0
0
0
تحریر: شہبازسعید

مضبوط وزیراعظم بننے کے باوجودعمران خان کو چیلنجزکا سامنا رہے گا

عمران خان کا وزیراعظم بننے کا خواب تو انکی محنت اور لگن سے یقیناً پورا ہوگیا مگر اقتدار کی مسند ان کیلئے پھولوں کی سیج سے زیادہ کانٹوں کا بستر ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ ملک اور عوام کا مقدر بدلنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور نئے پاکستان کے داعی ہیں تو انہیں اس کیلئے پھولوں کی سیج کے بجائے کانٹوں کا بستر قبول کرنا ہوگا۔ مضبوط اپوزیشن بھی انہیں یقیناً چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔
عام انتخابات کسی بھی ملک کے نظام کو رواں رکھنے اور مستقبل کی حکومت سازی کے لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا تسلسل اور منصفانہ ہونا ناگزیر ہے۔ انتخابی نتائج تو سامنے آ چکے ہیں مگر شکست کھانے والی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کے منصفانہ اور شفاف انعقاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، متحدہ مجلس عمل اور پیپلز پارٹی نے انتخابات میں انجینئرنگ دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں جبکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں 25جولائی کو شفاف اور صاف عام انتخابات ہوئے اس حوالے سے انھیں کسی بھی حلقے سے منظم دھاندلی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ لیکن ہارنے والی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بعد صورت حال وہی رنگ و روپ اختیار کر سکتی ہے جب 2013ء کے الیکشن کو تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے انھیں متنازعہ بنا دیا تھا۔
اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ کا غیرمعمولی اجلاس پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو ہوا جس میں دھاندلی کی شکایت کرنے والی سیاسی جماعتوں سے رابطے اور دھاندلی کو ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بحث کی گئی۔ اس موقع پر شہباز شریف نے توصاف کہہ دیا کہ مسلم لیگ ن مرکز میں مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی اور ہمارے ارکان اسمبلی حلف بھی اٹھائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن )کے صدر نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے پنجاب اور مرکز میں مینڈیٹ دیا ہے ، اسمبلیوں کا بائیکاٹ بالکل نہیں کریں گے، احتجاج کرتے رہیں گے اور تحفظات کا اظہار بھی ہوگا۔

مسلم لیگ ( ن ) کو فیصلہ کرنے میں یوں بھی آسانی ہوئی کہ یورپی یونین مبصر اور دوسرے اداروں نے یہ کہا ہے کہ الیکشن ڈے کو کسی قسم کوئی بے ضابطگیاں نظر نہیں آئیں۔

تاہم اس کے برعکس آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے والے جماعتوں نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات مسترد کر دیئے۔اسلام آباد میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس کی سربراہی متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ دوبارہ انتخابات چلانے کیلئے تحریک چلائیں گے۔ ہم ملک میں جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں، جمہوریت کو یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔
یاد رہے کہ اے پی سی میں ایم کیو ایم (خالد مقبول) اور پیپلز پارٹی شرکت سے انکار چکی ہیں اب جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے بھی پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ حلف بھی اٹھائیں گے اور اسمبلی میں بطور اپوزیشن بھی بیٹھیں گے۔ اس کے بعد اے پی سی کی کوئی خاص اہمیت رہ نہیں جاتی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس