0
4
3
تحریر: ڈاکٹر تہمینہ اقبال

جب ہر عورت کا سیدھا انگوٹھا نیلے رنگ کی سیاہی سے سجا تھا وہاں میرے ہاتھ کے سیدھے انگوٹھے پر چھالے کا نشان تھا جو بطور اسسٹنٹ پریذائیڈنگ آفیسر 350 سے زائد ووٹ انتہای ایمانداری سے کاسٹ کرنے پر گواہی دے رہا تھا۔۔ آج پورے چھ دن بعد یہ چھالہ خشک ھو گیا۔۔ اسکا نشان بھی کچھ دن بعد ختم ھو جاے گا لیکن میں وہ لمحات کبھی نہیں بھول پاؤں گی جب کئی دنوں سے بند دور مانگا کے ایک پسماندہ علاقے کے ایک سکول کے گھٹن زدہ کمرے میں شدید حبس کے موسم میں صرف ایک مدھم انرجی سیور اور ایک پنکھے (جو دعاؤں کے بعد الیکٹریشن نے چلایا) کے ساتھ نہایت غریب اور ان پڑھ خواتین (زیادہ تو بوڑھی اور لاغر) کے امڈتے ھوے ھجوم میں لگاتار 8گھنٹے بغیر کھائے پیئے، سر اٹھائے، میں اس قوم کی خدمت میں مصروف تھی۔۔(اور میری طرح ہزاروں اور) الحمدﷲ۔۔
وہ قوم جس کو اپنے حقوق کی قطعا کوئی آگاہی نہیں ھے (میں یہاں majority کی بات کر رہی ھوں جو آج بھی دیہاتوں اور قبائلی علاقوں میں رہتی ھے) جسکو شاید یہ بھی نہیں پتا کے انکو انکا دین اور آئین کیا کیا حق دے چکا ھے اور جو آج تک اقتدار کے بھوکے گدھوں سے اپنے آپ کو نوچواتی آئی ھے۔۔
اگر 70 سال بعد اس قوم نے تھوڑا شعور سے کام لیکر ان گدھوں کو اور انکی بدبودار نحوست کو خود سے دور کیا ہی ہے تو وہ گدھ آج پاگل پن کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔۔ انکے منہ سے بلکل پاگل کتے کی طرح غصے اور نفرت کی رالیں ٹپک رہی ہیں۔۔ انکے غرور کے سر کچھ خاک میں ملے ہیں اور کچھ ابھی ملنا باقی ہیں۔۔ شدید دکھ ھوتا تھا جب تعفن زدہ، استعمال شدہ اور برسوں کے آزمائے ھوئے منافقین کو ان پڑھ غریب لوگ محض اس لیے دوبارہ چن رہے تھے کے ان کو غریب اور ان پڑھ رکھا ہی اس لیے گیا تھا کے وہ اپنے بنیادی حقوق سے ناآشنا ھو کر بے شعوری کی حالت میں فیصلہ کریں۔۔ جو درحقیقت فیصلہ نہیں تھا۔۔ اندھی، جاہلانہ تقلید تھی۔۔ اور سواسیر یہ کہ بہت سے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں نے بھی ذاتی، کاروباری، سیاسی اور خاندانی وابستگی کی بناء پر کوڑے کے ڈھیر کو ہی فوقیت دی۔۔
میرا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں ھے۔۔ میں صرف اس ملک کے لیے مخلص، سچا، نڈر اور دیانت دار راہنما چاہتی ھوں،،  وہ چاہے عمران خان ھو یا کوئی اور لیکن یہ چلے ھوئے کارتوس ہرگز نہیں۔۔۔ جو اپنی ماں (وطن) کے ساتھ مخلص نا ھوں جو اسکی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کرنے والے محافظوں (بالخصوص پاک افواج) کے بارے میں دل میں بغض رکھتا ھو اور یہاں تک کہ اس ملک کے دشمنوں کے ساتھ اس قوم کی غیرت کا سودا کرتا ھو، جسکو اپنا اور اپنے خاندان کا مفاد سب سے زیادہ عزیز ھو، جو دنیا بھر میں اس قوم کی عزت کو نیلام کرتا ھو، جو برسوں اقتدار میں رہنے کے باوجود اپنے علاقوں میں معصوم لوگوں کی غربت، بے چارگی اور جہالت کو کیش کرتا ہو، جو سچے جزبات کو exploit کرتا ہو، جو طاقت میں ہونے کے باوجود انصاف فراہم نا کر سکتا ہو، جو پینے کا صاف پانی اور صاف ہوا تک چھین لے، جو صرف قوم کو تالیاں اور نعرے لگوانے والا تماش بین بنا دے، جو بنیادی تعلیم اور صحت کا سودا کرتا ہو، جو نوجوان اذہان کو انکے اپنے ہی نظریاتی وجود کے بارے میں شک میں مبتلا کرتا ھو، جو اقربا پروری کی بے مثال روایت ڈالتا ھو،، جو نمود و نمائش کا رسیا ھو، محلات کا دلدادہ ھو۔
ایسے کمینے، بے حس، لالچی، جھوٹے بیمار ذہنیت اور بے دین لوگوں کا جمہوریت جیسے بودے نطام سے دوبارہ چناؤ سے بہتر ھے کہ خود کو چوک میں کھڑا کر کے ایک ہی بار خود کو بیچ دیا جائے۔۔۔ آستینوں کے سانپوں کو یہ قوم کب تک دودھ پلائے گی۔۔ اور خود کو کتنا ڈسواے گی۔۔
مجھے نہیں پتہ "نیا پاکستان" کیسا ھوگا؟؟
میری امید وہ پاکستان ھے جو شاعرِ مشرق علّامہ اقبالؒ نے perceive کیا تھا، جسکے لیے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جدوجہد کی تھی، جسکے لیے مجھ جیسی لاکھوں عورتوں نے اپنا سب کچھ گنوا دیا تھااور جس کے لیے ابھی تک لاکھوں پاکستانی بشمول پاک افواج کے اپنا خون بہا چکے ہیں۔۔
نوچ نوچ کر جتنا کھا سکتے تھے اس ملک و قوم کو کھایا، اقتدار کے بھوکے گدھوں نے۔۔ اک امید ھے کے شاید 70 سال کے بعد اب ان گدھوں کی طاقت محض منڈلانے تک ھو گی اور مزید آنے والے وقت میں انکا مکمل صفایا ممکن ھو سکے گا۔۔۔۔
انگوٹھے کا یہ نشان اس عمل کی گواہی ھے کے ھم اس پاک سر زمین کو واقعی اب پاک دیکھنا چاہتے ہیں!!
کم از کم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے!!
 ان شآء ﷲ

پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس