0
0
0
تحریر: اویس یونس

دنیا کا آسان ترین کام کسی پر تنقید کرنا ہے اور اِس سے بھی آسان کام کسی کی محنت کو رد کرنا اور اُس میں کیڑے نکالنا ہے اور اُس کی حوصلہ شکنی اور دل آزاری کرنا ہے تاکہ وہ دوبارہ ایسی کوشش بھی نہ کر سکے۔ اِس طرح کی حرکت اکثر لوگ ڈر کے مارے کرتے ہیں کیونکہ سامنے والے کی بڑھتی ہوئی شہرت اِن کی چھٹی نہ کروا دے یہ خوف انہیں گھیرے رکھتا ہے جس کے باعث یہ لوگ کیچڑ اچھالنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اِس حرکت کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں۔
تعمیر کرنا مشکل لگتا ہے، اپنا قد بلندکرنا اُس سے بھی مشکل کام محسوس ہوتا ہے اِس لئے اکثر لوگ جو اپنا آپ بُلند کرنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ سربُلندی کا شوق بھی رکھتے ہیں وہ اپنی بُلندی کی خاطر دوسروں کو پست کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ شاید اِس طرح وہ خود کو بُلند ثابت کر سکیں گے۔ اسی خبط میں اکثر لوگ اخلاقیات کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔
آدابِ گفتگو سے متعلق حضرت علی ابن ابی طالب کا فرمان ہے کہ "بیشک جاہل بحث میں پڑتے ہیں اور اہلِ ایمان تدبر سے بات کرتے ہیں۔" اگر اِس فرمان کو مدنظر رکھا جائے تو بہت سے لوگ جو خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں اور اپنے منہ میاں مٹھو بن کر اپنی نام نہاد کوششوں کو صاحبِ علم و فہم ہستیوں کے مقابل رکھنے کی حماقت کرتے ہیں، اُن کے کارناموں کی جہالت کا پول کھلنے میں وقت نہیں لگے گا۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس