور نصرت کے لئے بھی ہوتے ہیں۔ بچے، جوان اور قابل ہوں اور پھر بھی والدین کے دن نہ پھریں تو یہ بات نہیں بنتی۔ اسلئے لوگوں کو ،جوانوں کو، بچوں کو، عورتوں اور بچیوں کو بتانا ضروری ہے کہ ووٹ دیا، مہربانی! لیکن صرف ووٹ دینا کافی نہیں قومی فریضہ یہ بھی ہے کہ آؤ مل کر پاکستان بنائیں اور ان مفاد پرست سیاستدانوں کو روز صبح کی اسپیشل نشریات کرکے بتائیں اور گنوائیں کہ یہ سب بکھیڑے تمہارے ہیں۔ یہ سب گند تم نے پھیلایا ہے، اس پر چور والا شور نہیں بلکہ شرمندگی محسوس کرو اور ملک کو سنوارنے میں میری مدد کرو۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس