0
0
0
تحریر: راجہ ریحان ساجد

گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔ زاہد کلیم اور جاوید اور میں نے پکنک منانے کا پروگرام بنایا پہلے یہ طے پایا کہ چاروں پچاس، پچاس روپے اکٹھے کریں گے اور پکنک پر جاتے ہوئے راستے میں سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں لے لیں گے۔ لیکن کلیم نے اس منصوبے کی مخالفت کی اس کا کہنا تھا کہ بازاری چیزیں کھانے کی غیر معیاری ہوتی ہیں اور پھر مہنگی ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم چاروں اپنے اپنے گھروں سے اپنی اپنی پسند کی چیزیں پکوا کے لیے آئیں اور وہاں اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے۔ اس طرح ایک تو معیاری اور صاف ستھری چیز یں کھانے کو ملیں گی اور دوسرے بچت بھی ہو جائے گی کلیم کی یہ تجویز سب کو پسند آئی۔

اب بات آ گئی کہ کون کیا لائے گا۔ جاوید نے کہا کہ میں آم لے کر آؤں گا۔ زاہد نے کہا کہ وہ روٹیاں لائے گا۔ میں نے پلاؤ پکوا کر لانے کا وعدہ کیا جبکہ کلیم نے حامی بھری کہ وہ مرغ پکوا کر لائے گا۔ پھر یہ طے پایا کہ کل صبح نو بجے سب اپنے اپنے حصے کی چیزیں لے کر قریبی بس سٹاپ پر پہنچ جائیں گے۔ اور وہاں سے اکٹھے پکنک پوائٹ پر بذریعہ بس روانہ ہو جائیں گے۔ ہم سب نے پکنک کی خوشی میں رات بھر بے قراری سے کاٹی۔

صبح ہوئی تو نماز پڑھنے کے فوراً بعد میں نے اپنی امی سے پلاؤ پکانے کی فرمائش کی اور انہیں پکنک پروگرام سے آگاہ کیا۔ تھوڑی دیر بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، میں نے فو ن اٹھایا تو دوسری جانب زاہد بول رہا تھا۔ اس نے خوش خبری سنائی کہ وہ اپنی امی سے دیسی گھی کے پراٹھے پکوا رہا ہے۔ دیسی گھی کے پراٹھوں کا نام سن کر میرے منہ میں پانی بھر آیا۔ آہا، مرغ کے ساتھ پراٹھے کھانے میں کتنا مزہ آئے گا۔

میں نے فون پر زاہد کو وقت پر بس سٹاپ پر پہنچنے کی ہدایت کی اور فون بند کر دیا۔ آٹھ بجنے والے تھے میں بالکل تیار تھا اور سوچ رہا تھا کہ ابھی کلیم کا فون آئے گا کہ وہ بھی اپنی امی سے مرغ پکوا رہا ہے لیکن ساڑے آٹھ بج گئے کلیم کا فون ابھی تک نہیں آیا۔ میں نے اپنی امی کو چھوٹی پتیلی میں پلاؤ ڈالنے کو کہا اور خو د کلیم کو فون کرنے لگا۔ جوں ہی فون کی گھنٹی بجی تو دوسری طرف سے کلیم نے خود ہی فون اٹھایا جی یس وہ میرے ہی فون کا انتظار کر رہا تھا۔

ہیلو میں نے ذرا رعب سے کہا۔

جی!کلیم بول رہا ہوں کلیم نے میری آواز کونہ پہچانتے ہوئے کہا۔

جناب کلیم کیا کر رہے ہو۔ میں نے اس کی تیاری کے بارے میں پوچھنے کی کوشش ک۔

او یار میں ابھی تمہیں فون کرنے ہی والا تھا۔ کلیم نے میری آواز پہچانتے ہوئے کہا۔

فون تو میں نے کر ہی دیا تھا۔ تم بتاؤ مرغ گلا ہے یا نہیں۔

میں نے طنزاً کہا۔

یار مجھے افسوس ہے کہ میں آج آپ کے ساتھ نہیں جا سکتا اس لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ کلیم نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا ذرا پھر کہو میں نے کلیم کی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے کہا۔

ہاں یار! میں آپ کے ساتھ آج پکنک پر نہیں جا سکتا۔ کیونکہ کراچی سے کل رات سے میری خالہ آ گئیں ہیں مجھے ان کے ساتھ ماموں کے گھر جانا ہے۔ کلیم نے انکار کی وضاحت کی۔

اچھا پھر خدا حافظ میں نے غصے میں ٹیلی فون پٹخ دیا۔

میں سوچنے لگا کہ سالن کے بغیر کھانے کا مزہ خاک آئے گا۔ لہٰذا اب ہمیں بازاری سالن پر گزارہ کرنا پڑے گا۔ ٹھیک نو بجے ہم تینوں دوست بس سٹاپ پر موجود تھے۔ جاوید نے آموں کی ٹوکری اٹھا رکھی تھی۔ جبکہ میرے پاس گرم گرم خوشبودار پلاؤ کی دیگچی تھی۔ اور زاہد کپڑے میں بندھے دیسی گھی کے پراٹھے اٹھائے ہوئے تھا۔ بس سٹاپ پر کھڑے ہوئے دوسرے تمام لوگوں کی نظریں ہم پر جمی ہوئی تھیں۔ کیوں نہ آموں پلاؤ اور پراٹھوں کی خوشبو نے ماحول کو معطر بنا رکھا تھا۔

تھوڑی دیر بعد بس آ گئی ہم تینوں بس میں سوا ر ہو گئے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ کے بعد ہم ایک جھیل کے کنارے چھوٹے سے باغیچے میں موجو د تھے۔ وہاں اور لوگ بھی اپنے بچوں سمیت آئے ہوئے تھے۔ ہم نے اپنا سامان باغیچے کو بوڑھے مالی کے حوالے کیا اور خود جھیل کی سیر کو نکل گئے موسم بڑا خوشگوار تھا۔ ہم بہت خوش تھے۔ مگر کلیم کی کمی بری طرح محسوس کر رہے تھے۔ میں رہ رہ کر مرغ کا سالن نہ ہونے کی وجہ سے کلیم کو کوس رہا تھا۔ ہم جھیل کے کنارے کھیلتے کھیلتے دور نکل گئے اب دوپہر ہو گئی تھی۔ سب کو بھوک لگی تو زاہد نے کہا کہ یار اس سے پہلے کہ ہم بھوک سے نڈھال ہو کر یہاں گر پڑیں بہتر یہی ہے کہ ہم واپس چلے جائیں۔ جاوید نے زاہد کی اس تجویز کو پسند کیا چنانچہ ہم تینوں جلدی جلدی واپس باغیچے کی طرف چل پڑے۔ باغیچے میں پہنچ کر ہم نے ادھر ادھر مالی کو دیکھا۔ وہ ایک کونے میں درخت کے نیچے بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ مالی نے جونہی ہمیں دیکھا تو اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا آؤ بچو پانی پی لو۔ میں نے بے صبری سے کام لیتے ہوئے کہا بابا ہم پانی بعد میں پیتے رہیں گے پہلے ہمارا پلاؤ اور آم ہمیں دے دیں۔

مالی نے کہا کہ بیٹے یہ آ پ لوگوں کی امانت ہے اور امانت میں خیانت کرنا گناہ ہے۔ یہ کہہ کر بابا کوٹھڑی کی جانب چل گیا اور اندر سے ہمارا لایا ہوا کھانا ہمارے سامنے رکھ دیا۔ میں نے آموں اور پراٹھوں کو گن گن کر دیکھا تو تمام کھانا اپنی صحیح تعداد میں تھا۔ میں نے بابا کا شکریہ ادا کیا ہم سب مل کر کھانا کھانے لگے تو ہم نے بابا کو بھی کھانے کی دعوت دے دی کیونکہ ہم ویسے ہی کھانا کلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے فالتو ہو رہا تھا۔ کھانا کھانے گے تو ہمیں سالن کی کمی محسوس ہوئی کیونکہ جلدی سے بازار سے سالن نہ خرید سکے تھے۔

میں پھر بول پڑا کہ سالن کے بغیر کھانے کا مزہ نہیں آ رہا۔ یہ سنتے ہی بابا اٹھ کھڑا ہوا اور کوٹھڑی کے اندر سے مزیدار بھنی ہوئی بھنڈیاں لے آیا۔ کھانا کھاتے ہوئے زاہد بول اٹھا۔ یار کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر کلیم بھی آ جاتا۔ کم از کم مرغ تو کھا لیتے۔

مجھے پہلے ہی پتا تھا کہ وہ ضرور کوئی بہانہ بنائے گا۔ وہ بڑا کنجوس مکھی چوس ہے، میں نے بات بڑھاتے ہوئے کہا۔

ہاں یار وہ بڑھکیں بہت مارتا ہے۔ حالانکہ گھر میں اس کی کچھ حیثیت نہیں۔ ہر وقت اس کے ابو اسے ڈانٹتے رہتے ہی۔ امی الگ پٹائی کرتی ہیں۔ جاوید نے کلیم کی گھریلو حیثیت بتاتے ہوئے کہا۔

میں نے کئی بار تم لوگوں کو بتایا ہے کہ وہ مطلب پرست اور مفت خورہ ہے۔ ذرا سا خرچ کرنا پڑے تو ا سکے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ سب نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔

بیٹے آپ لوگوں کو گوشت بہت پسند ہے۔ بابا نے ہماری باتیں سنتے ہوئے کہا۔

ہاں گوشت کسے اچھا نہیں لگتا۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔

وہ تو تم اب بھی کھا رہے ہو بابا نے طنزاً کہا۔

بابا کیا ہم گوشت کھا رہے ہیں ؟ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ ہاں بیٹے تم لوگ گوشت کھا رہے ہو۔ اور وہ بھی اپنے مردہ بھائی کا بابا نے سنجیدگی سے کہا۔

بابا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ زاہد نے قدرے غصے سے کہا بیٹا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ شاید آپ کو معلوم نہیں کہ کسی کی غیبت کرنا اﷲ کی نظر میں اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے بابا نے ہمیں مردہ بھائی کا گوشت کھانے کا مطلب بتاتے ہوئے کہا۔

بابا ہم کوئی جھوٹ نہیں بول رہے ہیں بلکہ سچ کہہ رہے ہیں۔ کلیم ہمارا دوست ہے اور اس میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔ میں نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا۔

بیٹا یہی تو غیبت ہے۔ ہر وہ بات غیبت کہلاتی ہے جو بطور خامی یا عیب کسی شخص میں موجود ہو اور وہ اس کی غیر موجودگی میں بیان کی جائے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کا کوئی دوست لنگڑا ہے تو ظاہر ہے کہ آپ اس کے منہ پر تو اسے لنگڑا نہیں کہہ سکتے لیکن اس کی غیر موجودگی میں آپس میں باتیں کرتے ہوئے آپ یہ کہیں گے کہ لنگڑے نے فلاں بات کی ہے تو غیبت ہے۔

بابا آپ تو اچھے خاصے مولوی ہیں۔ زاہد نے بابا کی باتیں سنتے ہوئے کہا۔

نہیں بیٹا! میں ہرگز مولوی نہیں ہوں یہ سب باتیں ہمارے مذہب اسلام کی بنیاد ہیں۔ ہم سب کو یہ باتیں معلوم ہونی چاہئیں تاکہ ہم اچھے انسان بن سکیں۔

چھوڑیں بابا اس کی باتوں میں نہ آئیں۔ یہ بتائیں کہ غیبت اور چغل خوری میں کیا فرق ہے۔ میں نے بابا کی باتوں میں دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔

بیٹے غیبت کے بارے میں تو میں نے بتا دیا ہے اب رہی بات چغل خوری کی۔ تو چغل خوری یہ ہوتی ہے کہ جیسے آپ لو گ کلیم کی غیر موجودگی میں اسے کنجوس کہہ رہے ہیں میں کلیم کو جا کر بتاؤں کہ فلاں لڑکا تمہیں کنجوس کہہ رہا تھا۔ جواب میں ظاہر ے کہ وہ بھی آپ کو برا بھلا کہے گا۔ میں وہ باتیں جو وہ آپ کے بارے میں کرے آپ کو بتاؤں تو یہ چغل خوری ہو گی یعنی ادھر کی باتیں ادھر اور ادھر کی باتیں ادھر کرنا چغل خوری کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں باتیں سخت ناپسند ہیں۔

یہ باتیں سن کر ہم تینوں قدرے غمگین ہو گئے۔ بابا نے ہمیں خاموش اور اداس دیکھا تو کہا بیٹے فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے بشرطیکہ سچے دل سے معافی مانگی جائے۔ ہاں گھر جا کر کلیم سے بھی اپنی باتوں کی معافی مانگ لینا اور ایک بات اور یاد رکھنا کہ ظالم کے ظلم اور کافر کے ظلم کا ذکر کرنا غیبت نہیں کہلاتا۔ جاوید جو کافی دیر سے چپ چاپ مسلسل بابا کی طرف غور سے دیکھے جا رہا تھا بولا۔

بابا اسلام نے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اتنی بڑی بڑی سزائیں کیوں رکھی ہیں۔

بابا نے اس کی معصومیت پر ہنستے ہوئے کہا کہ نہیں بیٹا یہ باتیں چھوٹی نہیں ہیں۔ بہت ہی خطرناک ہیں اسلام امن سلامتی اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔

چغل خوری سے آپس میں لڑائی جھگڑا ور نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ جبکہ غیبت سے ایک مسلمان بھائی کے عیب دوسروں کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے کیونکہ وہ خود ستار العیوب یعنی عیبوں کو ڈھانپنے والا ہے چونکہ غیبت اور چغل خوری اسلام کے ضابطہ حیات کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خطرناک انجام سے ہم کو ڈرایا ہے تاکہ ہم لوگ نصیحت حاصل کریں لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم پھر بھی ان کی پرواہ نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آئے دن لڑائی جھگڑے اور فساد برپا رہتے ہیں۔

یار واپس گھر چلتے ہیں بابا جی کی باتیں سن کر پکنک منانے کو دل نہیں کر رہا۔ جاوید نے پہلو بدلتے ہوئے کہا۔

بیتے میں جانتا ہوں کہ تم میری باتوں سے کچھ کچھ ناراض لگتے ہو لیکن یہ سب باتیں بتانا میرا فرض بنتا ہے۔ بابا نے جاوید سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔

نہیں بابا ایسی کوئی بات نہیں۔ میں آپ کی پیاری پیاری باتیں بڑے غور سے سنتا رہا ہوں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ جتنا مزہ آپ کی باتیں سن کر آیا ہے اتنا مزہ یقیناً مرغا کھا کر نہ آتا۔ بلکہ ہم تو شرمندہ ہیں کہ ہم نے آپ سے بدتمیزی کی ہے جاوید نے بابا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

نہیں بیٹے آپ بڑے پیارے بچے ہیں۔ اللہ آپ سب کو سلامت رکھے آپ اب گھر جائیں گے آپ کے والدین آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ اور گھر پہنچتے ہی آپ کلیم سے اس کی غیبت کرنے پر معافی مانگیں اور یہ عہد کریں کہ آئندہ آپ خدا اور ا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے۔ بابا کا کہنا تھا کہ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور سب نے مل کر بابا کو الوداعی سلام کیا اور باری باری ہاتھ ملایا۔ واپسی پر ہم سب سوچ رہے تھے کہ آج کتنا مبارک دن ہے کہ ہم نے زندگی کے بہترین اصولوں سے واقفیت حاصل کی ہے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس