0
3
0
تحریر: شاہد سعید

جب بات خلافت عثمانیہ اور اس سے جڑے ہوئے قصیدوں کی آتی ہے تو دل میں کئی سوال اٹھتے ہیں، دماغ کی بتی گل ہو جاتی ہے، پھر بھلا ہو آج کے جدید دور کا جس کی بدولت سب معلومات کی کھوج لگانہ نہایت ہی آسان ہو گیا ہے۔ علم کو عام کرنا بھی ایک فضیلت ہے، چلیں اسی بہانے اپنی معلومات آپ کے پیش نظر کرتا ہوں۔

سلطنتِ عثمانیہ: سب سے پہلے سلطنتِ عثمانیہ کی بات کرتے ہیں، سلطنتِ عثمانیہ دنیا کی عظیم ترین سلطنتوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے  جس کی بنیاد عثمان غازی نے 13ویں صدی میں رکھی۔ عثمان غازی ایک چھوٹی سی ریاست سوغوت کے ترک سردار تھے اور سلطنتِ عثمانیہ کی شروعات عثمان غازی کے ایک خواب کا ردعمل تھی۔

برطانوی مورخ کیرولین فنکل نے اپنی کتاب "عثمان کا خواب" میں لکھا ہے کہ ایک رات عثمان غازی ایک بزرگ شیخ ادیبالی کے گھر میں سو رہے تھے اور انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ان کے سینے سے ایک درخت اگ کر ساری دنیا پر سایہ ڈال رہا ہے۔ عثمان غازی نے جب شیخ ادیبالی کو خواب سے آگاہ کیا تو بزرگ نے کہا: "اے عثمان، مبارک ہو، ﷲ نے آپ کو اور آپ کی اولاد کو شاہی تخت سے نواز دیا ہے"۔

اسں خواب کی بدولت عثمان غازی کو لگنے لگا کہ اب ان کو ﷲ کی تائید حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آس پاس کی سلجوق اور ترکمان ریاستوں، اور بالآخر بازنطینیوں کو پے در پے شکست دے کر اناطولیہ کے بڑے حصے پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے سائے میں انہوں نے نہ صرف اناطولیہ بلکہ تین براعظموں کے بڑے حصوں پر صدیوں تک حکومت کی۔

عثمان غازی کے جانشینوں نے 1326 میں یونان کا دوسرا بڑا شہر تھیسالونیکی فتح کیا، جب کہ 1389 میں وہ سربیا پر قابض ہو گئے۔ لیکن ان کی تاریخ ساز کامیابی 1453 میں بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی فتح تھی۔ سات سو برسوں سے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس کا جغرافیہ کچھ ایسا تھا کہ وہ ہر بار ناکامی ہوتیں۔

قسطنطنیہ کو تین طرف سے بحیرۂ باسفورس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو اس کے لیے پناہ کا کام کرتا ہے۔ بازنطینیوں نے گولڈن ہورن کو زنجیریں لگا کر بند کر رکھا تھا جب کہ دوسری جانب ان کے 28 جنگی جہاز پہرے پر مامور تھے۔

عثمانی سلطان محمد فاتح نے 22 اپریل 1453 کو ایک ایسی چال چلی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔ انھوں نے خشکی پر تختوں کی شاہراہ تیار کی اور اس پر تیل اور گھی ڈال کر اسے خوب پھسلواں بنا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے 80 بحری جہاز اس راستے پر مویشیوں کی مدد سے گھسیٹ کر دوسری طرف پہنچا دیے اور شہر کے حیرت زدہ محافظوں پر آسانی سے قابو پا لیا۔ محمد فاتح نے اپنا دارالحکومت قسطنطنیہ منتقل کر کے  قیصرِ روم کا خطاب بھی حاصل کیا۔

خلافت عثمانیہ: عثمانی سلطان محمد فاتح کے پوتے سلیم اول نے 1516 اور 1517 میں مصر کو شکست دے کر مصر کے علاوہ موجودہ عراق، شام، فلسطین، اردن، اور سب سے بڑھ کر حجاز پر قبضہ کر کے اپنی سلطنت کا رقبہ دگنا کر دیا۔ حجاز کے دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ حاصل کرنے کے ساتھ ہی سلیم اول مسلمان دنیا کے سب سے طاقتور حکمران بن گئے۔ اور اس طرح 1517 ہی سے خلافت عثمانیہ کا آغاز ہوا، اور سلیم اول کو پہلا خلیفہ قرار دے دیا گیا، اگرچہ ان سے پہلے عثمانی ’سلطان‘ یا ’پادشاہ‘ کہلاتے تھے۔

مولانا ابو الکلام آزاد اپنی کتاب 'مسئلۂ خلافت' میں کچھ ایسے بیان کرتے ہیں کہ "سلطان سلیم اول کے عہد سے لے کر آج تک بلا نزاع سلاطینِ عثمانیہ ترک تمام مسلمانان عالم کے خلیفہ و امام ہیں۔ ان چار صدیوں کے اندر ایک مدعی خلافت بھی ان کے مقابلہ میں نہیں اٹھا۔ حکومت کے دعوے دار سینکڑوں اٹھے ہوں، مگر اسلام کی مرکزی خلافت کا دعویٰ کوئی نہ کر سکا"۔

مغل بادشاہوں کے عثمانی سلاطین کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، ان کے درمیان تحائف اور سفارتی وفود کا تبادلہ عام تھا اور وہ انہیں تمام مسلمانوں کا خلیفہ مانتے تھے۔ اور صرف مغل نہیں بلکہ دوسرے ہندوستانی حکمران بھی عثمانیوں کو اپنا خلیفہ سمجھتے تھے اور اقتدار میں آنے کے بعد ان سے بیعت لینا ضروری سمجھتے تھے۔

ٹیپو سلطان نے میسور کا حکمران بننے کے بعد ایک خصوصی وفد قسطنطنیہ بھیجا تھا تاکہ اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلیم سوم سے اپنی حکمرانی کی تائید حاصل کر سکیں۔ سلیم سوم نے ٹپیو سلطان کو اپنے نام کا سکہ ڈھالنے اور جمعہ کے خطبہ میں اپنا نام پڑھوانے کی اجازت دی۔ یہ الگ بات کہ انھوں نے ٹیپو سلطان کی طرف سے انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے فوجی امداد کی درخواست قبول نہیں کی، کیوں کہ اس وقت وہ خود روسیوں سے برسرِ پیکار تھے اور اس دوران وہ طاقتور انگریزوں کی دشمنی مول نہیں لے سکتے تھے۔

عثمانیوں نے ابتدا ہی میں یورپ کے کئی علاقے فتح کر لیے تھے۔ سلمان عالیشان کے دور میں سلطنت اپنے فوجی، سیاسی، معاشی اور ثقافتی عروج پر پہنچ گئی۔ سلمان نے بلغراد اور ہنگری فتح کر کے اپنی سرحدیں وسطی یورپ تک پھیلا دیں۔ لیکن دو بار کوشش کے باوجود سلمان عالیشان آسٹریا کے شہر ویانا کو فتح نہیں کر سکے۔

یورپ میں 'ایج آف ڈسکوری' یعنی دریافتوں کا دور تھا اور سپین، پرتگال، نیدرلینڈز اور برطانوی بحری بیڑے دنیا بھر کے سمندر کھنگال رہے تھے۔ براعظم امریکہ کی دریافت اور اس پر قبضے سے یورپ کو بقیہ دنیا پر واضح برتری حاصل ہو گئی اور انھوں نے جگہ جگہ اپنی نوآبادیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔

دریں اثنا 16ویں اور 17ویں صدیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں یورپ نے بقیہ دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جہاز رانی کی صنعت کے فروغ کی وجہ سے انھیں جہاز رانی کے لیے نت نئے آلات ایجاد کرنے اور انھیں بہتر بنانے کی ضرورت تھی جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی دونوں کو فروغ دیا۔ چنانچہ یورپ آگے بڑھتا چلا گیا، عثمانی سلطنت سال بہ سال سکڑتی چلی گئی حتیٰ کہ پہلی جنگِ عظیم کے دوران انگریزوں نے ان سے اناطولیہ کے علاوہ تقریباً تمام علاقے چھین لیے۔

ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کا بڑا دکھ ہوا کیوں کہ وہ عثمانی خلیفہ کو اپنا مذہبی حکمران اور رہنما سمجھتے تھے۔ انہوں نے 1919 میں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی کی قیادت میں تحریکِ خلافت شروع کی جس میں انگریزوں کو دھمکی دی گئی کہ اگر انھوں نے خلیفہ عبدالحمید کو معزول کرنے کی کوشش کی تو ہندوستانی مسلمان ان کے خلاف بغاوت کر دیں گے۔ اس تحریک میں عطا اللہ شاہ بخاری، حسرت موہانی، مولانا ابوالکلام آزاد، ظفر علی خان، مولانا محمود الحسن اور حکیم اجمل خان جیسے رہنما بھی شامل ہو گئے۔

اس سے پہلے یہ تحریک مزید زور پکڑتی، 1922 میں کمال اتاترک کی قیادت میں قوم پرست طاقتوں نے ملک کا اقتدار سنبھال کر خلیفہ عبدالحمید کو معزول اور خلافت کے منصب کو ختم کر دیا، اور یوں 623 برس تک شان و شوکت سے راج کرنے والی اس عظیم سلطنت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔

معاہدہ لوزان: جدید ترکی کے معمار کمال اتاترک نے مغربی طاقتوں سے مل کر 1923ء میں ایک ایسے سوسالہ معاہدہ پر دستخط کیے۔ جسے تاریخ میں "معاہدہ لوزان" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی اور تینوں براعظموں میں موجود خلافت عثمانیہ کے اثاثوں اور املاک سے بھی دستبرداری اختیار کرلی گئی تھی۔ یہ معاہدہ لوزان ٗ جنگ عظیم اول کی فاتح قوتوں نے آپس میں ہی طے کیا تھا اور دستخط کمال اتاترک نے کر کے مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصے پر قابض تھیں۔ ان قوتوں میں سے برطانیہ نے وہ خطرناک اور ظالمانہ شرائط معاہدہ لوزان میں شامل کروائیں جن کی رو سے ہاتھ پاؤں باندھ کر ترکی کو یورپی ممالک کا محکموم بنا دیاگیا تھا۔ ترکی اگلے سو سال تک اس معاہدے کو نبھانے کا پابند قرار پایا۔ 2023ء میں یہ معاہدہ خود بخود اپنی مدت پوری ہونے پر ختم ہورہاہے۔

اس معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل تھے:

1- خلافت عثمانیہ فوری طور پر ختم کردی جائے۔ سلطان اور ان کی فیملی کو ترکی سے جلاوطن کردیاجائے

2- خلافت عثمانیہ کی تمام املاک اور اثاثے ضبط کرلیے جائیں جس میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل ہوں۔

3- ریاست ترکی مستقبل میں ایک سیکولر ریاست ہوگی اس کا دین اسلام ٗ خلافت عثمانیہ اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔

4- ترکی اپنی سرزمین اورسمندری حدود میں تیل کی تلاش نہیں کرسکے گا اور اپنی ضرورت کا تیل دوسرے ملکوں سے خریدنے کا پابند ہوگا۔

5- باسفورس عالمی سمندر میں شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس وصول کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

6- باسفورس، بحراسود، ٗ بحر مرمرہ اور بحر متوسط کے درمیان میں وہ سمندر ہے جو عالمی تجارت کا مرکزی راستہ ہے جہاں سے بحری جہازوں کے ذریعے دنیا کی کثیر تجارت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بحری راستے کو وہ اہمیت حاصل ہے جو مصر نہر سویز کو دنیا میں حاصل ہے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ترکی میں فوج اور عدلیہ کے باہمی ملاپ نے ترک معاشرے کو کس قدر مضبوطی سے جکڑ رکھا تھا کہ وہاں کھلے عام قرآن پاک پڑھنے کی بھی اجازت نہیں تھی اور اگر سیکورٹی اداروں کو پتہ چل جاتا کہ کسی گھر یا مقام پر قرآن کی تعلیم دی جارہی ہے تو وہ گھر ہی بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا تھا۔ نماز کے حوالے سے بھی کہیں نرمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جبکہ روشن خیالی کا اس قدر چرچا تھا کہ سر پر دوپٹہ پہن کر کسی بھی سرکاری تقریب ٗ سکول ٗ کالج میں جانا سب سے بڑا جرم تصورکیا جاتا تھا۔ اس سخت گیر معاشرے میں طیب اردگان سے پہلے بھی دو تین بار اسلامک ذہن رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے عوام کے ووٹوں سے حکومتیں توبنا لیں لیکن یہ حکومتیں عدلیہ اور فوجی بیورو کریسی نے مل کر ختم کر دیں اور اسلامی ذہن رکھنے والے افراد کو مشق ستم بنا ڈالا ۔ طیب اردگان کا وجود یقینا ایسے ترک معاشرے کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتا ہے جنہوں نے ایسے سیکولر اور سخت معاشرے میں نہ صرف اپنے وجود کو برقرار رکھا بلکہ ہر سطح پر سیکولر روایات کو آہستہ آہستہ ختم کرڈالا۔

ترکی میں 15 جولائی 2016 کو جو ناکام فوجی بغاوت ہوئی تھی اس کے پیچھے بھی امریکہ سمیت یورپی ممالک تھے۔ اس بغاوت کا محرک طیب اردگان جیسے اسلامی ذہن کے عوامی لیڈر کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانا تھا جس طرح مغربی ممالک نے مصر میں صدر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں ایک امریکی غلام مصری جرنیل بٹا دیا اور مرسی کو عدالت کی جانب سے کبھی سزائے موت اور کبھی عمرقید کی سزا سنادی گئی۔ مصرکی فوجی بغاوت کو ایک مثال بنا کر ترک معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ یہ تو ﷲ تعالی کا کرم ہوا کہ عوام کے شدید ردعمل کی بنا پر ترکی میں فوجی بغاوت کو کچھ اس طرح کچل دیا گیا کہ تاریخ میں اس کا ذکر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔ اور دنیا نے دیکھا کہ جب عوام کسی نظریے یا عوامی لیڈر کا تحفظ کرتی ہے تو ٹینکوں توپوں اور جہاز وں سے لیس فوج بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوتی ہے۔ فوج کے سامنے کھڑا ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ پھر مسلم ممالک کے عوام تو فوجی بغاوت  پر مٹھائیاں تقسیم کرنے میں مشہور ہیں۔ بطور خاص پاکستان میں جتنے مرتبہ بھی مارشل لاء نافڈ ہوا تو عوام نے مزاحمت کی بجائے ہمیشہ میٹھائیاں بانٹ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ اس اعتبار سے رجب طیب اردگان دنیائے اسلام کے وہ ہیرو ہیں جن کی پشت پر ترک عوام کھڑی ہوگئی۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ترک قوم ایک بار پھر اردگان کی قیادت میں سلطنت عثمانیہ کے ظہور کی جانب لوٹ رہی ہے۔

رجب طیب اردگان کئی بار یہ واضح کرچکے ہیں کہ 2023ء کے بعد ترکی ایک کمزور اور بیمار ملک نہیں رہے گا بلکہ ایک طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر کر یورپی سازشوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگا۔ ہم ترک سرزمین پر اپنی ضرورت کے مطابق تیل اور دیگر معدنیات بھی تلاش کریں گے اور نہر سویزکی طرح ایک ایسی نہر بھی کھودیں گے جو بحر اسود کو بحرہ مرمرہ کے ساتھ ملا کر مربوط کرے گی۔ اس نہر کی کھدائی کے بعد ترکی یہاں سے گزرنے والے ہر بحری جہاز سے ٹیکس وصول کرے گا۔ جس سے ترک معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوگی۔ 

بہر حال اس صورت حال سے ساری تصویر واضح ہوجاتی ہے۔ ترکی میں نظام حکومت کی تبدیلی اور صدر کے اختیارات میں توسیع کے حوالے سے ہونے والے عوامی ریفرنڈم کو ترکی کے موجودہ صدر جناب اردگان نے 51.4 فیصد ووٹ لے کر جیت لیا تھا۔ اس ریفرنڈم میں کامیابی کے بعد اردگان کو کابینہ کے وزراء ٗ سینئر ججوں کے چناؤ اور پارلیمان کو برخاست کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو چکے ہیں۔ نئی اصلاحات کے تحت ملک میں وزیر اعظم کے عہدے کی جگہ نائب صدر نے لے لی ابھی حال ہی میں 24 جون 2018 کو  قبل ازوقت ہونے والے الیکشن میں صدر رجب طیب اردگان 53 فیصد سے ذیادہ ووٹ حاصل کر کے دوسری مرتبہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں ۔ قدرت نے ایک بار طیب اردگان کی شکل میں ایک مضبوط اور توانا آواز سلطنت عثمانیہ کے آمین ترکی کو فراہم کردی ہے جو اندرونی سطح پر بھی اپنے اچھے کارناموں کی بدولت گزشتہ ایک عشرے سے مقبول ترین عوامی لیڈر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اﷲ تعالی نے انہیں اتنی جرات بھی عطا کررکھی ہے کہ وہ امریکہ ٗ جرمنی ٗ فرانسٗ برطانیہ اور اسرائیل جیسے طاقتور ملکوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یورپی ممالک کی تمام سازشوں کا تن تنہا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور دنیا بھر میں اس کی افواج کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن پاکستان کے نابالغ سیاسی قائدین اس قدر غیر ذمہ دار ہیں کہ باہمی اتحاد اور یگانگہت کو ہی ہمیشہ داؤ پر لگا کر رکھتے ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کی بجائے وہ آپس میں ہی الجھتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایٹمی ملک اور گوادر جیسے مقام رکھنے کے باوجود سیاسی عدم استحکام کا دن بدن شکار ہوتا جارہا ہے۔ جو انتہائی تشویش کی بات ہے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان ٗ سعودی عرب اور ایران کو بطور خاص اردگان کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیئں اور کچھ عرصے کے لیے مسلکی مسائل اور اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔ اس وقت شام ٗ عراق ٗیمن ٗ لیبیا اور افغانستان میں جو نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی جاری ہے اختلافات کی اس آگ کو تب ہی بجھایا جاسکتا ہے جب تمام مسلم ممالک ایک اقتصادی ٗ معاشی اور عسکری گروپ کی شکل اختیار کرلیں۔ اسلامی اتحادی فوج کی سربراہی بھی سابق پاکستانی جنرل راحیل شریف کے پاس ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ایرانی غلط فہمیوں کو ختم کر کے اور اسلامی اتحادی فوج میں ایران کی شرکت بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

ہاں دکھا دے اے تصور! پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس