0
3
0
اندرون شہر- پرانا لاہور شہر

لاہور کا پرانا شہر شہنشاہ اکبر کے دور میں (1584ء۔1598ء) اندرون شہر کے نام سے مشہور ہوا۔

لاہور کا پرانا شہر شہنشاہ اکبر کے دور میں (1584ء۔1598ء) اندرون شہر کے نام سے مشہور ہوا۔

مغلیہ دور میں، پرانا لاہور شہر چاروں اطراف سے قلعہ نما، 9 میٹر کی اُونچی اینٹ کی دیواروں سے گھرا ہوا تھا، اور اس کے ارد گرد فصیل تھی جس کا مقصد شہر کا تحفظ تھا۔ اس فصیل کے گرد ایک دائرہ نُما سڑک شہر کے تیرہ دروازوں تک رسائی دیتی تھی۔
تمام دروازے لکڑی اور لوہے کے بنے ہوئے تھے۔ ان دروازوں میں سے کچھ کے ڈھانچے اب بھی محفوظ ہیں۔
ویسے تو لاہور شہر کے 13 دروازے ہیں مگر مقامی لوگوں میں یہ بات مشہور چلی آ رہی ہے کہ لاہور کے 12 دروازے جب کہ تیرہویں موری ہے۔

لاہور شہر کے کل 13 دروازوں میں سے اس وقت صرف 6 دروازے،کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود و محفوظ ہیں۔

1۔ روشنائی گیٹ یا "گیٹ آف لائٹ":

1۔ روشنائی گیٹ یا "گیٹ آف لائٹ":

یہ گیٹ بادشاہی مسجد اور قلعے کے درمیان میں واقع ہے۔ اور اب بھی اس کی اصل حالت میں موجود ہے۔
 یہ قلعہ سے شہر کا مرکزی دروازہ تھا جو خاص طور پرشاہی خدمت گاروں، درباریوں اور ان کے خادموں کے استعمال میں تھا۔ شام کے وقت دروازےپر روشنی کے لئے دیا جلایا جاتا تھا، اسی وجہ سے اس گیٹ کا نام روشنائی گیٹ پڑ گیا۔

یہ گیٹ آج بھی موجود ہے۔

2۔ مستی گیٹ یا مسجدی گیٹ:

2۔ مستی گیٹ یا مسجدی گیٹ: فوٹوگرافر: شیراز جٹ

 اس گیٹ کا اصل نام مستی نہیں ہے، لیکن اس کے بجائے"مسجدی" ہے، جس کا مطلب ایک مسجد ہے مگر یہ مستی گیٹ کے نام سے مشہور ہے۔
 مریم زمانی بیگم مسجد کو تاریخی مسجد تصور کیا جاتاہے۔ اسے بیگم شاہی مسجد بھی کہتے ہیں۔ یہ مسجد مستی گیٹ کے قریب واقع ہے۔ یہ مسجد نورالدین سلیم جہانگیر نے اپنی ماں مریم از زمانی (مغل شہنشاہ اکبر کی ایک ہندو بیوی) کے لئےتعمیر کروائی تھی۔

 لاہورکے شاہی قلعے کے پیچھے "مستی گیٹ"کا داخلی راستہ ہے۔ آج کل یہاں جوتوں کی تھوک کی مارکیٹ ہے۔

یہاں اب کوئی گیٹ نہیں ہے۔

3۔ کشمیری گیٹ:

3۔ کشمیری گیٹ: فوٹوگرافر: شیراز جٹ

یہ دروازہ شہر کے شمالی طرف ہے۔ اس گیٹ کو کشمیری گیٹ اس کے وادی کشمیر کی سمت کے سامنے ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔

 مغل دورِ حکومت کی ایک اور شاندار عمارت، حویلی آصف جاہ یہیں موجود ہے۔ آصف جاہ لاہور کے گورنر، ملکہ نور جہاں کے بھائی اور ملکہ ممتازمحل کے والد تھے۔ سکھ دور کے دوران، یہ دھیان سنگھ کی حویلی تھی جو راج رنجیت سنگھ کا ایک اعلٰی عہدیدار تھا۔ برطانوی راج کے دوران اس عمارت کا استعمال انتظامی مقاصدکے لئے کیا جاتا تھا۔ تقریباً 42 کنالوں پر محیط یہ حویلی بعد ازاں ایک تعلیمی ادارے(وومین کالج) میں تبدیل کردی گئی۔

 کشمیری بازار کی مارکیٹیں اور گلیاں قدرے تنگ ہیں۔ایشیاء کا سب سے بڑا کپڑے کا بازار "اعظم کلاتھ مارکیٹ" بھی یہیں واقع ہے۔مشہور قتوالی چوک کھانے کی لذیذ دکانوں کے لئے بھی مشہور ہے۔ اس چوک کے پاس مشہور مسجدوزیر خان ہے۔ چوک سے ایک راستہ پاکستان کلاتھ مارکیٹ جبکہ دوسرا اعظم کلاتھ مارکیٹ اور رنگ محل کی طرف جاتا ہے۔ جبکہ تھوڑا آگے چوہٹہ مفتی باقر ہے جس کے پاس قدیم اورمشہور برتنوں والا بازار بھی ہے۔
اس گیٹ کی دوسری جانب گاڑیوں کے سپیئر پارس کی بہت بڑی مارکیٹ ہے۔

یہ گیٹ آج بھی موجود ہے۔

4۔ خضری گیٹ یا شیرانوالہ گیٹ:

4۔ خضری گیٹ یا شیرانوالہ گیٹ: فوٹوگرافر: شیراز جٹ

بہت پہلے دریا شہر کی دیواروں کی طرف سے خضری یا شیرانوالہ گیٹ کے آگے سے بہتا تھا، اور گھاٹ اس جگہ کے قریب تھا۔ اس لئے یہ دروازہ نسبتاً ااُونچائی پر ہے اور اسی نسبت سے (مسلم عقیدے کے مطابق) خضری گیٹ کا نام، درویش بزرگ حضرت خضرالیاس (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا (چلتے ہوئے پانی اور حیات جاوداں کی وجہ سے)

کچھ مؤرخ یہ بتاتے ہیں کہ جب مہاراجہ رنجت سنگھ نےشہر فتح کیا تو اس نے پنجرے میں قید دو پالتو شیروں کو حفاظت کے لئے، دروازے کے اطراف میں رکھ دیا، جس کی وجہ سے اس دروازے کا نام شیرانوالہ گیٹ پڑ گیا۔ شیرانوالہ پنجابی زبان کا لفظ ہے، جسکے معنی شیروں والا ہے۔

یہ گیٹ آج بھی موجود ہے۔

اندرون شیرانوالہ گیٹ

اندرون شیرانوالہ گیٹ فوٹوگرافر: شیراز جٹ

آج بھی مرکزی دروازے کے اندر بازار کی داخلی گزرگاہ کی محراب کے اطراف میں شیر نقش ہیں۔

اندرون شیرانوالہ کی اس مشہور جگہ کو نوگھرا (9 گھروں) کے نام سے جانا جاتا ہے-کہا جاتا ہے کہ کافی پہلے پہاں صرف نو گھر ہوتے تھے، جسکی وجہ سے اس کا نام نو گھراپڑ گیا۔
اس پر نیاز میر صاحب کی ایک مفصل کتاب نوگھرا کےنام سے بھی موجود ہے۔

نوگھرا ۔ نیاز میر

نوگھرا ۔ نیاز میر بشکریہ: محمد طارق بٹ

5۔ یکی گیٹ یا ذکی گیٹ:

5۔ یکی گیٹ یا ذکی گیٹ: فوٹوگرافر: شیراز جٹ

یکی گیٹ کا داخلی راستہ جہاں کبھی گیٹ ہوا کرتا تھا۔ 

شہید بزرگ ذکیؒ کامزار آج بھی یکی گیٹ کے داخلی راستے پر جگہ موجود ہے۔

شہید بزرگ ذکیؒ کامزار آج بھی یکی گیٹ کے داخلی راستے پر جگہ موجود ہے۔ فوٹوگرافر: شیراز جٹ

یکی گیٹ کا اصل نام "ذکی" تھا جو ایک شہیدبزرگ درویش کے نام سے اخذ کیا گیا تھا۔ ان کی بھی کہانی حیرت انگیز ہے۔ روایت کے مطابق یہ بزرگ، اپنے شہر کی حفاظت کی خاطر، شمال کی طرف سے حملہ آور ہونے والے تاتاری مغلوں کے خلاف لڑے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دورانِ جنگ ان کا سر قلم کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجودان کا جسم کچھ وقت تک لڑتا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا سر اور جسم اسی جگہ دفن کیاگیا جہاں وہ گرے تھے۔

یہاں اب کوئی گیٹ نہیں ہے مگر ان شہید بزرگ ذکیؒ کامزار آج بھی یکی گیٹ کے داخلی راستے پر جگہ موجود ہے جہاں پہلے کبھی گیٹ ہوا کرتاتھا (یہاں ان کا سر مبارک دفن ہے)۔

6۔ دہلی گیٹ:

6۔ دہلی گیٹ: فوٹوگرافر: شیراز جٹ

یہ دروازہ شہنشاہ اکبر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔لاہور سے دہلی جانے والی شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے دہلی گیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔دہلی مغل سلطنت کا دارالحکومت بھی تھا۔
اس گیٹ میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب لاہور کے گورنرحاکم علم الدین انصاری کا تعمیر کردہ شاہی حمام (رائل باتھ) ہے۔ جو انھوں نے 1634ءبعد مسیح میں بنایا۔ یہا ں سے تھوڑا آگے مسجد وزیر خان بھی ہے۔ سیّد محمد اسحاق المشہورحضرت میران بادشاه کا مزار مسجد کے صحن میں واقع ہے۔
 اس گیٹ کے دوسری جانب لاہور کا مشہور لنڈا بازار ہے۔

یہ گیٹ آج بھی موجود ہے۔



آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس