0
1
0
تحریر: اویس یونس

کہتے ہیں ایک جنگل میں آگ لگ گئی سب جانور جنگل سے باہر بھاگنے لگے؛ وہیں دور ایک چڑیا یہ سب دیکھ رہی تھی وہ اڑی اورایک قریبی ندی سے اپنی چونچ میں پانی بھر کر آگ بجھانے لگی۔۔۔

ایک شیر کی اس پر نظر پڑی تو اس نے سوال کیا ! "اے چڑیا تیری چند بوندیں بھلا جنگل کی آگ بجھا سکتی ہیں؟"
چڑیا بولی: "بادشاہ سلامت! آپ کا سوال اتنا اہم نہیں کی یہ بوندیں جنگل کی آگ کیسے بجھائیں گی بلکہ سوال بادشاہ کل عالم کا اہم ہو گا جب وہ آخرت میں مجھ سے پوچھے گا کہ جب جنگل آگ میں جھلس رہا تھا تو تم نے کیا کیا؟"
جب میں اپنے مالک کو بتاؤں گی کہ میں نے اپنی حیثیت کے مطابق چند بوندیں پھینکیں تھیں تو وہ مجھ سے خوش ہو کر مجھے بخش دے گا۔ ۔ 

آپ بھی اس چڑیا کی طرح اپنا حصہ ڈالئے کیونکہ بات ہار جیت کی نہیں ہوتی بات فقط قبول ہونے کی ہے۔ بات نیت کی ہے۔ کیا پتہ کسی عبادت گزار کی تکبر والی عبادت قبول نہ ہو اور کسی گناہ گار کی عاجزی و ندامت کے دو آنسو اسے بھلے لگیں اور وہ بخش دے۔ کیا پتہ آپ کی چھوٹی سی کاوش کسی گمراہ کو سیدھے راستہ پر لے آئےاور جب وہ عظمت والے لوگوں میں کھڑا ہو تو اللہ پاک سے یہ کہہ دے کہ اے مالک مجھے یہ راستہ دکھانے والی فلاں شخص کی کوئی تحریر کوئی لیکچر یا کوئی بات تھی اور شاید اسی وقت آپ کی کاوش کا صلہ آپ کو مل جائے۔ ۔ ۔ اگر نیت بہتر ہے تو مالک اس عمل سے پہلے ہی نیت کو دیکھتے ہوئے اس کا صلہ دے دیتا ہے۔ ۔ تو آئیے نیک نیتی کے ساتھ اپنا حصہ ایک نئے جذبہ اور خلوص کے ساتھ ڈالتے رہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس