0
1
0
تحریر: عنبر شاہد

بچوں کو جنسی تعلیم کیسے دیں اور اس کے لیے مناسب عمرکیا ہے؟

آج میں انتہائی حساس لیکن اہم موضوع پر بات کرنا چاہ رہی ہوں، پہلے اس موضوع پر قلم کشائی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی لیکن زینب اور مہوش کے واقعات نے مجھے جھنجھوڑکررکھ دیا۔ آئے روز اخبارات اور سوشل میڈیا میں کئی طرح کے اسکینڈل  آرہے ہیں جن کو دیکھ اور سن کر روح کانپنے لگتی ہے ۔ میں تو اپنے بچوں کی حفاظت کر لوں گی مگر یہاں پہنچ کر میرا وہ مقصد حیات پورا نہیں ہوتا اوروہ ذمہ داری جو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ﷲ نے ہم پرعائد کی ہے پوری نہیں ہوتی۔
جانتے ہیں ہمارا معاشرہ اتنی پستی کا شکار کیوں ہےکیونکہ ہم سب صرف اور صرف اپنی ذات اور خواہشات تک محدودہو گئے ہیں،ہم نے خود کو اسلام سے دور کرلیا ہے ،ہم دوسری قوموں کی پیروی کرتے کرتے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں جہاں ہماری اپنی شناخت معدوم ہو چکی ہے۔ہمارا میڈیا غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے ہمارانظام تعلیم دوسروں کا محتاج ہے ۔ہمارے سکول صرف کاروباری مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ہمارےبڑوں کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں اس لیے وہ انہیں بڑے آرام سے موبائل دے کر اپنےکاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
ارے کہاں گئی تربیت اور اخلاقی اقدار؟
کیا ہمارے بچے اتنے فالتو ہیں کہ ہم انہیں برباد ہونےکے لیے چھوڑ دیں ۔ سب سے بڑا المیہ جو ماں باپ ہر وقت یہ کہتے ہیں ،ابھی بچی ہے ،ابھی بچہ ہے،ہر گھر میں بچے ملازموں کے حوالے کر کے مائیں خود آرام سے بیوٹی پارلریا جاب پر جاتی ہیں اور باپ سارا دن نوکری کے بعد موبائل پر اخلاقی لیکچر دیتے ہیں ان کواندازہ بھی نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو کس درندگی کے حوالے کر رہے ہیں۔ وہ جن بچوں کو بچہ سمجھتے ہیں۔وہ تو چھ سال کی عمر سےہی زندگی کے ہر موضوع پر ایکسپرٹ بن جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل کےذریعے،یو ٹیوب پر لا تعداد ویڈیوز ہیں جو ہماری نسل کی بربادی کے لیے کافی ہیں۔
ہمارے بچوں کی بربادی میں سب سے بڑے  گناہ گار تو خودماں باپ ہیں۔ارے کیا ہوا؟ بھول گئے آپ کے ماں باپ نے آپ کی کیسی تربیت کی کیسے آنکھوں کا تارا بنا کر رکھا تھا۔آپ کیسے اپنی اولاد کو بے راہ روی کے حوالے کر سکتے ہیں۔نماز, قرآن, روزہ; ہر چیز پر آپ کہتے ہیں کہ پڑھ لیں گے ابھی بچے ہیں۔ لیکن موبائل دیتےوقت یہ نہیں سوچتے کہ بچوں کے معصوم ذہنوں پر کیا اثر پڑسکتا ہے؟آپ بچے بچیوں کے لباس کی پرواہ کرتے ہیں نہ کھلے عام لڑکے لڑکیوں کے اکٹھے کھیلنے کی.....
ارے آپ تو یہ بھی نہیں جاتے کہ پانچ چھ سال کی عمرکے بچے آپسں میں کیا باتیں کرتے ہیں کیا کبھی آپ نے غورکیا ان کی آپس میں گفتگوکاموضوع کیا ہے؟
ہو بھی کیسے؟ ماں کے پاس وقت نہیں,باپ بھی مصروف ہے۔پھرآپ سوچتے ہوں گے کہ ہم تو سکولوں کو اتنی فیس دیتے ہیں تربیت وہ کرلیں گے۔۔۔۔
نا جی نا۔۔۔
وہ تو ان کاکاروبار ہے ،تعلیمی ادارے چاہے10ہزار فیس والے ہوں یا 2 ہزار والے یہ آپ کو تعلیم اور اخلاق کے علاوہ سب کچھ دے رہے ہیں ان سے امید لگانا چھوڑ دیں،تو پہلی چیز گھر تھا وہاں بچوں کی تربیت صفر ہے،پھر رہا سکول وہاں بھی صرف بچے دن گزارنےجاتے ہیں۔میڈیا جہاں بچوں کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کہ یہاں تو اشتہارات بھی مہمانوں کو بھگانا اور بے حیائی سکھاتے ہیں۔
تو باقی رہ گیا انٹر نیٹ تو وہ تو شیطان کا آلہ کارہے بس  آپ خود ہی اپنی نسل کے دشمن بن گئے ہیں ،بچے تعلیم سے گئے، اخلاق سے گئے اورآدھے سے زیادہ معاشرہ جنسی درندوں سے بھرا ہے۔اب کیا کیا جائے ؟
کیا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تما شا دیکھنا ہے یا اس مسئلےکا حل تلاش کرنا ہے؟

میں نے تو اس مشن کا آغاز کر دیا ہے، کمر کس لی ہے اور آپ لوگوں کو بتانے کے لئے قلم بھی اٹھا لیا ہے۔ میرا مقصد معاشرے کی اصلاح اور ہمارے بچوں کا مستقبل بہتر بنانا ہے۔ کاش میں روزِ ازل اپنے رب کے حضور یہ کہ سکوں کہ میں نے اپنی کوشش کی بالکل اس چڑیا کی طرح جو اپنی چونچ میں پانی بھر بھر کے نمرود کی جلائی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا حصہ ڈال گئی۔ﷲ ہم سب کو معاشرے کی بہتری میں حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
جاری ہے۔۔۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس