0
2
0
شاعر: ابو فروا

اب دلِ ناداں کو سمجھائے نہ بنے
اُس پری وش کو بھی تو ستائے نہ بنے

نہیں کوئی کمی حسینوں کی اس جہان میں
پر کیا کرے کوئی، جب دل کو لبھائے نہ بنے

آنکھ پُر نم اور تھرکتے لبوں پہ نام تیرا
کیا ہےعشق کی پیاس کہ بجھائے نہ بنے

اک صورتِ یار ہی اِن نگاھوں میں ٹھہر گئی
کچھ اوربس اب ان آنکھوں کو سُجھائے نہ بنے

مانع رہی حیا، بانہوں میں یار کی آنے تلک
سانسوں کے زِیر و بم میں تو اب شرمائے نہ بنے

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس