1
7
0
بلاگر: رضؔ بٹ

انتخابات میں عمران خان کی جیت اور اقتدار میں آمد جہاں کسی کے کئے تبدیلی ہے، معجزہ ہے تو وہیں کسی کا خیال ہے کہ 'ہویا کچھ ہور ای اے'۔ آپ کی سوچ کچھ بھی ہو سچائی یہ ہے کہ عمران خان ہی متوقع وزیراعظم ہے۔
22 سال کی سیاسی جدوجہد اور عام انتخابات 2018ء میں عمران خان اور پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنا اس بات کا عندیہ ہے کہ تبدیلی کی ہوا جو چلی ہے تو رت میرے ملک کی بدلنے لگی ہے۔

اس موقع پر بچپن کی ایک کہانی یاد آئی ہے جو کچھ یوں تھی کہ ایک پینٹر اپنی شاہکار پینٹنگ ایک نوٹ کے ساتھ شہر کے بیچوں بیچ چوراہے پر لگا
دیتا ہے:
"گزارش ہے کہ پینٹنگ میں جہاں غلطی نظر آئے سرخ سیاہی سے نشاندہی کریں۔"
اگلے دن وہ پینٹنگ دیکھ کر بہت دلبراشتہ ہوتا ہے کیونکہ وہ پینٹنگ ان گنت لال نشانوں سے بھری ہوتی ہے۔ وہ پینٹنگ لے کر افسردگی سے گھر آ جاتا ہے۔
ایک روز وہ پینٹر سارا معاملہ اپنے دوست کو بیان کرتا ہے تو وہ دوست اس کو مشورہ دیتا ہے کہ ویسی ہی پینٹنگ دوبارہ بناؤ اور وہیں اسی چوراہے پہ لگا آؤ، پر اس بار نوٹ میں یہ الفاظ لکھنا: “جہاں غلطی نظر آئے سرخ سیاہی سے نشاندہی کرتے ہوئے برائے مہربانی اس کی اصلاح فرما دیں۔”
وہ پینٹر دوست کے مشورے پہ عمل کرتے ہوئے پینٹنگ اس کے کہے نوٹ کے ساتھ وہیں چوراہے پہ، اسی جگہ ٹانگ آتا ہے۔ اگلے دن پینٹنگ دیکھ کر بڑا حیران ہوتا ہے کہ پینٹنگ بالکل صاف اور شفاف ہوتی ہے اس پر نشان تو دور کی بات کوئی لال نقطہ بھی نہیں ہوتا۔ وہ پینٹنگ لے کر دوست کے پاس جاتا ہے اور  اسے سارا معاملہ بتاتا ہے۔
اس پر وہ دوست کہتا ہے کہ کسی میں کیڑے نکالنا، کسی کی غلطی پہ انگلی اٹھانا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ اسکی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔
تو میرے ملک کو مصور کی وہی شاہکار پینٹنگ سمجھ لیں کیونکہ اس ملک اور اس میں چلنے والے نظام پہ کپتان نے بہت سے سوالیہ نشان لگائے ہیں، یہ ایسا ہے اور ویسا ہونا چاہیئے۔۔۔
آپ کی ایک اچھی بات جو نظر آئی وہ یہ ہے کہ فقط تنقید تک نہیں رکے، بہتری کا طریقہ بھی بتایا بلکہ سچ کہوں تو بہت کچھ کر کے بھی دکھایا؛ ورلڈ کپ سے شوکت خانم کینسر ہسپتال تک اور نمل سے لے کر آپ نے خیبر پختونخواہ میں گڈ گورننس کا جو ڈیمو دیا وہ سب کے سامنے ہے شاید اسی وجہ سے عوام کی عدالت نے آپ کے حق میں فیصلہ دے کر آپ کو موقع دیا ہے گویا اب میچ میں ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ شروع ہونے کو ہے،  تو آخری گیند تک ہار نہ ماننے والے کپتان اور اس کی ٹیم کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ ایک پیغام کہ باتیں بہت ہوئیں اب پریکٹیکل کی باری ہے۔
اگر ریگستان کو نخلستان میں بدلا جا سکتا ہے تو پاکستان پاکوں کا ستان کیوں نہیں بن سکتا؟
اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟؟ کا نعرہ لئے پاکستان کے لئے ہم سے جو بن سکا کرتے رہیں گے۔ 

ایک آخری بات:
بہت سن لیا کہ روک سکو تو روک لو
اب کے کر دکھاؤ اور سب کو شوک دو
روک سکو تو روک لو!!

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس