0
0
0
تحریر: اقراء تبسم

میراگھرانہ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کیا کرتا تھا۔ میری ماں اور باپ دونوں بھیک مانگا کرتےتھے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو مجھے بھی بھیک مانگنے کے کام پر لگا دیا گیا۔

ایک روز میں ایک سکول کے قریب سے بھیک مانگتا ہوا گزر رہا تھا کہ بالکل اسی وقت اس سکول میں چھٹی ہو گئی۔ تو بچوں نے میرا مذاق اڑاناشروع کر دیا۔ دیکھو یہ لڑکا بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اور ہاتھ پیر بھی بالکل صحیح ہیں پھربھی بھیک مانگ رہا ہے۔ اس سے اتنا نہیں ہوتا کہ سکول میں آ جایا کرے۔

چھوٹے اور معصوم بچوں کی باتیں میرے دل میں اترتی چلی گئیں۔ اور میں ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ کر سوچنے لگا کہ واقعی یہ بچے سچ کہتے ہیں۔ مجھے بھیک نہیں مانگنی چاہیے۔ جب یہ ہی بات میں اپنے ماں باپ سے کہتا تووہ مار …مار… کر میرا برا حال کر دیتے۔ خیموں میں رہنے والے اور بھکاری برادری کے لوگ بھی جمع ہو جاتے اور مجھے برا بھلا کہتے۔ میں سر جھکائے ٹپ ٹپ آنسو بہاتا اور ﷲ سے التجا کرتا کہ اے ﷲ! تو ہی میری مدد فرما دے اور میرے ماں باپ کو بھی سیدھی راہ دکھا دے کہ وہ بھی بھیک نہ مانگیں اور محنت سے روزی کمائیں۔ اور مجھے سکول میں داخل کرا دیں تاکہ میں تعلیم حاصل کر سکو ں۔

لیکن شاید ﷲ میاں کے ہاں دیر تو تھی اندھیر نہ تھی۔ جون جولائی کی سخت گرمیاں تھیں۔ اس دن جمعہ تھا اور میں بھیک مانگ رہا تھا۔ قریب ہی ایک مسجد تھی جس کے باہر ٹالی کے بڑے بڑے درخت تھے۔ میں کچھ دیر سائے میں بیٹھنےک غرض سے مسجد کے سامنے والے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ اور پیسے گننے لگا۔ کیوں کہ ماں باپ کا کہنا تھا کہ جب تک پچاس روپے جمع نہ ہو جائیں بھیک مانگتے رہنا۔ اگر میں کسی دن پچاس روپے سے کم پیسے لے کر منزل کو پہنچتا تو مجھے برا بھلا سننے کو ملتا اور مارالگ کھانی پڑتی۔ جب میں نے پیسے گنے تو ابھی پینتیس روپے جمع ہوئے تھے۔ میں نے سوچاکہ آج مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاتا ہوں … جب نمازی نماز پڑ ھ کر نکلیں تو بھیک مانگنےسے اچھے خاصے پیسے جمع ہو جائیں گے۔ آج میں بہت خوش تھا کہ مجھے زیادہ دور نہیں جاناپڑے گا۔ ممکن ہے کہ میرا کام آج مسجد سے نکلنے والے نمازی ہی پورا کر دیں میں درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

تھوڑی دیر بعد مسجد کے مولوی صاحب نے اپنی تقریر شروع کی تو ایک ایک کر کے نمازی مسجد میں داخل ہونا شروع ہو گئے۔ عجیب اتفاق تھا کہ مولوی صاحب کی تقریر کا موضوع بھی آج گداگری کے خلاف تھا۔ وہ فرما رہے تھے کہ ہمارے مذہب اسلام میںﷲ کے نزدیک بھیک مانگنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ اور قیامت کے دن بھیک مانگنے والوں کے جسم پر گوشت نام کو بھی نہیں ہو گا۔ ایسے لوگ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوں گے۔ اور ایسے لوگوں کو ﷲ کے ہاں بڑی پکڑ ہو گی۔ اگر بڑی سے بڑی مصیبت ہی کیوںنہ آ جائے … انسان کو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اورﷲ سے مدد مانگنی چاہیے وہ کسی نہ کسی بہانے رزق ضرور دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم محنت مزدوری کر کے حق حلال کی روزی کمائیں۔ ﷲ تعالیٰ اپنے ایسے شکر گزار بندوں کو قیامت کے دن جنت میں داخل کرے گا۔

مولوی صاحب کی باتیں میری رگ رگ میں خون کی طرح سرائیت کر گئیں۔ ایک بھکاری ہونے کے ناطے مجھے ندامت کا احساس زمین میں گاڑے دے رہا تھا۔ خوف سے میرے اس قدر آنسو بہہ نکلے کہ میری قمیص کا دامن تر ہو گیا۔

میں نے چاہا کہ آج ہی سے توبہ کر لوں اور مسجد میں جا کر ﷲ میاں کے حضور اپنے سر کو جھکا لوں۔ مگر اپنے پھٹے پرانے اور میلے کچیلےکپڑوں پر نظر ڈالی تو گندگی کا ایک ڈھیر ہونے کی وجہ سے مسجد میں داخل نہ ہو سکا پھرمیں سوچنے گا کہ اگر مسجد میں چلا بھی گیا تو مجھ جیسے گندے اور پلید لڑکے کو صف میں اپنے برابر میں کون کھڑا ہون دے گا ہر کوئی مجھے گند ا سمجھ کر صف سے نکال دے گا۔

میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اورﷲ سے درخواست کی کہ اے ﷲ! میری مدد فرما تیرے علاوہ کوئی بھی مددگار نہیں ہو سکتا۔ میں نے مزیدبھیک مانگنے کی بجائے سیدھا جھونپڑی کا راستہ لیا جب ماں کو پینتیس روپے پکڑائے توماں مجھ پر لال پیلی ہو گئی اور جی بھر کے میری پٹائی کی اور میں کچھ نہ کہہ سکا۔

آنے والی صبح نے پھر میرے لیے مسئلہ کھڑا کر دیا۔جاؤ بھیک مانگنے … میں گھر سے پھر سوچ کر نکلا کہ آج مین بھیک ہرگز نہیں مانگوں گا۔کوئی محنت مزدوری کروں گا۔ میں شہر کے ایک بڑے ہوٹل کے پاس کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہآج اس  ہوٹل کے مالک سے مزدوری کی بات کی جائے تو شاید مجھے کا مل جائے … لیکن پھر جب میں نے اپنے پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑوں پر نظر ڈالی تو میری ہمت نہ ہوئی کہ ہوٹل کے مالک سے مزدوری کی بات کی جائے۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کروں کیانا کروں ۔ میں نے دیکھا کہ ایک لڑکا ایک لمبی سی لکڑی پر ہوا بھرے ہوئے غبارے بیچ رہاہے اور جسے بچے بڑی خوشی خوشی خرید بھی رہے ہیں ۔ … بس اسی وقت میں نے بھی فیصلہ کرلیا کہ مجھے بھی غبارے بیچنا ہوں گے اس طرح توکسی سے مزدوری طے کرنی پڑے گی اور نہہ کسی کی لعن طعن سننے کو ملے گی۔

مگر ایک مسئلے میں الجھ گیا کہ غبارے کہاں سے خریدوں تو  پیسے میرے پاس بالکل بھی نہیں ہیں … ادھار مجھے کوئی دے گا نہیں … بہرحال میں نےقسمت آزمانے کی کوشش کی اور ایک کھلونوں کی دکان پر پہنچ گیا۔ میں نے دوکان دار کوصاف صاف بتا دیا کہ میں بھکاری ہوں لیکن آج سے بھیک مانگنے کا ارادہ ترک کرنا چاہتاہوں آپ سے گزارش ہے کہ مجھے غباروں ک ایک تھیلی ادھار دے دو میں بیچ کر تمہارے پیسےواپس کر دوں گا۔ …مگر دوکاندار نے مجھے غبارے دینے کی بجائے جھڑک دیا چل …بھاگ… یہاں سے بھکاری کہیں کا… ابے تو اور میرے پیسے واپس کرنے آئے گا چل راستہ ناپ… میں اپناسا منہ لٹکائے چل دیا تو پیچھے سے ایک بزرگ نے آواز لگائی جو دکان سے سودا خرید رہےتھے۔ اے بیٹا ادھر آؤ۔ تمہارا جذبہ قابل قدر ہے۔ ادھر آؤ میں تمہیں ایک تھلی لے دیتاہوں۔ تب انہوں نے مجھے ایک تھیلی سات روپے کی خرید کر دی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیااور آگے بڑھ گیا۔ پھر خیال آیا کہ انہیں پھلا کر باندھنے کے لیے دھاگا بھی تو چاہیےمیں نے فوراً ہی اس بزرگ سے سوال کیا کہ چاچا جی آپ نے اتنی مہربانی کی ہے تو ایک دھاگے کی نلکی بھی دلوا دی اوب میں نے غبارے پھلا پھلا کر انگلی سے باندھ کر بیچنےشروع کر دیے۔ شاید اللہ کو میرا یہ عمل پسند آیا۔ اور میں نے دو گھنٹے کے اندر اندرپوری تھیلی بیچ دی پوری تھیلی میں تقریباً بہتر غبارے تھے۔ پھر میں نے پیسوں سے ایک تھیلی خریدی اور شام تک وہ بھی بیچ کر واپس ہو لیا اس طرح دو تھیلیاں بیچ کر میں نےتھیلی کے پیسے نکال کر انسٹھ روپے کمائے۔ پچاس ماں کو دیے اور نو روپے حفاظت سے ایک ڈبے میں رکھ دیے۔

اب میں نے بھیک مانگنا بالکل چھوڑ دی تھی۔ ماں باپ یہی سمجھتے تھے۔ کہ میں گھر سے باہر نکل کر بھیک مانگتا ہوں۔ ﷲ کی نظر مجھ پر مہربان تھی میں کبھی تین اور کبھی چار تھیلیاں غبارے کی بیچتا تھا۔

گھر پر کبھی پچاس روپے کبھی ساٹھ روپے اور بھی پچپن روپے دیتا تو اماں اور ابا دونوں خوش ہو جاتے اور باقی پیسے میں بچا لیتا۔ اس طرح میں نے سات ماہ میں تین ہزار روپے جمع کرلئے تھے۔

میں نے ان پیسوں میں سے تین نئے جوڑے سلوائے۔ جب شہرکی طرف آتا تو ریلوے سٹیشن کے قریب مال گودام میں کھڑی مال گاڑی کے ڈبے میں گھس کرنیا جوڑا پہن لیتا۔ اور صاف ستھرا بچہ بن کر بڑے اطمینان اور سکون سے غبارے بیچتا۔پھر انہی دنوں میں نے ایک مسجد کے پیش امام صاحب سے درخواست کی کہ وہ مجھے نماز پڑھناسکھائیں اور دینی تعلیم بھی دیں تو انہوں نے مجھے نماز پڑھنا سکھایا اور دینی تعلیمکا کورس بھی دینا شروع کر دیا جب میں مولوی صاحب سے دینی تعلیم حاصل کر کے مسجد سےباہر آتا تو مجھے کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے میں کبھی پریشان نہیں تھا،  مجھے دلی سکون ملتا۔ پھر مجھے احساس ہوتا کہ صفائی اور تعلیم انسان کے لیے دونوں ہی بہت لازمی ہیں۔

ایک روز میں نے غباروں کی تھیلی خریدی اور تمام غبارےپھلا کر ایک لکڑی میں باندھ کر اسی سکول کے سامنے آ گیا جہاں کبھی سکول کے بچوں نے میرا مذاق اڑایا تھا۔

جب سکول کی چھٹی ہو گئی تو وہ ہی بچے جنہوں ں ے مجھےبھکاری کے طعنے دیے تھے میرے قریب آ کر کہنے لگے کہ بھائی تم نے بھیک مانگنا چھوڑ دیاہے کیا…؟ ہاں بچو میں نے بھیک مانگنا چھوڑ دیا ہے اب میں بھی تمہاری طرح اچھا انسان بننا چاہتا ہوں۔ میں نے بچوں کو خوشی خوشی جواب دیا بھائی غبارے والے تم تو پاگل ہوگئے ہو۔ کوئی غبارے بیچنے والے بھی اچھا انسان بن سکتا ہے ایک بچے نے فٹ سے جواب دیا۔اگر تمہیں اچھا انسان بننا ہے تو تعلیم حاصل کرو۔ اور تمہیں کیا پتا کہ تعلیم دنیاکی سب سے بڑی دولت ہے اور دولت بھی ایسی کہ جسے کوئی چور بھی نہیں چرا سکتا۔ یہ بات ہمارے سر نے ہمیں بتائی ہے … دوسرے بچے نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی…

اگر تمہیں اچھا انسان بننا ہے تو تم غبارے بھی بیچو۔مگر اچھا ہو گا کہ تم ہمارے سکول میں داخل ہو جاؤ۔ میری عمر تقریباً سولہ سال کے قریب تھی اور بچوں کی عمریں نو سے گیارہ سال کے اندر اندر ہوں گی جو مجھے بھلائی کی طر ف آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ ابے یار تو مجھے بھی سکول میں داخل کرا دو۔ میں بھی پڑھناچاہتا ہوں … میں نے ایک بچے کو پیار کرتے ہوئے کہا…ہم کیوں داخل کرائیں سر ہماری بات تھوڑی ہی مانیں گے تم اپنے ابو کو ساتھ لے کر آؤ وہ تمہیں داخل کرائیں گے۔

ارے بھئی! میرے بچو! میرے امی ابو نہیں ہیں، میں نے مصلحتاًجھوٹ بولا… کیوں مر گئے ہیں …؟ ایک بچے نے سوال کیا… بچے کی یہ بات میرے دماغ میں گولی کی طرح لگی… کیونکہ میرے ماں باپ تو زندہ ہیں۔

یار تم اپنے ابو سے کہہ کر مجھے داخل کرا دو۔ میں نے بات ٹالنے کی کوشش کی… چلو ٹھیک ہے میں اپنے ابو سے کہوں گا وہ تمہیں داخل کرائیںگے۔

آج میں بہت خوش تھا اب میرا سکول میں پڑھنے کا شوق بھی پورا ہوتا نظر آ رہا تھا۔ میں اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر لوٹ گیا اور بغیر کچھ کھائےپیے خوابوں کی دنیا میں کھو گیا۔

خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک پری نے آ کر مجھےجھنجھوڑا تو میں گھبرا  کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پری نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا گھبراؤ مت میں علم کی پری ہوں اور میرا نام علم پری ہے میں کوہ کاف کے پہاڑوں سے یہاں آئی ہوں اور ہماری ایک بستی ہے جس میں رہنے والی تمام پریاں کو ﷲ نے یہ خوبی دی ہے کہ ہم نیک اور اچھے بچوں کے دل و دماغ کے معاملات کو اچھی طرح پڑھ لیتےہیں۔ اور انہیں اچھی خوش خبری سناتے ہیں۔ تمہارا علم حاصل کرنے کا ارادہ بہت اچھا ہےاور میں تمہیں خوش خبری سناتی ہوں کہ ایک دن تم پڑھ لکھ کر اس معاشرے کے اچھے انسانوں میں اپنا نام پیدا کرو گے اور لوگ تمہاری مثالیں دیں گے۔ شاید تم نے سنا ہو گا کہ ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرنا چاہیے۔ چاہے تعلیم حاصل کرنے کے لیے تمہیں چین کیوں نہ جانا پڑے۔ میں تمہیں خوشخبری سنانے آئی ہو ں کہ کل کی طرح آج بھی سکول کے باہر تم ضرور کھڑے ہونا ﷲ تمہاری مدد فرمائے گا۔ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گئی اور میں ایک دم نیند سے جاگ گیا۔ مجھے شدید پاس لگ رہی تھی۔ میں نے ایک گلاس پانی پیا اور دوبارہ لیٹ گیا مگر نیند آنے کا نام نہ لیتی تھی، بس صبح ہونے کا انتظار تھا۔

آخر وہ گھڑی بھی آ ہی گئی کہ میں دوسرے غبارے ایک چھڑی سے باندھے سکول کے سامنے کھڑا تھا۔ کہ عین چھٹی کے وقت ایک صاحب نے موٹر سائکل میرے قریب لا کر روکی۔ ہاں بیٹا تم پڑھنا چاہتے  ہو؟ اس شخص نے مجھ سے سوال کیا…جی صاحب میں پڑھنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کر سکتے ہیں …؟ ہاں … بیٹا میں تمہاری مددکر سکتا ہوں … مجھے کل اقبال نے تمہارے متعلق بتایا تھا۔ اسی لیے میں تم سے ملنے آیاہوں … دیکھو بیٹا سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تمہاری عمر زیادہ ہو چکی ہے دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ابو سے ملواؤ… اس سوال نے ایک بار مجھے پھر ہلا کر رکھ دیا۔ تب میں نے تمام بات بتا دی…سوری بیٹا… چلو کوئی بات نہیں۔ بہرحال میں تمہاری ہمت کی داد دیتا ہوں کہ تم نے ایک اچھے اور نیک ارادے کی ٹھان لی ہے۔ یقیناً اللہ تمہیں کامیاب فرمائے گا۔

تم ایسا کرو کل اتوار ہے چھٹی کا دن ہے میں گھر پرہی ملوں گا۔ تمہیں پڑھانے کے سلسلے میں ایک ماسٹر صاحب سے بات کروں گا۔ ﷲ نے چاہاتو وہ تمہیں بغیر کوئی فیس کے لیے پڑھائیں گے۔ جب تم تھوڑا بہت سمجھنے لگو گے تو تمہیں کسی پرائیویٹ کوچنگ سنٹر میں داخل کرا دیں گے۔ تو تم وہاں سے بھی تعلیم حاصل کرتے رہوگے اور امتحان بھی دیتے رہو گے۔ اس طرح تم تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے چلے جاؤ گے۔

بچے کے والد صاحب کی حوصلہ افزائی نے میرا ڈھیروں خون بڑھا دیا … میں اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر لوٹا… ماں کو حساب دیا اور میلی سی گدڑی پر ڈھیر ہو گیا۔

نیت صاف، منزل آسان… پھر کیا تھا میرا مسئلہ حل ہوگیا میں اسی طرح تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتا چا گیا کچھ سمجھنے لگا تو میں نے خودہی پرائیویٹ طور پر ایک سنٹر میں داخلہ لے لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مزدوری کی روزی میں اتنی برکت دی تھی کہ میں بہ آسانی گھر پر خرچہ دینے کے بعد فیس بھی ادا کر دیتا تھا۔مگر ماں باپ ابھی تک سمجھ رہے تھے کہ میں بھیک مانگتا ہوں۔ ہاں البتہ کچھ صاف سھترا لگنے لگا تھا اور اس کی وجہ سے وہ پوچھتے تھے کہ آج کل تو بھیک کیسے مانگ رہا ہےتو نے تو حلیہ اچھا بنا رکھا ہے ایسی حالت میں بھیک مانگنا آسان نہیں ہے۔ لیکن میں کوئی جواب نہیں دیتا اور خاموش رہتا۔ مجھے اپنے کام سے کام تھا۔

پھر مجھے میرے خدا نے میری محنت کا صلہ یوں دیا کہ مجھے پرائیویٹ سنٹر میں استقبالیہ پر دو ہزار روپے کی نوکری بھی دے دی گئی اسی طرح مجھےدو ہزار روپے تنخواہ مل جاتی دوپہر کو فارغ ہو کر شام آٹھ بجے تک غبارے بیچتا یوں مجھےگھر لوٹنے تک روزانہ غبارو ں کا خرچ نکال کر ستر اور کبھی اسی روپے مل جایا کرتے۔ اب میری زندگی میں ایک نیا انقلاب آ چکا تھا۔ میں ایک روز صاف ستھرے کپڑے پہن کر ہی گھرگیا تو ماں باپ دونوں مجھے دیکھ کر حیران تھے۔ ارے بھولے یہ تو نے کپڑے کہاں سے لیےہیں … اور یہ تیرے ہاتھ میں کتابیں کیسی ہیں، ماں نے چولہا پھونکتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔ ماں اگر میں نے تجھ کو سب کچھ بتا دیا تو خوشی کے مارے تیری بھوک اور نیند دونوں اڑ جائیں گی۔ ماں ذرا باپ کو بھی اپنے پاس بلا میں آج سب کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ بابانے سنا تو وہ بھی میرے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ چل بے جلدی بتا… کیا بتانا چاہتا ہے۔بابا فوراً بول اٹھے … بابا بات صرف اتنی ہے کہ تمہارا بھولا اب بھکاری نہیں …بلکہ ایک  پڑھا لکھا لڑکا ہے۔ میں سکول میں پڑھتا ہوں … مسجد میں نماز بھی پڑھتا ہوں… مجھے نما ز پڑھنا بھی آتی ہے اور میں نوکری بھی کرتا ہوں اب میں تقریباً چار سے پانچ ہزار روپے عزت سےکمالیتا ہوں۔ بھیک مانگنا سخت گناہ ہے ا س لیے کافی عرصہ سے میں نےبھیک مانگنا چھوڑ دی ہے اور اب تم  میرے ساتھ یہاں سے چلے چلو یہ خانہ بدوشی کی زندگی چھوڑ دو… شہر میں کوئی جھونپڑی کرائے پر لے لیں گے میں محنت سے کماؤں اور تم دونوں کو کھلاؤں گا۔ اس طرح ذلت کی زندگی کے بجائے عزت کی زندگی جئیں گے۔ میں پڑھ لکھ کر ضرور ایک نہ ایک دن بابو بھی بن جاؤں گا کیوں کہ تعلیم ایک بڑی دولت ہے اور جس کےپاس بھی یہ دولت ہوتی ہے وہ دنیا میں کبھی خسارے میں نہیں رہتا…

اور پھر یوں بھولا اپنے ماں باپ کو لے کر شہر آ گیااور عزت کی زندگی گزارنے لگا اور پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس