0
1
0
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔۔۔

ہم سب ہی کسی نہ کسی حد تک اس کے لئے ذمہ دار ہیں۔ لیکن سب سے بڑا قصور وار وہ ہے جو ووٹ کے لئے تو عزت مانگتا ہو لیکن ووٹر کو عزت دینے کو تیار نہ ہو۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرے لگانے والے چناب کے کنارے پیاس سے مر جانے والے کتے کی ذمہ داری کیوں لینے لگے؟۔۔۔ ان کے عہد حکومت میں جب انسان بھوک، پیاس، مفلسی، بیماری اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشیاں کر ر ہے ہیں۔ جو زندہ ہیں، وہ بھی کہاں زندہ ہیں؟ وہ تو زندہ درگور ہیں۔ زندگی ان کے لئے جبر مسلسل بن چکی ہے۔ وہ ساغر صدیقی کے اس سوالیہ مصرع کی تصویر بن چکے ہیں:
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں۔۔۔

وہ تو سوچ رہے ہیں کہ
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مرچلے

جن حکمرانوں کو 30 برسوں میں عام ووٹر کی زندگی کو آسودہ بنانے کے لئے صاف پانی فراہم کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی، انہیں زیب نہیں دیتا کہ ووٹ کی عزت کی باتیں کریں۔ اب اقتدار سے محروم ہونے کے بعد یکدم انہیں ووٹ کا تقدس یاد آگیا۔ کاش ہمارے ان کرم فرماؤں نے طیبہ کی فریاد سے زینب کی پکار تک۔۔۔ بلال کی جھلسی میت سے بچوں کی روٹی کے لئے مسجد کا نلکا چرانے والے فیاض تک، کسی ایک کی بھی آنکھوں کی بے بسی دیکھی ہوتی۔۔۔
یا۔۔۔ ہسپتال کے کاریڈور میں علاج کے لئے سسکتی کسی بوڑھی عورت کی کرلاہٹیں ہی سن لی ہوتیں۔ کیسا ووٹر اورکیا اس کے ووٹ کی عزت۔ جس معاشرے میں 6 سال کی کم سن اور معصوم بچی کی عزت اور زندگی محفوظ نہ ہو۔۔۔ 
وہاں ووٹ کی عزت کیوں تلاش کر رہے ہو؟ کیا ووٹ اس بچی کی زندگی اور عصمت سے بھی زیادہ بیش قیمت ہو گیا!۔۔۔
ایسے معاشرے میں ووٹ کے تقدس کے لئے جدوجہد کی اہمیت پوچھنا ہو تو جاؤ جا کے قصور کی مریم کے بوڑھے باپ سے پوچھو! اب آپ ووٹ کی عزت کے محافظ ہونے کے دعوے کیوں کر رہے ہیں؟ کیوں ووٹ کی عزت کی گردان کر رہے ہیں؟ کیا اس لئے کہ سادہ لوح عوام کے ووٹ آپ کو یا آپ کے خاندان کے کسی فرد کو ایک بار پھر وزیراعظم بنا دیں۔ آپ بھول گئے کہ پلوں کے نیچے سے اب کافی پانی بہہ چکا ہے، عوام باشعور ہوچکے ہیں۔ اب آپ کی زبان سے جب وہ ووٹ کے تقدس کا نعرہ سنتے ہیں تو انہیں ہنسی آتی ہے۔۔۔ جب ووٹر ہی ذلیل و رسواء ہے تو اسے کون یقین دلائے گا کہ اس کے آزمائے ہوئے رہنما اگلے انتخابات میں ووٹ کی عزت اور احترام کویقینی بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس