0
0
0
تحریر: انعم اسلم

پیارے بچو! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی میں ایک امیر آدمی جس کا نام یوسف تھا رہتا تھا۔ اس کا اکلوتا بیٹا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد سے اس کے والدین بہت پیار کرتے تھے۔ احمد کو بچپن ہی سے کیلے بہت پسند تھے اور وہ روزانہ کیلے کھاتا تھا اس کے ابو بلا ناغہ اس کے لیے کیلے لے کر آتے تھے۔ ایک دن شہر سے سبزی فروٹ لانے والے کیلے نہ لے کر آئے۔ احمد کے ابو بہت پریشان تھے کہ آج شام کو اگر کیلے نہ لے کر گیا تو وہ ناراض ہو کر کچھ بھی نہیں کھائے گا۔ مجبوراً وہ شام کو بہت سارے آم اور سیب انگور لے کر گھر گئے۔ احمد نے فوراً سارے پھلوں میں سے کیلے تلاش کیے تو کیلے نہ ملے۔ احمد کے ابو نے کہا کہ آج کیلے دکان سے نہیں ملے میں تمہارے لیے دوسرے پھل لے آیا ہوں تم وہ پھل کھالو۔ مگر احمد نے کسی پھل کو ہاتھ تک نہ لگایا اور ناراض ہو گیا۔ رات  کے کھانے پر اس کی ماں نے کھانا کھلانے اور دودھ پلانے کی بہت کوشش کی مگر احمد نہ مانا اور ضد کرتا ہوا سو گیا۔ صبح بھی احمد ناشتہ کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس کے ابو صبح سویرے ہی اپنے تمام کام چھوڑ کر کیلے خریدنے شہر روانہ ہو گئے۔ مگر انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ انہیں کہیں سے بھی کیلے نہ مل سکے احمد کے سامنے کھانے پینے کی تمام چیزوں کے ڈھیر لگا دیے گئے مگر وہ بضد رہا۔ اس رات کو بھی ماں کی بہت کوشش کے باوجود بغیر کچھ کھائے پیے سو گیا بھوک کی وجہ سے اس کی حالت بہت بر ی تھی۔ رات کو اس کی آنکھ کھلی تو وہ بستر پر کروٹیں بدلنے لگا تھوڑی دیر بعد اچانک اس کے کمرے میں بہت زیادہ دھواں بھرنے لگا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ دھواں کہاں سے آ رہا ہے۔ آناً فاناً اس کا کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔ احمد سے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ اس دھوئیں میں ایک خوفناک شکل ابھری اور جو احمد کے سامنے تھی۔ اور احمد اسے دیکھتے ہی ڈر گیا۔ احمد بولا تم کون ہو۔ جواب آیا میں دھوئیں والا جن ہوں۔ احمد نے پوچھا تم یہاں میرے کمرے میں کیوں آئے ہو۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ جن نے جواب دیا مگر کہاں احمد نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔ جن بولا۔ تم نے کیلے کھانے ہیں نا۔ تم نے اپنی ضد کی وجہ سے اپنے والد کو پریشان کر رکھا ہے اب میں تمہیں کیلے کھلانے لے جاؤں گا۔ دھوئیں والے جن نے احمد کو پکڑ کر اپنے ہاتھ پر بٹھایا اور غائب ہو گیا۔

کچھ دیر احمد نے خود کو ایک باغ میں پایا جس میں ہر طرف کیلے کے درخت تھے۔ لمبے لمبے اونچے دیو ہیکل درخت تازہ کیلوں سے بھرے ہوئے تھے احمد نے کیلے دیکھے تو حیران رہ گیا۔ ایک ایک کیلا ایک ایک آدمی کے برابر تھا۔ دھوئیں والا جن بولا تمہیں شوق ہے کیلے کھانے کا اب اپنا شوق پورا کرو۔ اور کیل جی بھر کے کھاؤ۔ احمد نے مجبوراً ایک کیلے کو درخت سے کھینچا۔ کیلا کھینچتے ہوئے وہ خود بھی گر ا اور کیلا بھی احمد کے اوپر آ گرا احمد بڑی مشکل سے اس کے نیچے سے کا۔ دھوئیں والا جن دھواں پھیلائے کھڑا ہنس رہا تھا۔

احمد نے ایک طرف سے کیلا چھیلنے کیکوشش کی، چھال سخت تھی۔ اس کوشش میں احمد پسینے سے شرابور ہو گیا۔ آخر کار احمد نے کیلا کھانا شروع کیا کیلا میٹھا تو تھا ہی مگر اتنے بڑے کیلے کا تھوڑا سا حصہ کھا کر احمد کا پیٹ بھر گیا مگر دھوئیں والا جن چیخا اور کھاؤ ابھی تو تمہیں اس باغ کے سارے کیلےکھانے ہیں۔ احمد بڑی مشکل سے کیلا پیٹ میں ٹھونس رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یا ﷲ میں کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔ کاش میں اپنی امی اور ابو کو تنگ نہ کرتا۔ کاش میں ضد نہ کرتا تو آج مجھے یہ سزا نہ ملتی۔

احمد نے بڑی مشکل سے آدھا کیلا ختم کیا اور باغ میں ڈھیر لگے ہوئے کیلے دیکھ کر احمد کا سر چکرا گیا۔ دھوئیں والے جن نے احمد کو اٹھایا اور چھلکے میں لٹا کر بند کر دیا اور کہا اب تم ہمیشہ اس چھلکے میں بند رہو گے۔ اور چھلکا اٹھا کر درخت کے ساتھ لٹکا دیا۔ احمد اپنے آپ کو چھلکے کے اندر بہت بے چین محسوس کر رہا تھا۔ احمد نے چھلکے سے نکلنے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا چھلکے میں اندھیرا ہی اندھیرا تھا احمد اپنے امی ابو کو پکار رہا تھا۔ اچانک اسے اپنی امی کی میٹھی آواز سنائی دی۔

احمد بیٹا۔ احمد بیٹا۔

کیوں شور مچا رہے ہو۔ اٹھو دیکھو تمہارے ابو کیلے لائے ہیں۔ احمد نے آنکھ کھولی تو وہ اپنے کمرے میں تھا۔ نہ  بڑے بڑے کیلوں والا باغ تھا اور نہ ہی کوئی دھوئیں والا جن۔ 

احمد کی امی کیلے اٹھائے کھڑی تھیں ۔ احمد اٹھا اور بولا امی مجھے معاف کر دیں میں آئندہ کبھی بھی آپ کو تنگ نہیں کروں گا۔ امی ابو حیران تھے کہ احمد کو اک رات میں کیا ہو گیا ہے اور احمد سوچ رہا تھا کہ یا خدایا شکر ہے وہ ایک خواب تھا۔ اگر ساری عمر کیلے کے چھلکے میں رہنا پڑتا تو کیا حال ہوتا۔

تو پیارے بچو ہمیں اپنے والدین کی بات ماننی چاہیے اور بے جا ضد نہیں کرنی چاہیے اور زندگی میں کسی چیز کو اپنی مجبوری یا کمزوری نہیں بنانا چاہیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب نعمتوں کو شکر ادا کر کے کھانا چاہیے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس