0
4
0
شاعر: ابو فروا

نیاز مند ہے یہاں بشر کا، جو ہےبشر
لگے کبریائی بھی تیری چھوٹی جسے، وہ ہے بشر

شانِ کروبیاں، محتاجِ ستائش نہیں
پرتیرا تخلیقِ اوجِ کمال، تو ہےبشر

ہرآن نئی شان کے ساتھ،  جوآئےنظر
گرہوعکس تیرا، سو ہے بشر

مقامِ کبریا کیا ہے، دیکھ اطمینانِ اِلٰہ
مسکُرائے ہے، جب دعویٰ خُدائی، کرے ہےبشر

بے محابا دیا ہے نفس، ناتوانیِ تقویٰ کے ساتھ
کبھی آ لباسِ مجاز میں دیکھ کیا ہے بشر

عجب طلاطم ہے، نفس کے بحرِکراں میں
مراتبِ انبیاء ہو، یامقامِ سٰفیلین، یہ ہے بشر

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس