0
3
0
تاریخ کے جھروکوں سے ۔ مسلم سیّاح

10- أحمد بن فضلان بن العباس بن راشد بن حماد (10 ویں صدی)

10- أحمد  بن فضلان بن العباس بن راشد  بن حماد  (10 ویں صدی)

أحمد  بن فضلان  اسکینڈینیویہ کے سفر کے لئے مشہور ہے، جہاں وہ وائیکنگ کلچر کے سب سے قدیم اور زیادہ اثرات والے سرگشت بتاتے ہیں۔ جہاں ابن فضلان نے وائکنگز کو خوبصورت لاشیں بیان کیا ہے وہیں ان کے غریب حفظانِ صحت کا بھی بیان کیا ہے۔ شاید اس کا سب سے مشہور حصّہ ایک وائکنگ چینی کے روایتی دفن کا بیان تھا۔

انہوں نے بغداد کو چھوڑا اور بحیرہ کیسپین کو پار کرنے کے بعد وولگا دریا  کی وادی میں داخل ہوئے۔  جہاں پر ان کا سامنا وولگا بلغرز سے ہوا۔ انہوں نے پورے شمالی یورپ میں بڑے  پیمانے پر سفر کیا۔

ابنفضلان نے مقبول ثقافت میں بھی اپنا راستہ بنا دیا، جس سے مائیکل کریٹن نے اپنی کتاب "تھرٹینتھ (13th) واریر" کے لئے رہنمائی حاصل کی۔

9- محمد بن حوقل (10 ویں صدی)

9- محمد بن حوقل (10 ویں صدی)

محمد بن حوقل ترکی میں پیدا ہوئے۔ آپ مصنّف اور جغرافیہ دان تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری تیس سال دنیا کی سیر کرتے ہوئے گزارے۔ ان کی سفری دستاویزات "زمین کا چہرہ" (صورت الارض) کے نام سے مشہور ہے۔  بن حوقل نے ایشیا اور افریقہ کے دور دراز علاقوں تک سفر کیا، یہ کہتے ہیں کہ لوگ ایسے علاقوں میں رہتے تھے جو قدیم یونانیوں کے دعویٰ کے مطابق ناقابلِ سکونت تھے۔ ان کی سفری دستاویزات ان کے بعد آنے والے سیّاحوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوئیں۔

ان کی سفری دستاویزات میں (مسلم کنٹرول شدہ) سپین، اٹلی اور فرانس کے علاقوں میں قابلِ ذکر مسلم آبادی تفصیلاً شامل تھے. (جیسا کہ فریکسینیٹ، پرونس میں، بہترین مثال ہے)- انہوں نے بیزانین سلطنت، مشرق وسطٰی، اور وہ علاقے جہاں اب پاکستان ہے کا بھی سفر کیا۔محمد بن حوقل نے تقریباً ہر براعظم اور اہم جگہ کا سفر کیا؛ آجکل ان کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے اتنے لمبے سفرکے لئے  شاید ساری زندگی بھی کم ہو!

8- ابن جوبیر (1145-1217)

8- ابن جوبیر (1145-1217)

ابن جوبیر سپین، والینیا میں پیدا ہوئے۔ وہ اس وقت کے اعلٰی تعلیم یافتہ اشخاص میں سے تھے۔ قانون اور قرآنی مطالعہ کے شعبوں میں بھی ماہر  تھے۔ آخر کار وہ اپنے آبائی شہر  کے گورنر بنے ، جہاں وہ بعد میں گریناڈا کے حکمران کےسیکرٹری بنے ۔

ایک خصوصی واقعے نے سفر کرنے کے لئے ابن جوبیر کا حوصلہ بڑھایا۔ یہ قصّہ انھوں نے اپنے مشہور جرنلز کے 'مصنف کے تعارف' میں بیان کیا ہے۔ ابن جوبیر کے مطابق، گریناڈا کے رہنما نے انہیں موت کی دھمکی دے کر شراب کے سات گلاس پینے پرمجبور کر دیا تھا۔ اگرچہ حکمران بعد میں نادم تھا، ابن جوبیر بھی شرمندگی سے بھرا ہوا تھا اور اپنے اس عمل کو انہوں نے "بے دینی" کہا۔ اس کے نتیجے میں، ابن جوبیر نے حج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے سفر کے دوران وہ بہت سے مقامات پر رُکے اور مقامی آبادی کے بارے میں اپنے مشاہدات بہت محتاط انداز میں نوٹ کرتے گئے اور کئی سال بعد وہ گریناڈا لوٹے۔

عظیم بحیرہ روم، بارسلونا، بیروت، مکّہ، دمشق جیسے مقامات پر ابن جوبیر کے قدموں کا پتہ چلتا ہے۔

7-موسیٰ بن نصیر اور طارق بن ذیاد (8th صدی)

7-موسیٰ  بن نصیر اور طارق بن ذیاد (8th صدی)

موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کو آٹھویں صدی کے پہلے نصف میں اموی خلافت کے تحت سپین کا فاتح کہا جاتا ہے۔ ابن زیاد  نسلاًایک بربر مسلم جنرل تھا، جس نے سپین کا محاذ شروع کیا۔

جبکہ بن نصیر نے شمالی افریقہ میں خلیفہ کے گورنر کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور بعد میں سپین کی فتح کو مکمل کرنے میں بن زیاد کی مدد کی۔ دونوں نے دو علیحدہ بیڑوں کی قیادت کی اور بالآخر وہ ٹالوڈو کے رینڈیز وائس پوائنٹ تک پہنچ گئے۔ وہ بعد میں دمشق واپس آئے، جہاں انھیں ہیرو کے طور پر خوش آمدید کیا گیا۔

6- محمد المقدوسی (945-1000)

6- محمد المقدوسی (945-1000)

محمد المقدوسی شاید دسویں صدی کے سب سے قابل ذکر مسلمان سیّاح تھے۔ ان کی دانشورانہ زندگی تب شروع ہوئی جب بیس سال کی عمر میں انہوں نے حج ادا کیا۔ مکّہ کے دورے کے بعد، المقدوسی نے اپنی زندگی جغرافیہ کے مطالعہ کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔

بیس سال سے زائد عرصے تک، انہوں نے دنیا بھر  میں تقریباً ہر مسلمان ملک کا سفر کیا۔ بعد ازاں ان کے جرنلز  بعد میں 'احسن اتتقسیم فی معریفات العقالم' (خطّوں کے علم کے لئے بہترین تقسیم) کے طور پر شائع کیے گئے اور ان کے مشہور کام کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

کتاب کےحوالہ جات میں سب سے زیادہ اہم یروشلیم کی نقاشی  ہے، جو کہ مصنف کا آبائی شہربھی ہے۔ یہ کام ادب اور جغرافیائی دونوں کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے ایک شاہکار سمجھا جاتا ہے اور اب بھی یہ وسیع پیمانے پراس سے مستفید ہوا جاتا ہے۔

5- احمد بن ماجد (1421-1500)

5- احمد بن ماجد (1421-1500)

احمد بن ماجد مشہور جہازراں اور عربی شاعر تھے۔ جو جنوبی افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کی تلاش میں اسکے ارد گرد جانے کے لئے واسکوڈے گاما کی مدد کے لئے مشہور ییں۔

وہ اتنے مشہور  ہیں کہ انہیں عرب کے پہلے جہازران کے طور پر جانا جاتا ہے۔ان کے نام سے مشہور کام "کتاب الفوائد فی اُصولٍ م البحر و لقوائد "(نیویگیشن کے اصول اور قواعد پر مفید معلومات کی کتاب) ہے، جو نیویگیشن کی تاریخ اور بنیادی اصولوں کا تعین کرتی ہے۔

سمت شناسی؛ دنیا کی تاریخ میں ان کا سب سے بڑا کام پرتگالی ایکسپلورر، واسکوڈے گاما کو دنیا کا نقشہ فراہم کرنا تھا جو اس وقت کے دیگر یورپی ملاحوں کو معلوم نہیں تھا۔ یہ نقشہ واسکوڈے گاما کےخطرناک مگر کامیاب سفر میں اہم تھا جو سفر اس نے کیپ آف گڈ ہوپ سے ہوتے ہوئے ہند تک کیا۔

4- محمد ال ادریسی (1100-1165)

4- محمد ال ادریسی (1100-1165)

محمد الادریسی ایک مشہور جغرافیہ دان اور سیّاح تھا جو مراکش کے ادراسیہ حکمرانوں کی اولاد تھے، اور پشت سے حضرت محمد صلی اللہ علٰیہ وسلّم کی اولاد سے تھے۔

وہ واسکوڈے گاما، کرسٹوفر کولمبس اور ابنِ بطوطہ کے لئے ایک انسپیریشن تھے۔ اپنی ابتدائی زندگی کے دوران،  الادریسی نے پورے یورپ اور شمالی افریقہ کا سفر کیا۔

جب وہ بلوغت کو پہنچے تو انہوں نے افریقہ، بحرِہند اور دور مشرقِ وسطٰی کے تاجروں اور دیگر مسافروں کی معلومات کا احاطہ کیا۔ انہوں نے اپنی معلومات کو مکمل کرنے کے لئے 'تابولا روجریانا' کا استعمال کیا، جو اس وقت کا سب سے صحیح نقشہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کام کے ساتھ اس کے تحریری متن "نذہت المشتاق" اس کا سب سے بڑا کارنامہ بن گیا۔

بہت سے لوگوں کے مطابق  الادریسی نصف صدی کا سب سے بڑا نقشہ نگار تھا۔

3- ابو الحسن المسعودی (896-956)

3- ابو الحسن المسعودی (896-956)

المسعودی ایک مشہور عرب مؤرخ اور جغرافیہ دان تھے انہیں ان کی عالمی تاریخ جو 'گولڈ میڈوب اور جواہرات کی کانوں میں' کے نام سے ہے، کی وجہ سے، تاریخ اور سائنسی جغرافیہ کو جمع کرنے کے لئے "عرب کے ہیرووداٹس" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ بغداد میں پیدا ہوئے، المسعودی نے اپنی زندگی کا کثیر حصّہ سفر اور اپنے کام کا احاطہ کرنے میں گزارا۔

