0
0
0
تحریر: فاطمہ افتخار

صبا بیٹا جلدی کرو۔ مجھے آفس سے دیر ہو رہی ہے۔ صبا کے والد نے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھتے ہوئے اسے آواز دی۔ صبا امی کا سہارا لیتی ہوئی گاڑی کی طرف بڑھی۔ عام حالت میں تو آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے وہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ جاتی تھی لیکن اگر کسی جگہ جلد پہنچنا ہو تو اسے کسی کی سہارے کی ضرورت ہوتی تھی۔ یا وہ وہیل چئیر استعمال کرتی تھی۔ امی نے اس کا بیگ گاڑی میں رکھا اور اسے بیٹھنے میں مدد دی۔ صبا کی امی نے دونوں کو خدا حافظ کہا اور گاڑی گیٹ سے کل کر صبا کے سکول کی طرف رواں دواں ہو گئی۔

صبا ایک سپیشل سکول میں زیر تعلیم تھی۔ اور یہاں دوسرے بچوں کی طرح یہ بچے سکول سے باہر گاڑیوں سے نہیں اترتے تھے بلکہ سکول کے پورچ میں گاڑی کھڑی کی جاتی تھی۔ صبا کے والد نے بھی گاڑی عین اس جگہ روکی جہاں ایک وہیل چئیر پڑی تھی۔ عموماً وہیل چئیر کے ساتھ آیا ہوتی تھی لیک اگر آیا کسی کام سے ادھر ادھر ہو تو اس کے والد اسے کلاس روم میں بٹھا کر آتے تھے۔

صبا بچپن میں پولیو جیسے موذی مرض کا شکار ہو چکی تھی۔ ساری احتیاطی تدابیر کے سامنے تقدیر سر اٹھائے کھڑی تھی اور تقدیر سے فرار کس کو ہے۔

صبا نے اپنے گھر میں صبر و شکر اور ﷲ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر نے کا جذبہ محسوس کیا اور سیکھا تھا۔ وہ ایک ذہین لڑکی تھی۔ والدین نے بھی اس کی تربیت اور دل بہلانے میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔ جونہی اس نے بونا سیکھا ماں باپ نے اسے اچھی اچھی باتیں سکھانی شرو ع کیں۔ تین چار سال ی عمر میں نورانی قاعدہ پڑھانا شروع کیا اور ساتھ ساتھ اردو انگریزی اور حساب سکھانے کو بھی اہمیت دی۔ صبا کے دل میں یہ خواہش براجمان رہتی کہ وہ بھی اپنے دونوں بھائیوں کی طرح یونیفارم پہن کر اور بستہ اٹھا کر سکول جائے۔ اس کی آرزو نے گفتار کا سہارا لیا تو لیکن ا س کے ماں باپ نے اس کی آنکھوں سے سب کچھ پڑھ لیا تھا۔ جونہی اس کے والد نے سنا کہ شہر میں سپیشل بچوں کے سکو ل کا آغاز ہوا ہے تو فوراً اسے یہاں داخل کرا دیا گیا۔ اس دن صبا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اس کی جماعت میں تین لڑکوں کے علاوہ دو لڑکیاں بھی تھیں۔ جو اس کی سہیلیاں بن گئیں۔ وہ ساارے بچے صبا جیسی کسی نہ کسی جسمانی کمزوری سے دوچار تھے۔ صبا آمنہ اور صائقہ کے ساتھ بہت خوش تھی۔ کلاس ٹیچر بھی بہت اچھے مزاج اور اچھی طبیعت کی تھی جو انہیں محبت اور توجہ سے پڑھاتی تھی کیونکہ ان بچوں کو لکھانا پڑھانا بہت صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ صبا اپنی جماعت کے گنے چنے بچوں میں بہت نمایاں تھی۔ اب اسے زندگی بہت اچھی لگتی تھی۔ اپنی ہم جماعت ہونے والی مختلف تقریبات تو اس کی خوشی کو دو چند کر دیتی تھیں۔ اس کے علاوہ اپنے ہم جماعتوں کیساتھ اپنی اور ان کی سالگرہ منانا تو انوکھی مسرت کا بھرپور احسا س تھا۔

وقت کا کام گزرنا ہے چاہے کوئی خوشیاں سمیٹ رہا ہو یا غم کے پہاڑ تلے دبا ہو۔ صبا کے پانچویں جماعت پا س کر لینے کے بعد یہ مسئلہ آن پڑا کہ وہ مزید تعلیم کس طرح حاصل کرے کیونکہ یہ سکول پرائمری تھا اور شہر میں جسمانی معذور بچوں کے لیے کوئی ہائی سکول نہ تھا اس لیے اس کے اجرا کے راستے میں کئی دشواریاں تھیں۔

ا س کے والدین نے اسے چھٹی ساتویں کی کتابیں گھر میں پڑھوا دیں اور اب وہ آٹھویں جماعت کا کورس پڑ ھ رہی تھی۔ اس کے علاوہ وہ دوسرے مشاغل میں بھی دلچسپی لیتی تھی۔ کمپیوٹر پر کام کر کے اور بچوں کے اچھے اچھے رسائل اور کتب کا مطالعہ کر کے وقت گزارتی تھی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ ایک دن اس کے والد کے ایک دوست زبیر انکل بہت عرصہ بعد ان کے گھر آئے اور بات چیت کے دوران جب انہیں پتا چلا کہ وہ گھر میں ہی آٹھویں جماعت کا کورس پڑھ رہی ہے تو انہوں نے اس کے والد کو مشورہ دیا کہ کیوں نہ صبا عام بچوں کے سکول میں داخل ہو جائے۔ کیونکہ اس قدر ذہین بچی ہے کہ آرام سے ان کے ساتھ پڑھ لے گی لیکن صبا کے والدین کو خدشہ تھا کہ یہ عام بچوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اور کسی ناسمجھ بچی کے مذاق سے دکھ کا شکار ہو جائے گی اور انہوں نے جو اتنی محنت کی ہے وہ یونہی دھری کی دھری رہ جائے گی۔ جب علیحدگی میں انہوں نے اس خدسے کا اظہار زبیر انکل سے کیا تو انہوں نے بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا کہ دکھ اور خوشی تو زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ کیوں نہ بچوں کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہاں مسائل کا سامنا ہنس کر کریں۔

دونوں ایک دو دن تو ممکنہ مسائل پر غور کرتے رہے، لیکن اپنی بچی کی خوشی انہیں اتنی عزیز تھی کہ ایک دن اسے قریبی گورنمنٹ سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ پہلے تو صبا سکول میں ذرا گھبرائی ہوئی سی رہی کیوں کہ یہاں بچوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ صرف اس کی جماعت میں تقریباً پچاس لڑکیاں تھیں۔ لیکن جلد ہی وہ لڑکیوں کے اچھے رویے اور اپنے اعتماد کی بدولت پر سکون نظر آنے گی۔ خصوصاً جماعت میں سبق کے دوران اس کے بہتر رویے اور امتحانوں میں حاصل کردہ اچھے نمبروں سے سب ہ لڑکیاں ا س کی ذہانت کی قائل ہو گئیں اور اساتذہ بھی اس کی ہمت و محنت سے متاثر تھیں پہلے پہل ان سب کی آنکھوں میں رحم کے آثار ہوتے تھے، وہ محبت اور عزت میں تبدیل ہو گئے۔

دسمبر ٹیسٹ ہوئے تو صبا نے جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی اور ہمیشہ اس درجے پر رہنے والی عطیہ دوسرے نمبر پر رہی۔ عطیہ جو صبا کی دوست بن چکی تھی اب اس کے دل میں رقابت کے احساس نے جنم لیا کیونکہ وہ ابتدا ہی سے اسی سکول میں پڑھتی آ رہی تھی اور ہر جماعت میں اول آئی تھی۔ صبا نے بھی عطیہ کے رویے میں تبدیلی کو بھانپ لیا تھا وہ اس کا سبب تو نہ جان سکی لیکن اپنے برتاؤ میں کوئی تبدیلی نہ آنے دی۔ سالانہ امتحان ہوئے تو صبا اول آئی۔ اب عطیہ کا رویہ بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔ پہلے وہ صبا کے ساتھ ہی بیٹھتی تھی۔ لیکن جب نویں جماعت کی پڑھائی کا آغاز ہوا تو اس نے اپنی نشست بدل لی۔ اب وہ سکول صبح آمد کے بعد سلام دعا کے تبادلے کی بجائے ہونہہ کر کر منہ دوسری طرف پھیر لیتی تھی۔ کچھ عرصہ بعد وہ صبا کے قریب سے گزرتے ہوئے جملہ بازی بھی کرنے لگی صبا خاموش رہنے کو ترجیح دیتی تھی۔ کیونکہ وہ ہر معاملے میں زبان کی بجائے عمل کو فوقیت دیتی تھی۔ اس نے محنت ہی کو اپنا شعار بنائے رکھا اس دن تو عطیہ کی بدتمیزی کی کوئی حد نہ رہی جب اس نے صبا کو لنگڑی بطخ کہہ کر پکارا۔ جماعت کی لڑکیوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی قریبی سہیلیوں کے چہرے پر بھی ناگواری کے واضح اثرات تھے لیکن عطیہ کو تو جیسے کسی کی پرواہ ہی نہ تھی۔ اس نے محنت سے صبا کا مقابلہ کرنے کے بجائے غلط راستے کا انتخاب کیا جو اتنی بڑی لائق لڑکی کو کسی طرح زیب نہیں دیتا تھا۔ حسد اور جلن نے تو جیسے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی اور وہ ہر روز صبا کے لیے نئے نئے القاب تجویز کرتی تھی۔

صبا نے دکھ کے چہرے احساس کے باوجود گھر میں والدین سے کسی بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ کہیں وہ دکھی نہ ہو جائیں اور اسے سکول داخل کرنے کے فیصلے پر پچھتائیں۔ وہ پڑھ لکھ کر ایسا انسان بننا چاہتی تھی کہ جو اگر کسی کے کام بھی نہ آ سکے تو کسی کے لیے بوجھ بھی نہ بنے۔ اس نے مختلف کتابوں میں پڑھا تھا کہ کس طرح مختلف معذور افراد نے ایسی صحت مند زندگی جو دوسروں کے لیے مشعل راہ تھی بسر کی۔ وہ بھی ہیلن کیلر جیسی زندگی کی آرزو مند تھی جس نے نابینا ہوتے ہوئے دیدہ بینا کا استعمال کیا اور پوری دنیا کے نابیناؤں کیلیے انتھک کام کیا۔ رات ہی تو ٹی وی دیکھتے ہوئے اس کی والدہ نے اسے بتایا کہ یہ ڈرامہ ڈاکٹر طارق عزیز کا لکھا ہوا ہے۔ جو بچپن میں صبا کی طرح پولیو جیسی نامراد بیماری کا شکار ہوئے تھے لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پی ایچ ڈی تک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ٹی وی ڈرامے کے ذریعے معاشرے کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے کے جذبے کو پروان چڑھایا۔

وہ بھی تو ایسی ہی زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اور اپنی تمام تر توجہ اپنی طے کردہ منزل کی رسائی پر مرکوز کر دینا چاہتی تھی۔ رہے عطیہ جیسے لوگ تو ان کی تلخ باتیں تو نیک ارادوں اور صحت مند جذبوں کے حصول کے لیے مہمیز کا کام دیتی ہیں۔ دوسری طرف عطیہ کو بھی جلد ہی اپنے رویے میں نظر ثانی کرنا پڑی۔

ہوا یوں کہ ایک دن جب اس کی امی اور پھوپھو حسب معمول درس قرآن سننے کے لیے جانے لگیں تو یہ بھی ہمراہ ہو گئی۔ مقررہ حبیبہ کا موضوع اخلاق کے مختلف پہلو تھے۔ اس کی خوبصورت باتوں اور دھیمے پر سوز لہجے نے عطیہ کو بے حد متاثر کیا۔ آخر میں مقررہ نے کہا کہ ہمارے آپس کے تعلقات میں حسد موذی ناگ کی طرح حملہ آور ہوتا ہے اور رشتوں کو ختم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے اچھے کام اور خوشحالی کو تحسین سے دیکھیں اور خود بھی ان جیسا بننے کی کوشش کریں۔ اس طرح ہم میں عمل و محنت کا عنصر پروان چڑھے گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھا اور وہ ہمیشہ حسد سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔

عطیہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اور اس نے صبا سے معافی مانگ لی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس