0
2
0
تحریر: رض بٹ

جہاں کچھ لوگوں کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے وہیں بہت سے لوگوں کے لئے بددعا کرنے کا دل کرتا ہے۔ بات کردار کی ہے اور دارومدار نیت پہ۔۔۔ یہی اصول ہے۔
اب سانپ کو جتنا بھی دودھ پلا لیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اس کی خصلت میں ڈسنا ہی ہے۔ فطرتاً وہ مجبور ہے۔
کرم تو قدرت کا ہے کہ یہی سانپ اپنے ہی بچے کھا لیتا ہے اور ہمارے ہی دشمن کم ہو جاتے ہیں۔ اب اس میں ہمدردی یا حقارت چھوڑیں اور پہلے اپنے رب کا شکر ادا کریں کہ دشمن نے ہی دشمن کم کر دیئے۔

اور بددعا سے بہتر ہے اک دعا: اھدنا الصراط المستقیم
 جی ہاں! اپنے لئے دعا کیا کریں۔ یقین جانیں دعاؤں میں بہترین دعا ہدایت کی دعا ہے۔ اس کی برکت سے سارے سانپ خود ہی کچلے جاتے ہیں، پھر بھی اگر کسی کا اصل چہرہ سامنے آ جائے اور دل دکھے تو اپنے رب پہ چھوڑ دیں وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
کیونکہ وہ خود قرآن میں کہتا ہے: فسیکفیھکم اللہ وھو السمیع العلیم
آپ بس یہ اطمینان کر لیں کہ آپ کی نیت تو صاف ہے نا کیونکہ نیت صاف تو بیڑے پار ورنہ سب جہاں سے شروع ہو گھوم کے وہیں آ کے ختم بھی ہوتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ظلم ختم کرنے کے لئے ظالم کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔
ایک بات یاد رکھیئے گا کہ اس دنیا میں جس کی نیت صاف ہوتی ہے اس کے ساتھ جو بھی ہوتا ہے وہ اچھا نہ بھی ہو تو اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے۔ رب کی لاٹھی بے آواز ہے اور وہ اگر پردے رکھتا ہے تو یقین جانیں کہ وہ ذیادتی کرنے والوں کو بھی بھولتا نہیں، وقتی ڈھیل ہوتی ہے اور بس، اس کی پکڑ  سے ڈرنا چاہیئے۔

کچھ غلط فیصلوں کی بدولت آپ غلط نہیں ہو جاتے۔ پرسکون ضمیر، روح کا ہلکا پن محسوس ہو اور چین کی نیند آتی ہو تو آپ کامیاب ہیں وگرنہ خود کا محاسبہ کریں، بے چینی کا سبب تلاش کریں۔ غلطی ملے تو توبہ کریں اور اپنی غلطیوں کو سدھاریں یا پھر کم از کم کوشش ہی کر لیں سدھارنے کی اور اگر غلطی کوئی کارنامہ لگے اور اس پر ناز بھی ہونے لگے تو پھر یقیناً فسیکفیھکم اللہ وھو السمیع العلیم
مجھ جیسا گناہگار انسان اور کہہ بھی کیا سکتا ہے پر اسی بھروسے سے قائم ہے میں اور میرا یقین کہ بے شک حقوق العباد کا معاملہ خالصتاً انسانوں کا ہے وہ بھی آپسی، کوئی رعایت نہیں۔ نا جی چانس ہی نہیں ہے۔
معاف کیجیئے گا مگر حقیقت میں معاف کرنا رب ذوالجلال کی صفت ہے، انسان اس دنیا میں ہی معاف کر دے تو بڑی بات ہے اگلے جہاں کی کوئی توقع نہ رکھنا کیونکہ وہاں تو نیکیوں کے علاوہ تجارت کرنے کو اور کوئی کرنسی نہیں اور اگر یہ ختم تو معافی کے بدلے میں گناہ آپ کے ذمے اور اس بدلے میں اگر اکاؤنٹ مائنس میں چلا گیا تو کیا۔۔۔ اتنے تو سمجھدار ہیں ہی آپ!!

ویسے بھی اھدنا الصراط المستقیم اگر دنیا میں مجھے سیدھے راستے پر رکھے گی اور آخرت میں صراط پار کروائے گی تو زمین پہ ذیادتی کرنے والوں، یاد رکھو یہاں کی آہ، وہاں کا صراط اور اس دعا کا اثر۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس