0
1
0
شاعر: ابو فروا

دل ناشاد بھی ہے پاس میرے، دل بیتاب بھی
انوکھا لاڈلہ کھیلن کومانگے ہے آفتاب بھی

جنبشِ لب پرپابندی، جو جاننا چاہو، ہو، حال میرا
اک ہتھلی پہ رکھوں نکال دل اور اک پہ سیماب بھی

اطمینانِ قلب کو ڈھونڈو ہوں اس عشقِ مجازمیں
نفسِ مطمعنَ مل گیا جسے، ہوگا وہی کامیاب بھی

دل گیا، جان گئی، ہوش گئے، حواس بھی
کہاں لا کےچھوڑا عشق نے، گئی صحبتِ احباب بھی

شکوہ کیسا؟ تونے کمی نہ کی اے ربِ ذوالجلال
دیا قسمت نے سب، کاش ملتا وہ دُرِ نایاب بھی

ایسا پندُ و نصح کیا، جاتےہوئے، اُس مہہ جبیں نے
چلی توگئی پر لے گئی ساتھ، میرےخواب بھی

جنونِ دیدِ تمنا کاعالم تو دیکھ اے ناصح
دل ھےخار خار میرا، اورھے اشکوں کا سیلاب بھی

سازِ دل سناؤں کیسے، اب نغمہ ہائےالم کیا
جوتھی ڈھرکن میری، وہ ھی تھی مضراب بھی

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس