0
0
0
تحریر: بشریٰ خانم

عید کا دن تھا۔ یہ دن بچوں کے لیے خوشیوں کا دن ہوتا ہے۔ رنگ برنگے کپڑے، عیدیاں، کھلونے، مزے مزے کی سویاں، مٹھائی، دہی بھلے، سب کچھ ایک ساتھ کھانے کو مل جاتا ہے اور کہتے ہیں کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ بڑوں کو تو یہی فکر ہوتی ہے کہ سب بچوں کی ضروریات پوری ہو جائیں اور اگر اس خوشی میں کسی غیر نادار کو بھی شامل کر لیا جائے تو خوشی دوبالا ہو جاتی ہے۔ ہاں تو عید کا دن تھا، بریگیڈئیر رفیع اپنی والدہ کے گھر میں اپنے بیٹے کیپٹن وجاہت، بیگم، بہو اور ننھے سے پوتے کے ساتھ موجود تھے۔ پوتے صاحب دنیا میں نئے نئے تشریف لائے تھے اور مزے سے آنکھیں بند کیے سو رہے تھے۔ بریگیڈئیر رفیع کی والدہ کے گھر میں ان کی بہنیں اور بھائی بھی ماں سے عید ملنے آئے ہوئے تھے۔ سب نے مل کر شام کی چائے پی موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہلکی ہلکی سردی تھی مگر ننھے میاں کو خوب گرم کپڑوں میں لپیٹا گیا تھا۔

باتوں باتوں میں رات ہو گئی۔ سب اکٹھے ہوں تو پھر باتوں میں وقت کا پتہ نہیں چلتا۔ رات کے کھانے کے بعد لطیفوں کا دور شروع ہوا۔ سب نے کوئی نہ کوئی لطیفہ سنایا۔ نئے لطیفے ختم ہو گئے تو پرانے شروع ہو گئے لطیفوں کی عجیب بات ہے بار بار سننے پر بھی ہنسی آ جاتی ہے۔ سننے کے بعد سب سوچ رہے تھے کہ کون لطیفہ سنائے گا کہ کیپٹن وجاہت نے سب کو خاموش کراتے ہوئے بلند آواز میں کہا۔ کہ میں آپ کو بالکل نیا اور سچا واقعہ سناتا ہوں۔ سب ان کی طرف متوجہ ہوئے۔ کیپٹن وجاہت تھے بھی بڑے گپی۔ اکثر بڑی سنجیدگی سے قصہ سنا کر کہتے یہ تو گپ تھی۔ اس لیے پھوپھو نے کہا کہ گپ ہو گئی پوری۔ نہیں پھوپھو یہ گپ نہیں۔ اچھا چلو دیکھتے ہیں، پھوپھو نے کہا۔

کیپٹن وجاہت نے سنانا شروع کیا، کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اورصرف ان کی آواز آ رہی تھی۔ ایک صبح، اپنے یونٹ میں (یونٹ فوج میں آرمی کا ایک دستہ ہوتا ہے ) پی ٹی یعنی ورزش کا وقت تھا۔ سارے فوجی جوان میدان میں صبح کی نرم نرم دھوپ میں اپنے جسم کو گرمانے کے لیے پی ٹی شروع ہونے سے پہلے اچھل کود کر رہے تھے۔ کچھ جوان ابھی آ رہےتھے اس لیے باقاعدہ پی ٹی شروع نہیں ہوئی تھی۔ 

کیپٹن وجاہت کو دور سے ایک موٹر سائیکل نظر آئی قریب آنے پر انہوں نے اسے پہچانا کہ یہ تو  ان کا دوست ہاشم ہے۔ کیپٹن نے ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے سلام کیا موٹر سائیکل سوار نے بھی ہاتھ ہلایا مر یہ کیا ہوا اچانک موٹر سائیکل ہوا میں اچھلا اور سوارکئی گز دور جا گرا۔ کیپٹن سمیت سارے جوان بھاگے ہاشم کو اٹھایا اور ہسپتا ل لے گئے۔ اسے کافی چوٹیں آئیں تھیں۔ اس نے بولنا چہا مگر ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھ کر کہا کہ آپ لوگ اس وقت جائیں اور شام کے وقت آئیں ہم سب واپس  آ گئے مگر حیرت سے سوچتے رہے کہ آخر یہ کیسے ہوا پورا ان بڑی بے چینی سے گزرا شام ہوئی تو می اور ہاشم کے دوست اس کی خیریت دریافت کرنے ہسپتال پہنچے۔ اس وقت وہ اپنے وارڈ میں بسترپر لیٹا ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ بہت گہری چوٹیں نہیں آئی تھیں۔

ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ صبح میں جوگنگ کے بعد موٹر سائیکل پر واپس آ رہا تھا کہ مجھے احسا س ہوا کہ سردی ہے اور میں نے گرم کپڑے نہیں پہنے ہوئے بس ایک قمیص اور نیکر پہنے ہوئے تھا۔ میں نے ایک ہاتھ میں نیکر کی جیب میں گھسا دیا اور دوسرے سے بائیک کا ہینڈل تھامے تھا جب گراؤنڈ کے پاس پہنچا تو مجھے آپ نے اشارہ کیا۔ میں نے ہینڈل والا ہاتھ اٹھا کر آپ کو جواب دیا۔ سامنے سپیڈ بریکر تھا جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ میرا دوسرا ہاتھ جیب میں تھا۔ بائیک سپڈ بریکر سے ٹکرا کر اچھلی تو میںبھی دور جا پڑا۔ مجھے یاد ہیں نہ رہا تھا کہ سردی کی وجہ سے میں نے ایک ہاتھ جیب میں گھسا رکھا ہے۔

اس کے بعد اس نے ہنسنا شروع کر دیا۔ ہم بھی ہنس دیے کیونکہ اس کی حالب بہتر تھی اور خطرے کی کوئی بات نہیں تھی۔ ہاشم بہت ملنسار اور ہنس مکھ نوجوان ہے۔ اس لیے اس کے موٹر سائیکل سے گرنے کی خبر سن کر اس کے دو درجن سے بھی زیادہ دوست اور ملنے والے اکٹھے ہو گئے۔ اس کے والد کو خبر ملی تو وہ بھی پہنچ گئے۔ ہاشم نے جو بھی اس سے ملنے آیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا۔ اس نے پورا واقعہ من و عن اسے سنا دیا۔ اس دوران وارڈ بوائے کے ساتھ والے بیڈ پر ایک بزرگ جن کا آپریشن ہوا تھا لٹا گئے اور کہا کہ یہ ابھی بے ہوش ہیں ان پر انستھیسیا کا اثر ہے تھوڑی دیر میں ہوش آ جائے گا۔ مریض کی بیٹی ان کے بستر کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی اور ڈرپ میں سے ایک ایک قطرہ گرتے دیکھنے لگی۔ ہمیں احساس ہی نہ ہوا کہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے بھی زیادہ گزر چکا ہے اور ہاشم جو بھی اس کی تیمار داری کے لیے آیا اور کہتا کہ کیا ہوا تھا تو پورا واقعہ سنا دیتا۔ اس دوران بزرگ مریض کے کراہنے کی آواز آئی۔ ان کی بیٹی فوراً اپنی کرسی سے اٹھی اور بولی اباجی کیا ہوا۔ ابا جی نے جواب دیا کہ بیٹی میں صبح صبح موٹر سائیکل پر آ رہا تھا مجھے سردی محسوس ہوئی… بزرگ نے مریض کو پور ا واقعہ سنا دیا تو بیٹی نے ایک چیخ ماری اور بولی ابا جی کو کیا ہو گیا ہے نرس بھاگی بھاگی آئی اور پوچھا کہ کیا ہوا تو آپریشن شدہ مریض نے کہا کہ میں صبح آ رہا تھا… نرس بولی آپ کا تو آپریشن ہوا ہے۔ آپ کو تو ایمبولینس میں لے کر آئے ہیں ۔ اس پر مریض نے غصے سے کہا کہ میں جو کہہ رہا ہوں کہ میں موٹر سائیکل سے گر پڑا… نرس بھاگی ہوئی ڈاکٹر کو بلا لائی ڈاکٹر نے بھی پوچھا کہ کیا ہوا مریض بولا ڈاکٹر صاحب میں صبح صبح موٹر سائیکل پر آ رہا تھا کہ مجھے سردی محسوس ہوئی… ڈاکٹر یہ سن کر پہلے تو پریشان ہوا۔ پھر اس نے ہاشم کے بیڈ کی طرف دیکھا اور ساری بات اس کی سمجھ میں آ گئی… ہاشم نے چپ سادھ رکھی تھی اور آنکھیں بند کر لی تھیں ۔ ہم لوگ بھی ادھر ادھر کھسک گئے … ڈاکٹر نے اسی میں خیریت سمجھی کہ آپریشن والے مریض کو دوسرے وارڈ میں شفٹ کر دیا جائے کیونکہ اس کی بیٹی بہت پریشان ہو گئی تھی اور دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔ کہ ابا جی کو کیا ہو گیا ہے۔ کیپٹن وجاہت خاموش ہو گئے تو سب پر ہنسی کا دورہ پڑا۔ خوب ہنسنے کے بعد جب ذرا خاموشی ہوئی تو کیپٹن وجاہت بولے کہ پھوپھو یہ بتائیں کہ کیا یہ گپ ہو سکتی ہے۔ ہاں میرے خیال میں نہیں کیونکہ میں تمہارے دوست ہاشم کو جانتی ہوں اور ہاشم سچی بات بتا دے گا۔ پھوپھو نے اپنے لاڈلے بھتیجے کو چھیڑتے ہوئے کہا مگر ماموں جان کوئی بے ہوشی میں کیسے سن سکتا ہے حامد نے اونگھتے اونگھتے اچانک سوال کیا۔

لو یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ چھوٹی پھوپھو نے فوراً کہا پوچھنے دو بھئی۔ سوا ل اس نے بالکل درست پوچھا تھا۔

بریگیڈئیر صاحب نے جواب دیا۔ ارے اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے۔ اللہ میاں اپنے فرشتے بھیج کر انسانوں کو سب سمجھا دیتے ہیں۔ دادی اماں فوراً بولیں۔ یہ معاملہ تو کافی سنگین ہو گیا، کیپٹن وجاہت شرارت سے بولے اصل میں بات یہ ہے کہ حامد میاں کہ انسان کا دماغ ایک حیرت انگیز اور میرے خیال میں دنیا کا طاقت ور ترین تحفہ ہے۔ جو ﷲ میاں نے انسان کو دیا ہے اور جس کا صحیح استعمال ہم بھول گئے ہیں۔ نہ سوچتے ہیں نہ غور کرتے ہیں بس سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ چھوٹی خالہ بھی بحث میں کود پڑیں۔ انہیں تاریخ پڑھنے کا بہت شوق تھا اور انہوں نے کتابوں میں یہ پڑھا تھا کہ فاتح سندھ محمد بن قاسم کو اس کے کارناموں کا کیا صلہ ملا۔ وہ چاہتی تھیں کہ بچوں کو پوری تاریخ پڑھاؤ۔

اچھا بہن جی اب جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں۔ تاریخ میں اور بھی بہت کچھ ہوا ہے۔ اب چھوٹے ماموں بھی گفتگو میں شامل ہو گئے۔ بھئی مجھے حامد میاں کی بات کا جواب دے دینے دو بریگیڈئیر صاحب نے سب کو خاموش کرایا اور بولے سائنس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ہمیں ہر شے کا اور ہر خیال کا اچھی طرح جائزہ لینا چاہیے کہ یہ شے ایسی کیوں اور کسی اور طرح کیوں نہیں۔

بیٹا! آپ کو یاد ہے جب اماں جان کا آپریشن ہوا تھا تو آپریشن روم سے باہر راہداری میں ڈاکٹر نے اماں سے ان کا نام پوچھا تو انہوں نے اپنا نام بتا دیا تھا لیکن وہ ہوش میں نہیں تھیں اور پھر بھی خوب بڑبڑاتی رہی تھیں۔ حامد نے یاد کر کے بتایا اور جب ہم باتیں کرتے تھے ان کا جواب بھی دیتی تھیں مگر بعد میں انہیں کچھ یاد نہ تھا۔ چھوٹی خالہ نے بھی لقمہ دیا۔ انستھیسیا بے ہوش کرنے کی دوا ہے جو بے حد اہم اور حیرت انگیز ایجاد ہے۔ آپریشن کے مریض کو ضرورت کے مطابق انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے کہ ایک مقررہ وقت کے بعد ہوش آنا شروع کر دیتا ہے۔ اسے سنائی بھی دیتا ہے پرانی باتیں بھی یاد کرتا ہے اور آواز دینے پر بھی جواب دیتا ہے۔ آپریشن کے بعد مریض کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک مقررہ وقت کے بعد مریض ہوش میں نہ آئے تو پھر ڈاکٹر اسے ہوش میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کرتے ہیں۔ وہ بزرگ آپریشن کے بعد ہوش میں آنے کے مرحلے میں تھے۔ اس دوران جب کیپٹن ہاشم نے بار بار اپنے دوستوں اور عیادت کے لیے آنے والوں کو ایک ہی حادثے کی تفصیل ایک ہی طرح بار بار سنائی تو دوائی کے اثر کی وجہ سے انہیں وہ یاد ہو گیا۔ اس لیے جب ان کی بیٹی نے پوچھا کہ اباجی کیا ہوا تو انہوں نے جواب دیا صبح صبح… سب پر دوبارہ ہنسی کا دورہ پڑا۔ بس بہت ہو گئی۔ اب چلتے ہیں بریگیڈئیر صاحب نے کہا۔ پھر چھوٹی خالہ سے مخاطب ہو کر بولے کہ تاریخ کا معاملہ اگلی بار ہو گا۔ یعنی اگلی عید پر حامد میاں نے کہا نہیں بھئی خالہ آپ کو بتاتی ہیں کہ مسلمانوں نے بارھویں صدی کے بعد اپنے نصاب میں سے سائنس فلسفہ اور دوسرے مضامین، جن کا تعلق ان کے خیال میں مذہب سے نہیں تھا، نکال کر کتنی بڑی غلطی کی۔ اس کی وجہ سے ہم سائنسی میدان میں دنیا سے کتنے پیچھے رہ گئے ہیں۔

کوئی بات نہیں میں سائنسدان بنوں گا۔ حامد میاں نے بڑے خوشی سے کہا۔ شاباش! بریگیڈئیر صاحب نے کہا اور چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس