0
2
1
وٹامنز، پروٹینز اور منرلز کا حب سمجھا جانے والا پودا مورینگا دنیا بھر میں اپنی مثال آپ کہیں کرشماتی تو کہیں معجزاتی اور بزنس پودے کا لقب پانے والے پودے کا مسکن جنوبی پنجاب ہے.

اس کی جڑوں سے لے کر پتے، کلیاں، ٹہنیاں سب قابل استعمال ہیں جس سے کینسر، ہیپاٹائٹس، بلڈ پریشر، جوڑوں کے درد، اعصابی وجسمانی کمزوری اور وزن کم کرنے کے لیے مفید ہے

تحریر: عبدالرحمن رانا

تحریر:   عبدالرحمن رانا

تحریر: عبدالرحمن رانا

خالق کائنات نے اس کائنات کو بہت خوبصور ت بنایا۔ کئی رنگوں میں پھیلی اس وسیع و عریض کائنات میں موجود مختلف کہکشائیں اور نظام ہائے شمسی اور بہترین نظم میں پروئے مختلف ستارے اور سیارے کسی ماہر کاریگر اور حسین خالق کی طرف متوجہ کراتے ہیں۔اس وسیع و عریض کائنات میں موجود سورج کے گرد قدرت نے سرسبز و شاداب وادیوں بلند و بالا پہاڑوں ٗ برفیلی چوٹیوں انواح و اقسام کے پھلوں ٗ رنگ برنگے پھولوں اور کئی قسم کے شفایاب درختوں سے سجایا پھر ان میں مختلف جانور چرند پرند بسائے اور ان تمام مخلوقات میں اس کی سب سے پیاری تخلیق ’’ انسان ‘‘ کو اس میں اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔ خالق کل نے جہاں ایک طرف انسان کو عقل و شعور کی طاقت عطا فرما کر تمام مخلوقات میں قابل رشک مقام عطا فرمایا۔ وہیں اسے پوری کائنات کو تسخیر کرنے اور فطرت کے پوشیدہ رازوں کو افشاء کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی اور بطور نائب خدا انسان اپنے کارہائے منصبی کو خوب انجام دے رہا ہے۔ اب لگتا ہے کہ جیسے فطرت ان سربستہ رازوں کو انسانی حواس اور اس کے عقل و شعور اور تجزیہ کی کسوٹی سے گزارنا چاہتی ہے اور انسانی زبان کے ذریعے وہ تمام راز کھولنا چاہتی ہے۔ فطرت کے ان رازوں میں سے ایک راز ’’ مورینگا ‘‘ کا درخت ہے۔ 30سے 40فٹ قد کا تیزی سے اگنے والا یہ درخت استوائی اور نسیم استوائی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کا نباتاتی نام مورینگا اولی فیرا (moringa  Olifeara) ہے

برصغیر میں یہ سوہانجناکے نام سے مشہور ہے۔ اس کا پہلا مسکن برصغیر یعنی پاکستان ہندوستان ہے اب یہ دنیا کے کئی علاقوں خصوصاً افریقہ ٗ لاطینی امریکہ ٗ چین اور دیگر خطوں میں بھی کاشت کیا جارہا ہے۔ اس میں موجود جادوئی خوبیوں کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں اسے مختلف ناموں سے پکارہ جاتا ہے کہیں اسے کرشماتی و معجزاتی پودہ کہا جاتا ہے تو کہیں ڈاکٹر اور بزنس پودے کے علاوہ اسے زمین سے اگنے والے تمام درختوں کا سردار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پودہ ذرخیز زمین کے ساتھ ساتھ ریتلی اور پتھریلی زمین میں بھی پھل پھول کر تناور درخت بن جاتا ہے۔دنیا اس کی معجزاتی خوبیوں سے کافی عرصہ ناواقف رہی۔90کی دہائی میں اس پر دنیا کے مختلف سائنسدانوں نے تحقیق شروع کی اور سائنسدان اس کی کرشماتی خوبیاں جان کر حیران ہو گئے کہ قدرت نے اس پودے میں مکمل طبعی اور کیمیائی عوامل کا ایک ذخیرہ جمع کیا ہوا ہے جو خوراک کے ساتھ ساتھ کئی بیماریوں کا مکمل علاج اور کئی چیزوں کو آلودگی سے پاک کر کے ان کی مکمل تطہیر کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس پر کی جانے والے تحقیق کے مطابق یہ ایک مکمل غذا ہے اس سے پہلے سائنسدان جن چیزوں کو مختلف وٹامنز ٗ پروٹینز اور منرلز کا حب سمجھتے تھے وہ تمام نعمتیں ان سب چیزوں سے کئی گنا زیادہ مورینگا میں پائی جاتی ہیں جیسے پالک کو آئرن کا حب سمجھا جاتا ہے مگر حیرت انگیز طور مورینگا میں پالک سے 9گنا زیادہ آئرن ہے اسی طرح کیلے کو پوٹاشیم کا سٹور سمجھا جاتا تھا مگر مورینگا میں کیلے کی نسبت 4گناہ زیادہ پوٹاشیم پائی جاتی ہے۔ اسی طرح مورینگا میں گندم سے 4گنا زیادہ فائبر ٗ گاجر سے 2گنا زیادہ وٹامن اے ٗ دہی سے 2گنا زیادہ پروٹین دودھ سے 14گنا زیادہ کیلشیم ٗ کنوں سے 4گنا زیادہ وٹامن سی ۔ اس کی پھلی میں موجود بنیز سے نکلنے والا تیل (Oliv) اولو آئل سے تین گناہ زیادہ نکلتا ہے جو کھانا پکانے اور دیگر چیزوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جڑوں سے لے کر پتے ٗ کلیاں ٗ پھلیاں اور ٹہنیاں سب قابل استعمال ہیں ۔ یہ ایسا غذائی ٹانک ہے قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ کئی بیماریوں جیسے کینسر ٗ ہیپاٹائٹس ٗ بلڈ پریشر ٗ جلدی بیماریوں کے خاتمے ٗجوڑوں کے درد ٗ اعصابی و جسمانی کمزوری ٗ رعشہ اور وزن کم کرنے کے لئے مفید و موثر ہے۔ اس کے سفوف کو پانی میں ڈالنے سے پانی مکمل فلٹر ہو جاتا ہے اور اس کی کاشت ماحول آلودگی کو ختم کرنے میں انتہائی کارآمد ہے۔ عام چارے کی نسبت اگر یہ جانوروں کو چارے کے طور پر کھلائی جائے تو جانور کے دودھ میں 50سے 60فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے مرغیوں کی خوراک بھی بنائی جا سکتی ہے اور زمین کی زرخیزی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ اس کی پھلیوں کا سالن اور جڑوں کو مولیوں کی طرح پکا کر اور اچار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔نیز اس کی کاشت سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بے پناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اکیلا انڈیا مورینگا کی 1.1سے 1.3 میٹرک ٹن کاشت کر کے جہاں دنیا کی 80فیصد مورینگا کی ضرورت کی کمی کو پورا کرتا ہے وہاں وہ اس کی کاشت سے 3سے 7ارب ڈالر زرمبادلہ کما لیتا ہے۔ اس کے علاوہ گھانا کی حکومت 3500ایکڑ زمین لوگوں کو تقسیم کر کے ان سے مورینگا کی کاشت کراتی ہے اور ایک لاکھ ڈالر فی ایکڑ کے حساب سے پیشہ کما رہی ہے۔ مغربی دنیا تو مورینگا کی کاشت کو بڑھانے میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے ہم بھی اپنے وسائل کے مطابق پاکستان حکومت نے بھی گزشتہ چند سے مورینگا کی کاشت میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے پنجاب میں 7کروڑ مورینگا کے درخت لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔اس سلسلے میں سندھ اور پنجاب کے دو شہروں ملتان ٗ پتوکی اور کچھ دیگر شہروں میں ابتدائی طور ایک کروڑ مورینگا ٹری لگائے جا رہے ہیں۔ بعدازاں اس پروجیکٹ کو پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا تا کہ نئی تحقیقات سے مستفیض ہونے اور علاج کے جدید اور متبادل ذرائع اپنانے کے ساتھ ماحول کو آلودگی سے بچانے اور ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ کیا جائے تا کہ جدید ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں پاکستان کا نام شامل ہو اور پاکستان قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے نظریے کے مطابق ترقی کی تمام منازل طے کر کے سورج کی طرح روشن نظر آئے۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس