28 جنوری, 2021
15
میگزین

تو یہ تھے ہمارے بشیر صاحب!

یہ بات ہے سن 2001ء کی جب ہم بسلسلہ ملازمت، ضلع مظفر گڑھ، جنوبی پنجاب میں مقیم تھے۔ اس روز دفتر کی چھٹی تھی اور چند دوستوں کے ہمراہ ملتان کی سڑکوں پر آوارہ گردی کے دوران جاسوسی ادب پر بحث چل نکلی تھی، ہر شخص اپنی اپنی رائے دے رہا تھا۔

کہنے کو تو ہر کسی نے ابنِ صفی کو پڑھ رکھا تھا لیکن ہماری صفی صاحب سے عقیدت اور ان پر لکھے گئے مضامین کے دعوے کو للکار کر ہمارے عزیز دوست بشیر صاحب تشکیک کا شکار تھے اور دوسروں کو بھی اپنا ہم نوا بنا چکے تھے۔ اکثر بے تکلف دوستوں کے درمیان اپنے کسی ایک ساتھی کو تختہ مشق بنانے کا عمل بڑی مہارت اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ سرانجام پاتا ہے اور اس روز احباب کا نشانہ ہم تھے۔

یہاں اک ذرا بشیر صاحب کا تعارف کراتے چلیں۔ ان کا تعلق کوٹ ادو کے علاقے سے تھا۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے۔ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرتے ہوئے دو نوکریاں چھوڑ چکے تھے۔

دل کے کھرے، کردار کے بے داغ، انتہائی زود رنج، جلد روٹھنے اور اتنی ہی جلدی مان جانے والے۔ سانولی رنگت، سر پر سیہہ کی طرح لہریے دار اور کھڑے بال، لامبا قد۔ رخساروں پر اوپر کی جانب جہاں عموماً داڑھی کے بالوں کا نام و نشان نہیں ہوتا، بال بے طرح سے اگ آتے تھے اور اکثر ہم بشیر صاحب کے ہمراہ نائی کی دکان پر جایا کرتے تھے جہاں نائی ایک ہاتھ میں دھاگہ لیے بے دردی سے فالتو بالوں کی فصل کھرچا کرتا تھا۔

بشیر صاحب اس تمام عمل کے دوران شرمندہ شرمندہ سے نظر آتے۔ سچ پوچھیے تو اس سے پہلے یہ منظر ہم نے بھی کبھی نہ دیکھا تھا اور ہم اس عرصے میں کچھ کچھ عبرت لیے، حیرت و دل چسپی سے نائی کی بے رحمی اور بشیر صاحب کا صبر دیکھا کرتے تھے۔

ایک روز جب نائی ان پر اپنی مہارت آزما رہا تھا تو یکایک وہ منظر دیکھتے ہوئے ہم نے جھک کر آہستہ سے بشیر صاحب کے کان میں کہا: حضور! بس یہ خیال رکھیے گا کہ کہیں انسدادِ بے رحمیِ حیوانات والوں کو اس عمل کی بھنک نہ پڑ جائے اور پھر نائی کو بشیر صاحب کو کچھ وقت دینا پڑا کہ ہنسی کا دورہ تھم جائے تو وہ اپنا کام دوبارہ شروع کر سکے۔

قہقہہ لگانے میں بشیر صاحب یدِ طولٰی رکھتے تھے۔ ایسا فلک شگاف قہقہہ کہ آسمان تھرا اٹھے اور قہقہے کے بعد پھیلا ہوا ہاتھ کہ آپ جواباً ہاتھ پر ہاتھ نہ ماریں تو اسے سخت بد اخلاقی تصور کرتے تھے۔ اپنی حد درجہ صاف گوئی کی بنا پر لوگوں میں غیر مقبول تھے اور اسی بنا پر صرف ہمارے ہی کمرے میں روزانہ رات کے کھانے کے بعد پھیرا لگانا اس کا معمول بن گیا تھا۔

بشیر صاحب ہمارے جملوں پر اکثر پھڑک پھڑک اٹھتے تھے۔ آپ سے کیا پردہ۔ ہم بھی تو اکثر مشتاق یوسفی صاحب ہی کا سہارا لیا کرتے تھے۔

’بشیر صاحب! یاد رکھیں زبان سے نکلا تیر اور بڑھا ہوا پیٹ کبھی واپس نہیں آتے۔‘ یہ ہم نے شام کی سیر کے دوران اس موقع پر کہا جب بشیر صاحب حسبِ عادت کسی بات پر ایک بے لاگ تبصرہ کر بیٹھے تھے اور مبتلا بحث تھے۔

بس پھر کیا تھا، وہ چلتے چلتے رک گئے اور قہقہے لگانے لگے۔ ایک روز ہم نے کسی بات پر کہا کہ ’ بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے آدمی وہاں خارش کرے جہاں نہ ہو رہی ہو۔‘ وہ بے انتہا محظوظ ہوئے اور پھر ہم نے یہ جملہ ان کو اکثر موقع بے موقع دہراتے دیکھا۔

ایک روز ہم نے ابنِ صفی صاحب کا جملہ چلا دیا۔ بات ہو رہی تھی ہمارے کسی عزیز کی اور بشیر صاحب کو وہ پیچیدہ رشتہ سمجھانا مشکل ہو رہا تھا کہ اچانک ہم نے تنگ آ کر کہا۔

’یار یوں سمجھ لیں کہ وہ ہمارے دادا زاد بھائی ہیں۔‘ بشیر صاحب کے حلق سے توپ کے گولے کی مانند قہقہہ نکلا۔ تو یہ تھے ہمارے بشیر صاحب۔

(راشد اشرف کے قلم سے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے