0
1
0
اس بار عالمی مقابلوں میں سب سے کم درجہ بندی روس اور سعودی عرب کی ہے۔ایک ماہ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں کُل 64 میچ کھیلے جائیں گے۔

سید محمود شیرازی

 21ویں فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز14جون سے روس میں ہو گیا۔جرمن ٹیم ٹائٹل کا دفاع کرے گی یورپی ٹیموں نے گیارہ جبکہ امریکی ٹیموں نے نو بارٹرافی اپنے نام کی آئس لینڈ اور پاناما کی ٹیمیں پہلی با شرکت کریں گی میزبان روس اور سعودی عرب کم ترین رینکنگ کی حامل ٹیمیں ہیں چیمپئن کا تاج سر پر سجانے والی ٹیم کو 3.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی دنیا میں سب سے زیادہ کھیلے جانے والا کھیل فٹبال ہے اور اس کا عالمی مقابلہ ہر چاربرس بعد منعقد ہوتا ہے جس کیلئے دنیا بھر سے ٹیمیں اس میں شرکت کیلئے زور آزمائی کرتی ہیں لیکن کوالیفائی کرنے کے بعد صرف 32 ٹیمیں ہی آخر میں منتخب ہوتی ہیں جو فیفا ورلڈ کپ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ ان میں آئس لینڈ اور پاناما کی ٹیمیں پہلی بار کولیفائی کرتے ہوئے حصہ لے رہی ہیں۔ 2026 میں فٹبال ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں کی تعداد 48 کر دی جائے گی۔ فٹبال کا عالمی کپ چودہ جون سے روس میں شروع ہو گا اور جرمن ٹیم ٹائٹل کا دفاع کرے گی۔ یہ فیفا کا 21واں ورلڈ کپ ہو گا ۔ اس ورلڈ کپ کو یورپ اور امریکہ کی جنگ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اب تک ہونے والے مقابلوں میں یورپ اور امریکہ ہی کی ٹیمیں ٹائٹل جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔ یورپی ٹیموں نے گیارہ جبکہ امریکی ٹیموں نے نو بار ٹائٹل اپنے نام کیا ہے ۔ برازیل وہ واحد ملک ہے جس نے نہ صرف اب تک کے تمام ورلڈ کپ مقابلوں میں حصہ لیا ہے بلکہ سب سے زیادہ ٹائٹل بھی اسی ملک نے جیتے۔جرمنی ورلڈ کپ کے گزشتہ تین ٹورنامنٹس میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم رہی ہے۔ جرمن فٹ بال ٹیم 2014ء میں اٹھارہ، 2010ء میں سولہ اور 2006ء میں چودہ گولز کے ساتھ سرفہرست رہی۔یہ پہلی بار ہو گا جب فٹ بال ورلڈ کپ کے میچ دو بر اعظموں، یورپ اور ایشیا میں کھیلے جائیں گے۔ اس بار عالمی مقابلوں میں سب سے کم درجہ بندی روس اور سعودی عرب کی ہے۔ایک ماہ تک جاری رہنے والے اس ٹورنامنٹ میں کُل 64 میچ کھیلے جائیں گے جسے دیکھنے کے لیے اندازا دس لاکھ سے سیاح روس کا رخ کریں گے۔اس برس عالمی چیمپئن کا تاج سر پر سجانے والی ٹیم کو 3.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔ دوسرے نمبر پر آنے والی ٹیم کو 2.8 ملین ڈالر کی انعامی رقم کی حقدار قرار پائے گی۔اگر ہم ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو جرمنی کی ٹیم فیفا رینکنگ میں اس وقت پہلے نمبر پر موجود ہے اٹھارہ بار ورلڈ کپ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے جبکہ سب سے زیادہ 13 بار سیمی فائنل میں شریک ہو چکی ہے اور آٹھ فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ چار بار ٹرافی جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور موجودہ ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن ہے ۔ جوکھم لیو کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے جنہوں نے ٹیم کو 2014 میں بھی چیمپئن بنوانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ ٹونی کروس گول کیپر و کپتان مینول نوئر اور تھامس ملر ٹیم کی امیدوں کے مرکز ہوں گے۔ فیفا رینکنگ میں دوسرے نمبر کی ٹیم برازیل ہے جو تمام فٹبال ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز کی منفرد مالک ہے۔ سات بار فائنل میں پہنچی اور سب سے زیادہ پانچ ٹائٹل جیتنے والی واحد ٹیم ہے۔ برازیل کی کوچنگ ٹائٹ کریں گے جنہوں نے 2016 میں ٹیم کی کوچنگ سنبھالی ہے اور نیمار ٹیم کی امیدوں کے مرکز ہوں گے۔ فیفا رینکنگ میں تیسرے نمبر پر موجود بلجیم بھی رواں سال ورلڈ کپ میں ٹائٹل کے حصول کیلئے قسمت آزمائی کرے گی۔ بلجیم کی ٹیم کو 12 بار ٹورنامنٹ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے جبکہ صرف ایک بار بلجیم کی ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہے اور 1986 میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بلجیم نے چوتھی پوزیشن حاصل کی جو اس کی فیفا ورلڈ کپ میں سب سے بہترین کارکردگی ہے۔ چیلسی کی جانب سے کھیلنے والے سٹرائیکڑ ایڈن ہیزرڈ بلجیم کی امیدوں کے مرکز ہوں گے۔ یورپین چیمپئن پرتگال کی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں چوتھے نمبر پر موجود ہے پرتگال کی ٹیم ساتویں بار فیفا ورلڈ کپ میں اپنے جوہر دکھائے گی جب کہ دو بار اسے سیمی فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا اور 1966 کے ورڈ کپ میں پرتگال کی ٹیم تیسرے نمبر پر آئی جو اس کی اب تک کی اس ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی ہے۔ ریئل میڈرڈ کے کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کے مرکزی کھلاڑی و کپتان ہیں اور پانچ بار فیفا بیسٹ پلیئر کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور انہیں تاریخ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل کیا جاتا ہے دیکھتے ہیں وہ اپنی ٹیم کو چیمپئن بنوانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ فیفا رینکنگ میں پانچویں نمبر پر موجود ارجنٹائن کی ٹیم سولہ بار فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کا اعزاز حاصل کر چکی ہے اور اسے پانچ بار فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دو بار یہ ٹرافی اٹھانے میں بھی کامیاب رہی۔ پانچ بار فیفا پلیئر آف دی ائیر رہنے والے اور تاریخ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے میسی ارجنٹائن کی امیدوں کے مرکز ہوں گے جو بدقمستی سے پچھلے ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو فائنل میں پہنچانے میں کامیاب رہے لیکن ٹائٹل نہ دلا سکے۔ فیفا رینکنگ میں چھٹے نمبر پر اس وقت سوئٹزرلینڈ کی ٹیم موجود ہے جو دس بار اس ٹورنامنٹ میں شرکت کر چکی ہے لیکن آج تک کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔انگلش کلب آرسنل کی جانب سے کھیلنے والے گرانٹ شاکا اس کی امیدوں کے مرکز ہوں گے جو گزشتہ برس سوئس پلیئر آف دی ائیر بھی رہ چکے ہیں۔فیفا رینکنگ میں ساتویں نمبر پر موجود فرانس کی ٹیم چودہ ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز رکھتی ہے جب کہ پانچ بار سیمی فائنل اور دو فائنل بھی کھیل چکی ہے جبکہ 1998 میں یہ ورلڈ کپ جیتنے میں بھی کامیاب رہی۔ ہسپانوی کلب اٹلیٹیکو میڈرڈ کی جانب سے کھیلنے والے انتونی گریزمین جو کہ یورپین کپ میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں، ٹیم کی کارکردگی کا دارومدار ان پر ہو گا۔ فیفا رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر براجمان سپین کی ٹیم 2010 کی ورلڈ چیمپئن ہے ہسپانوی ٹیم کے کپتان و دفاعی کھلاڑی سرجیو راموس ٹیم میں ریڑھ کی ہڈی مانے جاتے ہیں اور ٹیم کا سب سے زیادہ انحصار ان پر ہی ہو گا۔ پولینڈ کی ٹیم فیفا رینکنگ میں دسویں پوزیشن پر موجود ہے اور اسے سات بار یہ ٹورنامنٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1974 اور1982 کے ورلڈ کپس میں پولینڈ کی ٹیم تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہی تھی جو اس کی اس ٹورنامنٹ میں اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ جرمن کلب بائرمن میونخ کی جانب سے کھیلنے والے پولینڈ کے کپتان لیوانڈووسکی دنیا کے بہترین سٹرائیکر میں شمار ہوتے ہیں ان کی ٹیم کی کارکردگی کا دارومدار ان پر ہو گا۔ لاطینی امریکہ کی ٹیم پیرو فیفا رینکنگ میں اس وقت 11ویں نمبر پر موجود ہے۔ پیرو کی ٹیم صرف چار بار ورلڈ کپ میں شریک ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ جیفرسن فارفان ٹیم کی امیدوں کے مرکز ہوں گے جنہوں نے پیرو کو ورلڈ کپ میں شامل ہونے کیلئے کوالیفائنگ رائونڈ میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈنمارک کی ٹیم فیفا رینکنگ میں اس وقت بارہویں پوزیشن سنبھالے ہوئے ہے اور اسے چار بار میگا ایونٹ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے۔ انگلش کلب ٹوٹنہم ہوٹسپر کی جانب سے کھیلنے والے کرسٹن ارکسن جنہوں نے کوالیفائنگ مقابلوں میں گیارہ گول کئے وہ ٹیم کی کارکردگی کا محور ہوں گے۔ انگلش ٹیم اس فیفا رینکنگ میں 13ویں نمبر پر موجود ہے اور اسے چودہ بار میگا ایونٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 1966 میں انگلینڈ ٹرافی اٹھانے میں کامیاب رہا۔ ابھرتے ہوئے سٹار ہیری کین جنہیں زیڈان ایک مکمل فٹبالر قرار دیتے ہیں ان پر پورے انگلینڈ کی توقعات کو بوجھ ہو گا۔ افریقن ٹیم تیونس فیفا رینکنگ میں 14ویں پوزیشن پر براجمان ہے اور چار بار فیفا ورلڈکپ کھیلنے کے اعزاز کی مالک ہے۔ ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں پرتگال کیخلاف میچ برابر کر کے اس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ فرنچ فٹبال کلب رینز کی جانب سے کھیلنے والے وہبی خزری ٹیم کی امیدوں کے مرکز ہوں گے۔فیفا رینکنگ میں 15ویں نمبر پر موجود میکسیکو کی ٹیم کو پندرہ فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہے لیکن کبھی یہ کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔ میکسیکو کے آل ٹائم ٹاپ سکورر جاویر ہرنینڈز ٹیم کی امیدوں کا محور ہوں گے۔ لاطینی امریکہ کی ٹیم کولمبیا اس وقت فیفا رینکنگ میں 16ویں نمبر پر براجمان ہےپانچ بار یہ ورلڈ کپ میں شرکت کا اعزاز حاصل کر چکی ہے اور گزشتہ ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل مرحلے میں پہنچنے تک کامیاب رہی۔ جرمن کلب بائرمن میونخ کی جانب سے کھیلنے والے جیمز روڈ ریگز ٹیم کی امیدوں کا محور ہوں گے جنہوں نے گزشتہ ورلڈ کپ میں گولڈن بوٹ کا ایوارڈ اپنے نام کیا تھا۔ دو بار کی فیفا ورلڈ کپ ونر یورا گوئے اس وقت فیفا رینکنگ میں 17ویں نمبر پر موجود ہے ۔ سولہ بار فیفا ورلڈ کپ میں شریک رہ چکی ہے اویورا گوئے کے آل ٹائم ٹاپ سکورر اور ر بارسلونا کے سٹرائیکر لوئس سواریز پر ٹیم کا انحصار ہو گا۔ فیفا رینکنگ میں اٹھارویں نمبر پر موجود کروشیا کی ٹیم چار بار ٹورنامنٹ میں شرکت کر چکی ہے اور1998 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل تک رسائی اس کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ دنیا کے بہترین مڈ فیلڈرز میں شمار ہونے والے ریئل میڈرد کے لکا موڈریچ ٹیم کی امیدوں کا محور ہوں گے۔ آئس لینڈ کی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 22ویں نمبر پر موجود ہے اور میگا ایونٹ میں پہلی بار شریک ہو گی ۔ آئس لینڈ فیفا ورلڈ کپ میں شریک ٹیموں میں سب سے چھوٹا ملک ہے۔ گیلف سگوارڈسن ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ سویڈن کی ٹیم فیفا رینکنگ میں اس وقت 23ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ گیارہ بار اسے میگا ایونٹ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ چار سیمی فائنل اور ایک فائنل اس کی بہترین کارکردگی ہے۔ 1958 کے ورلڈ کپ میں سویڈن برازیل سے ہار کر ٹائٹل حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کوسٹا ریکا کی ٹیم فیفا رینکنگ میں 25ویں پوزیشن پر موجود ہے اور اسے چار ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل میں شرکت اس کی بہترین کارکردگی رہی ہے۔ پرتگال کے سپورٹنمگ کلب کی جانب سے کھیلنے والے بریان رئز ٹیم کی امیدوں کا محور ہیں۔ افریقن ٹیم سینیگال کا یہ دوسرا میگا اوینٹ ہو گا۔ سینیگال اس وقت فیفا رینکنگ میں 28ویں نمبر پر موجود ہے لیور پول کے سادیو مانے جنہوں نے یوئیفا چیمپئنز لیگ کے فائنل میں لیور پول کی جانب سے واحد گول کیا وہ ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہیں۔سربین فٹبال ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 35ویں نمبر پر موجود ہے اور گیارہ بار میگا ایونٹ میں کھیل چکی ہے جبکہ دو بار اسے سیمی فائنل تک رسائی کا اعزاز حاصل ہے۔ سربیا کے کپتان اور سابق چیلسی سٹار براسلوف ایوانووچ پر ان کی ٹیم کا انحصار ہو گا۔ ایران کی ٹیم پانچویں بار فیفا ورلڈ کپ میں شریک ہو گی اور اس وقت ایرانی ٹیم فیفا رینکنگ میں 36ویں نمبر پر موجود ہے۔ ایرانی ٹیم مسلسل دوسری بار فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی اور یہ ایران کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ وہ مسلسل دوسرا ورلڈ کپ کھیلے گی۔ سردار آزمون ان کی امیدوں کا محور ہوں گے جنہیں ایران کا بہترین سٹرائیکر مانا جاتا ہے۔ آسٹریلوی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 40ویں نمبر پر موجود ہے اور پانچویں بار میگا ایونٹ میں شرکت کرے گی۔ ٹم چاہل جنہوں نے کولیفائنگ رائونڈ کے دوران گیارہ گول کئے وہ آسٹریلوی امیدوں کا مرکز ہیں۔ افریقہ کی بہترین ٹیموں میں شمار ہونے والی مراکش فٹبال ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 42ویں نمبر پر موجود ہے اور پانچویں بار میگا ایونٹ میں قسمت آزمائی کرے گی۔ مہدی بنٹیا جنہیں افریقہ کے بہترین ڈیفنڈرز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس وقت اطالوی کلب یووینٹس میں جوہر دکھا رہے ہیں انہیں مراکش کا سٹار کھلاڑی سمجھا جاتا ہے اور ٹیم کا زیادہ تر انحصار ان پر ہی ہو گا۔ مصر کی فٹبال ٹیم میگا ایونٹ میں تیسری بار شریک ہو رہی ہے اور 1990 کے بعد یہ پہلی بار ورلڈ کپ میں شامل ہو رہی ہے۔ مصر فیفا رینکنگ میں 46ویں نمبر پر موجود ہے اور اس کا انحصار لیور پول کے سٹار کھلاڑی محمد صلاح پر ہو گا لیکن یوئیفا چیمپئنز لیگ کے فائنل میں ان کی انجری کے بعد میگا ایونٹ میں صلاح کی شرکت پر تاحال سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ نائجیریا کی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 47ویں نمبر پر موجود ہے اور چھٹی بار میگا ایونٹ میں شریک ہو گی۔ نائیجریا کے کپتان و سابق چیلسی سٹار جان اوبی پر ٹیم کا انحصار ہو گا۔ پانامہ کی ٹیم پہلی بار میگا ایونٹ میں شرکت کر رہی ہے،پانامہ کی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 55ویں نمبر پر موجود ہے اور بالاس پیریز پانامہ کے سینٹرل فارورڈ ہیں جو ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ جاپان کی ٹیم فیفا رینکنگ میں اس وقت 60ویں پوزیشن پر موجود ہے اور میگا ایونٹ میں چھٹی بار شرکت کر رہی ہے۔ سائوتھمپٹن کے سٹار کھلاڑی مایا یوشیدا ٹیم کی امیدوں کا مرکز ہوں گے۔ جنوبی کوریا کی ٹیم اس وقت فیفا رینکنگ میں 61ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ جنوبی کورین ٹیم میگا ایونٹ میں نو بار شریک ہو چکی ہے اور 2002 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں رسائی اس کی بہترین کارکردگی ہے۔ سوان سٹی کے کی سونگ یونگ ٹیم کی امیدوں کا محور ہیں۔ میزبان روس فیفا ورلڈ کپ میں شریک کمزور ترین ٹیموں میں شامل ہے اور اس وقت فیفا رینکنگ میں 66ویں نمبر پر موجود ہے۔ روس دس بار میگا ایونٹ میں شرکت کر چکا ہے ۔1966 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلنا اس کی بہترین کارکردگی رہی ہے۔ ٹیم کے کپتان آئیگر اکنوف پر روس کا انحصار زیادہ ہے۔ سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ میں شریک سب سے کمزور رینکنگ ٹیم ہے اور اس وقت عالمی رینکنگ میں 67ویں نمبر پر موجود ہے۔ سعودی عرب پانچویں بار میگا ایونٹ میں شریک ہو گا۔ سعودی سٹرائیکر محمد السہلاوی پر ٹیم کی امدیں بندھی ہوئی ہیں۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس