0
0
0
تحریر: مریم کوثر

خبر خاصی پریشان کن اور افسوس ناک تھی جو مجھے اپنے دوست نوید کے ذریعے ملی تھی۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایسا ہو چکا تھا!۔ ۔ ۔ ۔ میں اطلاع کے متعلق سوچتا ہوا جمال چچا کے گھر کی طرف بڑھا۔ ۔ ۔ ۔ وہی جمال چچا۔ ۔ ۔ ۔ جو ہمارے محلے کی گلی کے نکڑ پر اپنے بال بچوں کے ساتھ کرائے کے ایک مکان میں رہتے تھے۔ مٹی کے برتن ریڑھی پر رکھ کر گلی گلی بیچنا ان کا کام تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ رنگ برنگے اور خوبصورت نقش و نگار والے برتن وہ اپنے گھر ہی میں تیار کرتے تھے۔

’’ ٹھک ٹھک ٹھک‘‘ میں جمال چچا کے دروازے پر دستک دینے کے بعد انتظار کرنے لگا۔

’’ جی انکل‘‘ جمال چچا کے دس سالہ بیٹے منور نے دروازہ کھولا۔

’’ ابا ہیں ؟‘‘ میں نے پوچھا

’’ جی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو بازار گئے ہوئے ہیں۔ ‘‘

’’ کب تک واپسی ہو گی؟‘‘

’’ بتا کر نہیں گئے۔ ۔ ۔ ۔ اندازاً بارہ ایک بجے تک آ جائیں گے۔ ‘‘

’’ کوئی پیغام ہو تو دے جائیں میں انہیں بتا دوں گا‘‘

’’ انہیں بتا دینا کہ میں آیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’ تم آج اسکول نہیں گئے۔ ۔ ۔ خیر تو ہے ؟‘‘ اچانک مجھے خیال آ گیا۔

’’ جی بس ایسے ہی نہیں گیا۔ ‘‘ منور نے گول مول سا جواب دیا لیکن میں نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ مجھ سے کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

’’ اچھا۔ ۔ ۔ اب میں چلتا ہوں۔ ۔ ۔ ابا کو یاد سے میرا بتا دینا۔ ‘‘

’’ آپ فکر نہ کریں۔ ۔ ۔ ۔ ان کے گھر آتے ہی میں انہیں آپ کے متعلق بتاؤں گا۔ ‘‘

منور نے کہا اور میں سوچوں میں گم اپنے گھر لوٹ آیا۔

مجھے دوبارہ جمال چچا کے گھر جانے کی ضرورت نہ پڑی وہ مجھے مسجد میں مل گئے۔ نماز سے فارغ ہو کر ہم دونوں اکٹھے ہی باہر نکلے۔ ’’ چچا! میں نے جو سنا ہے کیا وہ واقعی سچ ہے ؟‘‘ میں نے بات شروع کرتے ہوئے کہا۔

’’ کیا سنا تم نے ؟‘‘ جمال چچا نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا۔ ’’ یہی کہ آپ نے منور، انور اور سعید کو اسکول سے اٹھا لیا ہے۔ ‘‘ میں نے اپنے سوال کی وضاحت کی۔

’’ ہاں۔ ۔ ۔ ۔ اگر تم نے یہ بات سنی ہے تو بالکل صحیح سنی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ ایسا آپ نے کیوں کیا؟ انہیں ساتھ لے کر مسجد کے قریب واقع پارک میں آ گیا۔ ‘‘

’’ مجھے ایسا کرنا تو نہیں چاہیے تھا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ جو کیا ہے مجبوراً کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

جمال چچا کے لہجے میں دکھ جھلک رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ قدرے توقف کے بعد بولے ’’ تمہیں تو پتہ ہے نا کہ میں نے اپنے بڑے بیٹے علیم کو کتنی مشکلوں سے پڑھایا لکھایا چودہ جماعتیں اس نے پاس کیں۔ ۔ ۔ ۔ تین سال ہونے کو آ رہے ہیں اسے نوکری کے لئے دھکے کھاتے ہوئے۔ ۔ ۔ میں نے سوچا تھا کہ اسے کام مل جائے گا تو ہمارے مسائل کافی حد تک حل ہو جائیں گے۔ ۔ ۔ میرا بوجھ بھی کچھ کم ہو جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا وہ چند لمبے لمبے سانس لے کر دوبارہ گویا ہوئے ’’ وہ جہاں جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ اسے تاریخ دے دی جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ دوبارہ ملنے پر پھر نئی تاریخ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ نوکری کے لئے سفارش چلتی ہے وہ مجھ جیسے غریب آدمی کے پاس کہاں۔ ۔ ۔ ۔ موٹی رقم مانگی جاتی ہے وہ میں دے نہیں سکتا۔ ۔ ۔ ۔ یہ دونوں چیزیں تو ہم جیسے لوگوں کے پاس ہوتی ہی نہیں۔ ۔ ۔ ۔ اسی لئے ہمیں ہر جگہ سے مایوس کر دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ جبکہ ہمارے ایک کھاتے پیتے رشتہ دار کے دونوں میٹرک پاس بیٹے پیسہ کھلا کر سرکاری نوکر ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ ایک اور رشتہ دار کا بیٹا ایف اے کی جعلی سند حاصل کرنے کے بعد سفارش کے ذریعے ملازم ہو گیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ جمال چچا کی ایک ایک بات سے سچائی ٹپک رہی تھی۔ ‘‘

’’ احمد بھائی کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود گزشتہ دو سال سے بے روزگار پھر رہا ہے۔ ۔ ۔ اس بے چارے نے ہر محکمے میں درخواست جمع کرائی لیکن کہیں بھی اس کی قدر نہیں کی گئی اس کے والدین بوڑھے ہیں جبکہ دونوں بہنوں کی شادی کا مسئلہ اس کی نوکری کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ ثاقب صاحب کے چار بیٹے ایک انگلش میں ایم اے، دوسرا بی اے، تیسرا ایف ایس سی ہے اور چوتھے نے میٹرک کے بعد ٹیچر کا کورس کیا لیکن چاروں بیکار بیٹھے ہیں بہت کوششیں کیں لیکن ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب کچھ دیکھ سن کر میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراً تینوں کو سکول سے اٹھا لیا ہے اب انہیں بھی اپنا کام سکھاؤں گا‘‘ جمال چچا نے میرے سوال کا دلائل سے بھرپور جواب دیتے ہوئے آئندہ کا منصوبہ بھی بتا دیا۔

’’ چچا کیا آپ اپنا فیصلہ بدل نہیں سکتے ؟‘‘

’’ انہوں نے جواباً، نفی میں سر ہلایا کیوں ؟‘‘ ’’ بیٹے تمہیں ہمارے اندرونی حالات کا پتہ نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ تم شاید دو ماہ بعد گاؤں سے لوٹے ہو۔ ۔ ۔ ۔ ؟ انہوں نے میری طرف دیکھا۔ ‘‘

’’ جی۔ ۔ ۔ ۔ اندازاً اتنا ہی عرصہ ہوا ہے۔ ‘‘

تمہارے گاؤں جانے کے تین چار دن بعد علیم بیمار ہو گیا۔ ۔ ۔ ۔ پے در پے ناکامیوں۔ ۔ ۔ اور طرح طرح کی سوچوں نے اسے ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ ایک دو بار تو اس نے بڑے افسردہ انداز میں کہا ابا اگر ہمارے مذہب میں خود کشی حرام نہ ہوتی تو میں یہ کام کر گزرتا کیونکہ اب روز جینے روز مرنے سے تنگ آ چکا ہوں ابھی چند دن ہوئے میں گھر پر نہیں تھا تو اس نے اپنی ڈگری اور سارے تعلیمی کاغذات کو جلا کر راکھ کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یہ خبر سن کر دکھ تو بہت ہوا لیکن میں کیا کر سکتا تھا۔ کہتے کہتے جمال چچا کی آواز بھرا گئی۔ ۔ ۔ ۔ وہ رو رہے تھے میری آنکھیں بھی بھیگنے لگیں۔ ۔ ۔ ان کے دل کا دکھ میرے دل میں بھی اتر آیا تھا میں اندر سے ہل گیا تھا۔ ۔ ۔ اور پھر اسی لمحے میں نے بھی ایک فیصلہ کر لیا۔ ۔ ۔ ۔ جب میں نے اس کے متعلق جمال چچا کو بتایا تو ان کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے کئی رنگ بکھر گئے !۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔ ۔ ۔ اور پھر۔ ۔ ۔ ۔ جب اگلے دن کا سورج طلوع ہوا تو جمال چچا اپنے تینوں بچوں کو ساتھ لیے سکول جا رہے تھے !۔ ۔ ۔ 

ان کے تینوں بچوں کی تعلیم کے اخراجات ہماری تنظیم نے اپنے ذمے لے لیے تھے۔ ۔ ۔ غریب و نادار طالب علموں کی فلاح و بہبود اور ان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنرمند بنانا اس کے بنیادی مقاصد ہیں۔ ۔ ۔ اب منور، انور اور سعید دن کو سکول جاتے ہیں شام کو ہماری تنظیم کے تحت قائم ٹیوشن سینٹر میں انہیں فری کوچنگ دی جاتی ہے اس کے بعد ایک فنی ماہر ان کو دوسرے بچوں کے ساتھ فنی تربیت دیتا ہے۔ علیم کا مسئلہ بھی ہماری تنظیم کے ایک رکن نے حل کر دیا ہے !

ہم سب بہت خوش ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں جو بھی کام خالص ﷲ کی رضا کے لئے کیا جائے اﷲ نہ صرف اس میں کامیابی دیتا ہے بلکہ حقیقی سکون بھی دیتا ہے۔ ۔ ۔ ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس