0
6
1
تحریر: ہما شیخ

یہ چودہویں کی رات تھی۔ چاند اپنی پوری جوانی اورشباب کےساتھ ستاروں سے بھرا آنچل اوڑھے کسی الڑھ دوشیزہ کی مانند اٹھکیلیاں کرتا دکھائی پڑتا تھا۔ جیسے چکور چودہویں کے چاند کو دیکھ کر اس کی طرف لپکنے کی کوشش کرتا ھے بلکل ایسے ھی پورا چاند مجھے بھی بے قرار کر دیتا ہے۔
میں نے اپنا بیگ اٹھایا،اور گھر سے باہر کی طرف لپکتےہوئے رسمی انداز میں کہا: امی میں شاپنگ کے لئے جا رہی ہوں۔۔
ہما رات کے دس ب۔۔بج۔۔ج۔۔رہے۔۔ے۔۔۔۔
امی کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی میں گھر سے باہرتھی۔

 اسٹریٹ لائٹس سے محروم ہماری گلی میں چاندنی ہر سوپھیلی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے جوتے سے پاؤں نکال کر جیسے ہی زمین پر رکھا تو چاندنی کی ٹھنڈک میرے پورے وجود میں سرائیت کر گئی اور عجیب سا خمار میری آنکھوں میں اتر ایا۔

 نیلا گنبد کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرتے ہوئے کسی نے میری گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری اور بس۔۔۔۔
اس کے بعد نہ میرے پاس میرا بیگ رہا، نہ موبائل، نہ دوسرا قیمتی سامان۔۔۔
رات گئے جب میں انار کلی سےاپنا مال و زر لٹوا کے،خالی ہاتھ گھر لوٹی اور اپنے بستر پہ آ کے لیٹی اور اپنے ساتھ ہونے والے سانحہ کا سوچا،پھر اس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی تو یکایک میرے ذہن میں ایک جھماکے سے سب واضح ہوگیا اور اس واقعہ سے جو اسباق میں نے حاصل کئے وہ آپ سے بیان کرنے جا رہی ہوں۔

 سب سے بڑی تبدیلی جو اس کے بعد میری سوچ میں آئی وہ یہ کہ عورت کو عورت ہی رہنا چاہیئے، مرد بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اپنی نقل و حمل کو کم سے کم رکھنا چاہیئے، ضرورت سے زیادہ باہر نہیں نکلنا چاہئے۔ عورت کی زندگی میں ایک ذمہ دار مرد کا ہونا ضروری ہے۔
میرے جیسی۔۔ ورکنگ ویمن!! 
لڑکیوں کا سب سےبڑا المیہ یہ ہوتا ھے کہ ہمارے دماغمیں خودمختاری اور نام نہاد آزادی کا ایک خناس بھر جاتا ھے۔
میں خود مختار ہوں!!
کس معاملے میں۔۔؟
 کیا میں معاشرے کے رسم و رواج سے ہٹ کر اپنے کپڑےپہنے میں خود مختار ہوں؟ کیا میں بلا روک ٹوک اپنی مرضی سے زندگی گزارنے یا پھر کم از کم اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوں؟
نہیں!!
میں خود مختار ہوں اس لئے میں کسی بھی وقت، کسی کےبھی ساتھ، کسی بھی جگہ چلی جاؤں، بنا کسی سے اجازت لئے، بنا کسی کو بتائے۔
میں خود مختار ہوں اس لیے اب کسی بھی انسان کو میری زندگی میں دخل دینے کا اختیار نہیں ہے۔

میری زندگی۔۔ میرا جسم۔۔ میری مرضی۔۔

میں آزاد ہوں؟؟
کس سے؟؟
کیا میں اپنے خاندان سے آزاد ہوں؟
کیا میں معاشرے سے آزاد ہو ں؟
کیا میں مذہب سے آزاد ہوں؟
یعنی میں آزاد ہوں کہ اپنے اوپر معاشرتی، مذہبی اورخاندانی پابندیاں قبول کروں یا نہ کروں۔

نہیں ایسا نہیں ہے۔
میں نے غلط سمجھ لیا تھا۔
کیونکہ خود ھی سمجھا تھا نا، کسی نے بتایا ھی نہیں،سمجھایا ھی نہیں کہ۔۔ کہ اپنا روزگار خود کمانے سے انسان خود مختار نہیں بس خود کفیل بنتاہے، چاہے وہ عورت ہو یا مرد۔
کسی بھی انسان کو خود کفالت کی وجہ سے مادر پدر آزادی نہیں مل جاتی۔

تہذیب اسی کا نام ہے کہ انسان ان اقدار کا پالن کرے جو اس کا خاندان، معاشرہ اور مذہب اس پر عائد کرے۔ ان تمام رسم ورواج کی پاسداری کے بعد ہی وہ ایک باکرداربا حیا اور باوقار شخص کے طور پر معاشرے کے لیے قابل قبول ہو گا۔
آج مجھے اپنے استاد گرامی قدر کی کہی وہ بات بھی سمجھآگئی جو انہوں نے ابوفروہ گروپ پہ کسی کے اس سوال کے جواب میں کہی تھی: سر میں اتنے عرصے سے دعائیں کر رہی ہوں پر میری شادی نہیں ہو رہی، سر ﷲ تعالیٰ میری دعائیں کیوں نہیں سنتا؟
تب استاد محترم نے جواب دیا تھا کہ "جیسےکسی بھی پوسٹ کو حاصل کرنے کے لیے پہلےاپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنا پڑتا ہے نا بلکل اسی طرح اہلیہ بننے کے لئے بھی پہلےاپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنا پڑتا ہے۔"

ہاں! مجھے سمجھ آگئی ہے کہ مجھے پسند ہو یا نہ ہو لیکن جب میرے رب نے فیصلہ دے دیا کہ بیوی پر اس کاشوہر حاکم ہو گا، تو مجھے اپنے اندر محکومیت کا ظرف پیدا کرنا پڑے گا اور اگر عورت اپنے اندر یہ ظرف پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے تو پھر وہ دو شادیاں کرنے کے باوجود بھی ریحام خان کی طرح تنہا کھڑی نظر آئےگی۔
مجھے اپنے اوپر ایک حاکم مرد کی اشد ضرورت ہے۔ جب میں اپنی یہ ضرورت اپنے رب کے سامنے پیش کروں گی تب ہی تو وہ میری ضرورت پوری کرے گا۔
کیونکہ ﷲ نے ضرورتیں پوری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔خواہشات نہیں!!

اور آج مجھے ﷲ سے دعائیں مانگنے کا سلیقہ بھی آ گیا۔
میں اگر اپنی خواہشات کو پورا کرانا چاہتی ہوں توپھر ان تمام خواہشوں کو اپنے قول، فعل،اور رویے سے اپنی ضرورت ثابت کرتے ہوئے اپنےرب سے بھیک مانگنا ہو گی۔
شکریہ استاد جی! آج مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی۔ میں اپنے رب کی مشکور و ممنون ہوں جس نے اس واقعے کو میرے لئے باعث رحمت بنا دیا، میری زندگی کی کتنی زحمتیں دور ہو گئیں اور میری عقل ٹھکانے پر آ گئی۔

آپ کا ردعمل؟

پوسٹ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔


فیس بک کمنٹس