انہوں نے مشرقی افریقہ، مشرق وسطٰی، فارس، روس اور کاکاساس، ہند اور چین کا سفر کیا۔ اپنی زندگی میں، انھوں نے کئی کتابیں اور انسائیکلوپیڈیا تیار کیے ہیں جو دنیا کی تاریخ کو چلاتے ہیں؛ بدقسمتی سے، ان میں سے اکثر کھو چکے ہیں۔

المسعودی کو ان کی حقیقی نقطہ نظر سے کی گئی تاریخی تحقیق کے لئے یاد کیا جا سکتا ہے جو سیاست کے علاوہ ثقافتی اور سماجی معاملات سے بھی متعلق ہے۔ انہیں مقامی لوگوں کے حسابات سمیت متعدد ذرائع استعمال کرنے کے لئے جانا جاتا ہے۔

2- زینگ حی (1371-1433)

2- زینگ حی (1371-1433)

زینگ حی شاید وہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم جہازرانوں میں سے ایک ہے اور یقینی طور پر چین کی تاریخ میں سب سے معروف مہم جو  میں سے ایک ہے۔ 

یوننان صوبے میں ایک غریب حوئی (چینی مسلم) خاندان میں ماحی نام سے پیدا ہوئے۔

 انہوں نے شہنشاہ کے تخت پر ڈیوک یان کے کامیاب قبضہ بالجبر میں ایک اہم معاون کے طور پر خدمت کرنے کے بعد "زینگ" کا لقب اختیار کیا.

 اس کے بعد ان کو دنیا بھر میں چین کی طاقت بڑھانے کے لئے تیار بحری مہموں کا کمانڈر بنا دیا گیا۔ زینگ نے تین سو کے قریب دنیا کے سب سے بڑے بحری جہازوں میں تقریباً  30 ہزار افراد کو کنٹرول کیا (اس وقت چین کی بحریہ کی دوسرے ملکوں پر دھاک بٹھائی)۔ 

ستائیس سالوں پر محیط، سات مہماتوں کے دوران زینگ نے جنوب مشرقی ایشیا، ہند اور مشرق وسطٰی کا دورہ کیا۔ اسکے مسلح بحری جہازوں کے بیڑے کو دیکھنے کے بعد، غیر ملکی قومیں چینی شہنشاہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے سفیروں کو بھیجیں گی جو زینگ کی طرف سے مہم جوئی کے بعد مہمانوں کی طرح گھر واپس آئیں گے۔

 وہ 1433ء میں ہندوستان کے قریب ایک ایسے ہی واپسی کے سفر میںموت واقع ہوئی۔ اگرچہ اسکی قبر چین میں ہے، مگر دوسرے عظیم ایڈمرلوں کی طرح یہ خالی ہے، وہ سمندر میں دفن کیا گیا تھا۔

زینگ کی موت کے بعد اسکی مہمات جیسے سفر لاگت کارگر نہ ہونے کیوجہ سے جلد ہی بند کردیئے گئے۔ بعد میں سلاطین نے سمندری جہاز رانی پر پابندی لگا دی۔ بہت سے جدید چینی مؤرخ اس فیصلےکو  چینی سلطنت کے زوال سے منسوب کرتے ہیں۔

1- ابنِ بطوطہ (1304-1368)

1- ابنِ بطوطہ (1304-1368)

ابن بطوطہ  تاریخ کے سب سے زیادہ مشہور سیّاحوں میں سے ایک، مراکشی (نسلاً بربر) مسلم اور عالم تھا۔ اکیس سال کی عمر میں ابن بطوطہ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ وہ بیس سال سے زیادہ عرصہ مراکش واپس نہیں لوٹا۔

اپنے بحری سفر کے دوران ابن بطوطہ نے 44 جدید ممالک کا سفر کیا اور تقریباً 75,000 میل کا سفر طے کیا، جس سے اس نے آسانی سے اپنے سابقہ پیشواوں کے ساتھ ساتھ اپنے قریبی ہم عصر مارکو پولو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

ان کے سفر کی مشہور سرگزشت "الرحلہ" (عربی لغت میں "سفر") کے نام سے مشہور ہے۔ جس میں ابن بطوطہ نے دنیا کے بہت سے علاقوں میں اپنے دورے سے متعلق  تفصیلی سرگزشت کی نہایت خوبصورتی سے تصویر کشی کی ہے۔ ان میں اسلامی دنیا کے زیادہ ترممالک، بہت سے یورپی، ہند اور مرکزی اور دور مشرقی ایشیا شامل ہیں۔

اپنے سفری لاگ کا احاطہ مکمل کرنے پر، ابن بطوطہ کو مراکش میں گورنر بنا دیا گیا، جہاں اس نے 1368ء یا 1369ء میں وفات پائی۔ ان کے قابلِ ستائش افسانے آج بھی دنیا بھر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں میں معروف و مقبول ہیں ۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس