0
0
0
تحریر: شاہنواز سرمد

نوعمر شہزادہ جہانزیب انتہائی بدتمیز اور اکھڑ مزاج اور شرارتی تھا، وہ ہر وقت محل میں بھگدڑ مچائے رکھتا پورے ملک میں شاید ہ کوئی اس جیسا بدتمیز بچہ ہو۔

منظر:  شہزادہ کھانے کی میز پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے قریب دو کنیزیں کھڑی ہیں شہزادے کے سامنے سو پ کا پیالہ پڑا ہے۔

شہزادہ:  (چلاتے ہوئے ) میرے سوپ میں سبز پتا ہے یہ مجھے نہیں چاہیئے۔

کنیز:  لیکن شہزادہ محترم یہ پالک کا سوپ ہے اور ا س میں سبز پتا پالک کا ہے۔

شہزادہ:  مجھے گلابی پالک والا سوپ چاہیئے،لے جاؤ اسے (شہزادہ سوپ کا پیالہ اٹھا کر آگے بڑھا اور پیالہ زمین پر دے مارا)

بادشاہ اور ملکہ دوسرے کمرے میں سب آوازیں سن رہے تھے۔ ملکہ شہزادے کے رویے سے پریشان تھی جب کہ بادشاہ سخت غصے میں تھا۔

بادشاہ: (سخت غصے سے ) اس کا علاج پٹائی ہے۔

ملکہ:  (سرگوشی میں ) آہستہ بولیے کہیں اس نے سن لیا تو پھر چھت پر چڑھ کر کودنے کی دھمکی دے گا۔

(شہزادے کو چھیڑنے کی کسی کو ہمت نہیں ہوتی تھی کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں شہزادہ چھت پر چڑھ جاتا اور کودنے ک دھمکی دیتا اور یہ دھمکی صرف دھمکی نہیں ہوتی)

منظر :  شہزادہ وزیر کی کمر پر سوا ر ہے جبکہ وزیر نڈھال ہو رہا ہے۔

وزیر:  شہزادہ محترم آدھی رات کا وقت ہے مہربانی کر کے سوجائیں اور مجھے بھی سونے دیں۔

شہزادہ:  (وزیر کا کان پکڑے ہوئے ) مجھے نہیں سونا تم میرے ساتھ گھوڑا گھوڑا کھیلو۔

ایک دن بادشاہ اور ملکہ شہزادے کی حرکتوں پر نہایت پریشان بیٹھے کوئی حل سوچ رہے تھے کہ اچانک ایک پری نمودار ہوئی۔

پری:  اسلام علیکم بادشاہ سلامت آپ پریشان کیوں ہیں ؟

بادشاہ اور ملکہ پری کو شہزادے کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہیں۔

پری:  میں آپ کا مسئلہ حل کر دوں گی لیکن اس کے لیے شہزادے کو چند دن کے لیے میرے ساتھ چلنا ہو گا۔ کیا آپ اس بات کی اجازت دیتے ہیں ؟

بادشاہ :  اگر اس طرح شہزادہ ٹھیک ہو سکتا ہے تو مجھے کیا اعتراض ہے۔

پری نے شہزادے کو سوتے میں اٹھایا اور غائب ہو گئی۔ شہزادے کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو پری کے ساتھ ہوا  میں اڑتے دیکھا۔

شہزادہ:  ہم کہاں جا رہے ہیں ؟

پری:  ایک بہت خوبصورت جگہ پر جہاں جا کر تم بہت خوش ہو گے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک زرعی فارم پر اتر گئے جہاں باڑے میں بھیڑیں اور دوسرے جانور نظر آ رہے تھے۔

شہزادہ:  یہ جگہ تو بالکل بھی خوبصورت نہیں ہے۔

لیکن اتنے میں پری غائب ہو چکی تھی اور شہزادہ بھیڑوں کے درمیان باڑے میں اکیلا رہ گیا تھا۔

شہزادہ: (چلاتے ہوئے ) پری واپس آ جاؤ تمہیں جرات کیسے ہوئی مجھے اس گندے فارم میں چھوڑ جانے کی۔

شہزادے کی آواز سن کر فارم کا مالک کسان اور اس کی بیوی کھڑکی سے جھانکتے ہیں۔

کسان:  یہ کون اتنی زور سے چیخ رہا ہے ؟

کسان کی بیوی:  یہ تو باڑے میں کام کرنے والا گندا سا لڑکا دکھائی دیتا ہے۔

لڑکے اندر آؤ(کسان کی بیوی شہزادے کو آواز دیتی ہے )

شہزادہ ان دونوں کی باتیں سن کر برہم ہو تا ہے اور دانت پیستے ہوئے کھڑکی کے قریب آ جاتا ہے۔

شہزادہ:  میں باڑے میں کام کرنے والا لڑکا نہیں ہوں، میں شہزادہ ہوں۔

کسان:  (طنزیہ لہجے میں ) ہاں …ہاں یقیناً تم شہزادے ہو اور میں ٹمبکٹو کا بادشاہ(غصے سے ) باتیں کرنا بند کرو اور اندر آؤ۔

شہزادہ:  (پاؤں پٹختے ہوئے ) اسے جرات کیسے ہوئی میں اسے دیکھ لوں گا (یہ کہتے ہوئے شہزادہ اندر داخل ہوتا ہے)

کسان:  (شہزادے کے گال چھوتے ہوئے ) پیارے لڑکے کیا تم خود ہی باڑے میں کام شروع کرتے ہو یا میں شاہی چابک سے تمہیں کام کراؤں۔

شہزادہ : خود کو بہت بے بس محسوس کر رہا تھا۔

کسان نے شہزادے کو بازو سے پکڑا اور باڑے میں دھکیل دیا۔

کسان:  باڑے کی صفائی کرو اور جانوروں کے لیے چارہ اٹھا کر لاؤ۔

شہزادہ:  (ناک سکیڑتے ہوئے ) یہاں کتنی گندی بو ہے۔

کسان:  باڑے میں کام کرنے والوں کو گلاب کی خوشبو سونگھنے کو نہیں ملتی بلکہ انہیں اسی بو کا عادی ہونا پڑتا ہے۔

شہزادہ کام کرنے کی بجائے چھت پر چڑھ جاتا ہے۔

شہزادہ:  میں کام نہیں کروں گا۔ میں چھت سے کود جاؤں گا۔

کسان:  (شہزادے کی بات سن کر اپنی بیوی اور بچوں کو یہ آواز دیتا ہے )

جلدی آؤ! یہ لڑکا ہمیں کرتب دکھانے لگا ہے۔

سب بھاگ کر آتے ہیں اور شہزادہ چھلانگ لگا دیتا ہے۔ لیکن گھاس پر گرنے کی وجہ سے اسے چوٹ نہیں آتی۔ کسان اس کی بیوی اور بچے تالیاں بجاتے ہیں اور قہقہے لگاتے ہیں۔

بیچارے شہزادے کی زندگی میں پہلی بار کوئی اس پر ہنسا تھا۔

کسان:  (شہزادے کو بازو سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے غصے سے چلاتا ہے )

کھیلنا بند کرو اور کام شروع کرو۔

شہزادہ سارا دن کسان کی نگرانی میں کام کرتا ہے اور وہ بارے کی صفائی کرتا ہے اور جانوروں کے لیے چارہ لاتا ہے اتنا کام کر کے شہزادہ تھک جاتا ہے۔ لیکن کسان اسے مزید کام بتا دیتا ہے۔

شہزادہ: (تھکے ہوئے لہجے میں ) کیا میں کچھ دیر آرام کر سکتا ہوں ؟

کسان:  (سخت لہجے میں ) نہیں ابھی بہت کام باقی ہے۔

اتنے میں کھانے کا وقت ہو جاتا ہے اور کسان کی بیوی کھڑکی سے آواز دیتی ہے۔

کسان کی بیوی:  ہاتھ دھو لو اور اندر آ جاؤ

منظر:  کھانے کی میز کے گرد کسان اس کی بیوی بچے اور شہزادہ بیٹھا کھانا کھا رہے ہیں۔

شہزادہ سخت بھوکا ہونے کی وجہ سے ندیدوں کی طرح کھاتا ہے۔

کسان کی بیوی:  (شہزادے سے مخاطب ہو کر حیرت سے کہتی ہے ) کیا تم نے پہلے کبھی پالک کا سوپ نہیں پیا جو اب ندیدوں کی طرح پی رہے ہو۔

شہزادہ:  (پالک کے سوپ کا سن کر حیران ہوتا ہے کیونکہ محل میں اس نے پالک کا سوپ ٹھکرا دیا تھا) یہ پالک کا سوپ ہے ؟ یہ تو بہت مزے کا ہے۔

کھانے کے بعد کسان شہزادے کو ٹوکری پکڑاتا ہے۔

کسان:  جاؤ شلجم کے کھیت سے شلجم لے کر آؤ۔

مزید کام کا سن کر شہزادے کی آہ نکل جاتی ہے۔

سارا دن اسی طرح کام کرتے گزر گیا اور تھکا ہارا شہزادہ باڑے میں سکون سے سویا۔ اگلا دن بھی اسی طرح کام کرتے گزرا اور پھر تو یہ معمول بن گیا۔

منظر:  شہزادہ تالاب کے کنارے بیٹھا تالاب میں پتھر پھینک رہا ہے اور سوچ رہا ہے کہ وہ اب شاید کبھی اپنے ماں باپ کے پاس واپس نہ جا سکے گا یہ یقیناً اس کے برے رویے کی سزا ہے وہ ﷲ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ ﷲ تعالیٰ اسے گھر پہنچا دیں۔ اسی رات پری دوبارہ ظاہر ہوتی ہے۔

شہزادہ:  پری تم کہاں چلی گئی تھیں مجھے یہاں سے لے جاؤ۔

پری: شہزادے تم بدلے بدلے لگ رہے ہو تمہارے چہرے پر جو برہمی رہتی تھی وہ ختم ہو چکی ہے۔

شہزادہ:  (شرمندہ اور روتے ہوئے ) ہاں میں بدل چکا ہوں تم مجھے گھر لے چلو۔

پری شہزادے کو اس کے گھر واپس لے آتی ہے۔

منظر :شہزادہ ایک بار کھانے کی میز پر موجود ہے اور قریب ہی بادشاہ ملکہ اور وزیر کھڑے ہیں حیرت سے شہزادے کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ اب وہ اطمینان سے کھانا کھا رہا ہے۔

ملکہ:  (بادشاہ کے کان میں سرگوشی کرتی ہے ) ہمارا بیٹا بہت بدل گیا ہے۔

بادشاہ:  ہاں اللہ کا شکر ہے۔

وزیر:  ﷲکا شکر ہے اب مجھے آدھی رات کو گھوڑا نہیں بننا پڑے گا۔

سب لوگ قہقہہ لگاتے ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس