0
0
0
تحریر: مشتاق بخاری

ارے صاحب ، جانے دیجئے نا ! خدا راہ اب غصہ تھوک دیجئے۔ رم جھم کا حسین موسم ہے۔ اتنے حسین موسم کو اپنی زہرافشانی سے تلخ مت کیجئے۔ اس حقیقت سے کون انکاری ہے کہ پچھلے چند دنوں میں آپ نے بہت محنت کی ہے۔ کیسے کیسے لوگوں کے درمیان جانا پڑا ہے۔ کہاں آپ کی پر تعیش زندگی ، سٹیٹس اور کہاں بیچارے دھول سے اٹے ہوئے پسینے سے شرابو ر، بدبودار لوگ۔۔۔
آپ کی طبع نازک اس طرح کی محنت کی بھلا کب عادی ہے؟
توبہ توبہ ! یہ سب آپ کی صحت کے لئے سازگار نہیں ہے۔
میرا تو مشورہ ہے کہ جا ئیے کسی پر فضا وادی میں کچھ دنوں کے لئے قیام کیجئے۔ اپنی تھکن اتارنے کا سامان کیجئے اور اپنی صحت کا خیال رکھئے۔ اس ملک کو آپ کی ضرورت ہے، ابھی آپ نے اس ملک کی اوربہت خدمت کرنی ہے۔ اگر خدانخواستہ آپ کی صحت ٹھیک نہ رہی تو ہم "لائیں گے تجھ سا کہاں؟"

دھند میں لپٹے ساون سے محظوظ ہوتے ہوئے بس تھوڑی دیر کے لئے اپنی خامیوں، کوتاہیوں اور اپنے ہی ہم نفسوں سے رکھے گئے جان لیوا رویوں پر نظر ڈالیے۔ مگر اس بات کا دھیان رہے کہ دماغ پر زیادہ زور نہ پڑنے پائے کیونکہ ایسا کرنے سے ضمیر کے کچوکے آپ کے لئے مزید مشکلات نہ پیدا کر دیں۔ جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ توبہ کیجئے اپنے گناہوں کی جو جمہوریت کے نام پر آپ نے معصوم لوگوں پر روا رکھے۔ ایک بار کوشش کیجئے ان بے بس لوگوں کی آہیں اور سسکیاں سننے کی جو اچھے وقتوں میں آپ تک نہیں پہنچ پائیں اور اگر پہنچیں بھی ہیں تو درباریوں کے تعریفی اور ستائشی کلمات خطابات اور القابات کے شورمیں کہیں دب کے رہ گئی تھیں۔
ایک بار پھر سے اس راکھ کو کریدیئے اور دیکھئے کہ کتنے حسین خوابوں کا خون آپ کے رعونت زدہ رویوں کے سبب ہوا۔ کتنی بے بس ماؤں نے نا مساعد حالات کا مقابلہ کرکے جگر کے ٹکڑوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا مگر مناسب اور با عزت روزگار تک رسائی ان کے لئے خواب ہی رہا۔ کتنے ناتواں بوڑھے باپ عمر کے مشکل ترین حصے میں اپنے نور نظروں کو دیار غیر کی خاک چھا ننے کے لئے بھیجنے پر مجبور ہوئے۔ جہاں نازوں پلے بیٹے اپنی صلاحیتوں سے انتہائی نچلے معیار کے کام میں جت گئے اور آپ کے نااہل نعمتوں کے مزے اٹھاتے رہے۔ پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوان جو کسی بھی ریاست کا بہترین اثاثہ ہوتے ہیں آپ کی نا اہلی، تعصب زدہ اورخود ساختہ معیارات کی بھینٹ چڑھے اور اب نفسیاتی امراض کا شکار ہیں۔
یہ تومحض چند مثالیں ورنہ  عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی فہرست اتنی طویل ہے کہ آپ کو سوچنے کے لئے کافی وقت درکار ہو گا۔ 

ماحول میں کتنی ہی ایسی تلخیاں ہیں جو آپ کے اچھے دنوں کا شاخسانہ ہیں۔ اگر ایسے ماحول میں ایک نرم اور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا لوگوں کو چھو کر گزرا ہے تو اس کا مزہ کرکرا مت کیجئے۔ نوجوانوں کے چہروں پہ کھلی مسرت اور شادمانی کو تاراج کرنے کی دھمکیاں نہ دیجئے۔ وقت کو سدا جعلسازی، دھونس دھاندلی اور دھمکیوں کے زریعے موافق نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی کبھی قدرت کی بخشی ہوئی ڈھیل کھینچ بھی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے آنکھیں مت چرائیے کہ بدلے ہوئے حالات کی بدولت اب چیزیں چھپانا اور تواتر سے جھوٹ بول کر زیا دہ دیر تک سچ بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آپ بخوبی واقف ہیں کہ بدلتے ہوئے موسم کا ہمارے مزاج، معاملات اور معمولات سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب آپ پر فضا مقام پر تشریف لے جائیں گے تو خود مشاہدہ کریں گے کہ پہاڑوں نے دھند کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔ دھند مست ادائیں دکھاتی ہوئی پہلو بدل بدل کر ماحول کو سحر زدہ بنا رہی ہوگی۔ بادلوں کی اٹھکیلیوں ، شوخیوں اور بارش کی رم جھم نے توقیامت ہی ڈھا دی ہو گی۔ گرمی، حبس اور گھٹن زدہ ماحول اپنی تمام تر ستم ظریفیوں اور تھکن سے چور زخم چاٹتے ہوئے اپنے انجا م کی طرف محو سفر ہو گا۔ کیا خبر کہ یہی موسم کوئی اور لبادہ اوڑھ کر کسی اور شکل میں ہم پہ ستم ڈھانا شروع کر دے مگر تب کی تب دیکھی جائے گی ابھی تو اس ماحول سے لطف اندوز ہونے کا موقع ہے ان انمول لمحات میں رائیگانی  کا کوئی سبب نہ ہو۔
ایسے میں مجھے امجد اسلام امجد کی ایک نظم یاد آرہی ہے۔ آپ بھی پڑھیئے، محسوس کیجئے، اپنے مطلب کے معانی دیجئے اور لطف اندوز ہوئیے گا:
خوشبو کی پوشاک پہن کر
کون گلی میں آیا ہے
کیسا یہ پیغام رساں ہے
کیا کیا خبریں لایا ہے
کھڑکی کھول کر باہر دیکھو
موسم میرے دل کی باتیں
تم سے کہنے آیا ہے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس