0
1
0
شاعر: ابو فروا

ہائے رخ زیبا پہ، وہ سیاہ نقاب کا منظر
سونے پہ سہاگا ہوا، وہ حجاب کا منظر

دلکشی اور بڑھی، ان مدھرپیالہ آنکھوں کی
رقص کرتی ہوئی، جام میں شراب کامنظر

چنچل چتون پہ، وہ کاکل بے پرواہ کا پہرہ
دیکھ سکے ہے کون، میرے دل بے تاب کا منظر

خم ابروئے جاناں کا تیکھا پن، دکھا نہ جائے ہے
پیش کرے ہے دل، ماہی بے آب کا منظر

مژگان چشمِ ناز کی گفتگو، دے رہی تھی دعوت گناہ
دل تا جگر اترا وہ، وہ نگاہ بے حجاب کامنظر

چشم آہو پہ وہ پلکوں کے، چلمن کی بیقراری
کیا خوب تھا، ہوش میں، وہ خواب کا منظر

پردا چھوڑا، جواس نے شرارتی آنکھوں کی ادا کے ساتھ
بدلی میں چھپ گیا ہو جیسے ماہتاب کا منظر

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس